🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب مناقب خالد بن الوليد رضي الله عنه:
باب: خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3757
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا , وَجَعْفَرًا , وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ".
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم کو زید (رضی اللہ عنہ) لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کر دیئے گئے، اب جعفر (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، اب ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن هلال العدوي، أبو نصر
Newحميد بن هلال العدوي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← حميد بن هلال العدوي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبد الملك الحراني، أبو يحيى، أبو سعيد
Newأحمد بن عبد الملك الحراني ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3063
أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذها جعفر فأصيب ثم أخذها عبد الله بن رواحة فأصيب ثم أخذها خالد بن الوليد عن غير إمرة ففتح عليه وما يسرني وقال وإن عينيه لتذرفان
صحيح البخاري
3757
أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذ جعفر فأصيب ثم أخذ ابن رواحة فأصيب وعيناه تذرفان حتى أخذ سيف من سيوف الله حتى فتح الله عليهم
صحيح البخاري
2798
أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذها جعفر فأصيب ثم أخذها عبد الله بن رواحة فأصيب ثم أخذها خالد بن الوليد عن غير إمرة ففتح له وقال ما يسرنا أنهم عندنا وعيناه تذرفان
صحيح البخاري
1246
أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذها جعفر فأصيب ثم أخذها عبد الله بن رواحة فأصيب وإن عيني رسول الله لتذرفان ثم أخذها خالد بن الوليد من غير إمرة ففتح له
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3757 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3757
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو اللہ کی تلوار قراردیا۔
واقعی یہ اللہ کی تلوار ہی تھے،جہاں بھی گئے وہاں فتح ونصرت نے ان کے قدم چومے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی:
اے اللہ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما۔
(مسند احمد: 8/1)

حدیث میں مذکورہ واقعہ غزوہ موتہ کا ہے۔
(طبقات ابن سعد: 395/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3757]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1246
1246. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جنگ موتہ میں) پہلے حضرت زید ؓ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ شہید ہوگئے۔ پھرحضرت جعفر ؓ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ آخر میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے جھنڈا اٹھایا تو وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ پھر حضرت خالد بن ولید ؓ نے سالاری کے بغیر ہی جھنڈا اٹھایا تو ان کے ہاتھوں فتح ہوئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1246]
حدیث حاشیہ:
یہ غزوہ موتہ کا واقعہ ہے جو 8ھ میں ملک شام کے پاس بلقان کی سر زمین پر ہوا تھا۔
مسلمان تین ہزار تھے اور کافر بے شمار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو امیر لشکر بنایا تھا اور فرما دیا تھا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو ان کی جگہ حضرت جعفر ؓ قیادت کریں اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ۔
یہ تینوں سردارشہید ہوئے۔
پھر حضرت خالد بن ولید ؓ نے (از خود)
کمان سنبھالی اور (اللہ نے ان کے ہاتھ پر)
کافروں کو شکست فاش دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے لوٹنے سے پہلے ہی سب خبریں لوگوں کو سنا دیں۔
اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی معجزات بھی مذکور ہوئے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1246]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2798
2798. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: (غزوہ موتہ میں) جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کردیے گئے۔ پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کردیے گئے پھر عبداللہ بن رواحہ نے پکڑا تو وہ بھی شہید کردیے گئے۔ اسکے بعد کسی ہدایت کا انتظار کیے بغیر خالد بن ولید نے جھڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا تو ان کے ہاتھ پر (اسلامی لشکر کو) فتح ہوئی۔ آپ نے مزید فرمایا: ہمیں اب خوشی نہیں ہے کہ وہ شہداء ہمارے پاس زندہ رہتے۔ (راوی حدیث) ایوب نے کہا یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں اب اس امر میں کوئی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے۔ اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2798]
حدیث حاشیہ:
ہوا یہ تھا کہ ۸ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ موتہ کے لئے ایک لشکر روانہ کیا۔
زید بن حارثہ ؓ کو اس کا سردار مقرر کیا‘ فرمایا اگر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر ؓ کو سردار بنانا‘ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ؓ کو۔
اتفاق سے یکے بعد دیگرے یہ تینوں سردار شہید ہوگئے اور خالد بن ولید ؓ نے آخر میں افسری جھنڈا اٹھا لیا تاکہ مسلمان ہمت نہ ہاریں کیونکہ لڑائی سخت ہو رہی تھی۔
گو ان کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا تھا۔
آپؐ کافروں سے یہاں تک لڑے کہ اللہ نے آپ کے ذریعہ اسلام کے لشکر کو فتح نصیب فرمائی۔
دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے خوش ہو کر خالد کے حق میں فرمایا کہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔
مزید تفصیلات جنگ موتہ کے ذکر میں آئیں گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2798]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1246
1246. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جنگ موتہ میں) پہلے حضرت زید ؓ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ شہید ہوگئے۔ پھرحضرت جعفر ؓ نے جھنڈا اٹھایا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ آخر میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے جھنڈا اٹھایا تو وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ پھر حضرت خالد بن ولید ؓ نے سالاری کے بغیر ہی جھنڈا اٹھایا تو ان کے ہاتھوں فتح ہوئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1246]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں نعي سے منع کیا گیا ہے جس سے مراد موت کی اطلاع دینا یا اعلان کرنا ہے۔
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت کے لیے اعلان کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
(مسند أحمد: 406/5)
حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا تھا کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو اطلاع نہ دی جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے نعي کا اندیشہ ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
(جامع الترمذي، الجنائز، حدیث: 986)
لیکن شریعت نے جس نعي سے منع فرمایا ہے وہ اہل جاہلیت کی نعي تھی جس میں لوگ موت کی اطلاع دینے والوں کو بھیجتے جو گھروں کے دروازوں اور بازاروں میں اعلان کرتے جس میں نوحہ اور میت کے افعال حمیدہ کا بیان ہوتا۔
امام بخاری ؒ جس اطلاع وغیرہ کا جواز ثابت کر رہے ہیں اس کا جاہلیت کی نعي سے کوئی تعلق نہیں۔
(2)
متعدد احادیث سے موت کے اعلان کے متعلق تین حالتیں اخذ کی جا سکتی ہیں:
٭ گھر والوں، ساتھیوں، عزیز و اقارب اور اہل صلاح کو اطلاع دینا سنت ہے۔
٭ تکبر و ریاء اور فخر کے لیے بڑی جماعت کو اطلاع دینا ناپسندیدہ عمل ہے۔
٭ ایسی اطلاع جس میں نوحہ یا اس کی مثل کوئی کام ہو حرام اور خلاف شریعت ہے۔
نوحے سے مراد یہ ہے کہ مرنے والے کے اوصاف و شمائل کو گن گن کر بآواز بلند بیان کرنا، رونا، پیٹنا اور عمدہ کارناموں کو یاد کر کے چیخ پکار کرنا۔
(3)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ میت کے عزیز و اقارب کو موت کی خبر دینا منع نہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کی شہادت کے متعلق ان کے اہل خانہ اور دینی تعلق داروں کو مطلع کیا تھا۔
(فتح الباري: 151/3) (4)
حضرت خالد بن ولید ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوج کی کمان کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اس کے باوجود انہوں نے فوج کی کمان کو سنبھالا اور کافروں کی شکست فاش سے دوچار کیا۔
سنگین حالات کے پیش نظر ایسا کرنا جائز ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1246]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2798
2798. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: (غزوہ موتہ میں) جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کردیے گئے۔ پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کردیے گئے پھر عبداللہ بن رواحہ نے پکڑا تو وہ بھی شہید کردیے گئے۔ اسکے بعد کسی ہدایت کا انتظار کیے بغیر خالد بن ولید نے جھڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا تو ان کے ہاتھ پر (اسلامی لشکر کو) فتح ہوئی۔ آپ نے مزید فرمایا: ہمیں اب خوشی نہیں ہے کہ وہ شہداء ہمارے پاس زندہ رہتے۔ (راوی حدیث) ایوب نے کہا یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں اب اس امر میں کوئی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے۔ اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2798]
حدیث حاشیہ:

جب شہداء نے شہادت کے باعث اللہ کے ہاں کرامت وعظمت کو دیکھاتو انھیں یہ پسند نہ تھا کہ وہ دنیا میں واپس آئیں۔
اس حدیث میں نبوت کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حضرات کے متعلق شہادت کی خبر دی جبکہ آپ اس وقت مدینہ طیبہ میں تشریف فرماتھے۔

حضرت خالد بن ولید ؓ نے جب دیکھا کہ یہ حضرات شہید ہوگئے ہیں تو انھوں نے خیال کیا کہ اگر مسلمان اسی حال میں رہے تو ہلاک ہوجائیں گے اور قوت اسلام کو زبردست دھچکا لگے گا تو انہوں نے خود بخود افسری جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا تاکہ مسلمان ہمت نہ ہاریں،پھر زبردست حملہ کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح سے ہمکنار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس فعل سے راضی ہوگئے،حالانکہ آپ نے انھیں امیر نامزد نہیں کیا تھا اور نہ لشکر میں سے کسی نے ان کی بیعت ہی کی تھی۔

اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت شرعی احکام کی شرائط میں نرمی کی جاسکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2798]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3063
3063. حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جھنڈا حضرت زید بن حارثہ ٍؓنے پکڑا اور انھیں شہید کر دیا گیا۔ پھر اس جھنڈے کو حضرت جعفر ؓنے اپنے ہاتھ میں لیا تو وہ بھی شہید ہو گئے۔ اب اسے حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓنے تھام لیا ہے اور وہ بھی جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ آخر میں حضرت خالد بن ولید ؓنے کسی نئی ہدایت کے بغیر علم اٹھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح و کامرانی سے ہمکنار کیا ہے۔ میرے لیے یا ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں کہ وہ ہمارے پاس زندہ ہوتے (کیونکہ شہادت کے بعدوہ جنت میں عیش کررہے ہیں۔)۔ راوی حدیث (حضرت انس ؓ) بیان کرتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3063]
حدیث حاشیہ:

یہ غزوہ موتہ کا واقعہ ہے جو جمادی الاولیٰ8 ہجری میں ہوا۔
اسلام پر اگر ایسا نازک وقت آجائے کہ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل رہا ہو اور مسلم قیادت بھی ختم ہو رہی ہو تو کوئی صاحب بصیرت اور جنگی اسرار و رموز سے واقف آدمی فوری طور پر کمان ہاتھ میں لے لے تو یہ جائز ہے جیسا کہ جنگ موتہ میں تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد حجرت خالدبن ولید ؓنے خود بخود جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا جبکہ گھمسان کی جنگ جاری تھی اور مسلمانوں کا دشمن سے سخت مقابلہ جاری تھا اگر ایسے حالات میں کوئی بھی جھنڈا نہ اٹھاتا تو دشمن غالب آجاتا اور مسلمانوں کی طاقت کو ایسا ناقابل تلافی دھچکا لگتا جو کسی صورت میں اچھا نہ تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی نہ صرف تصویب فرمائی بلکہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو اللہ تعالیٰ کی تلوار قراردیا اور صحابہ کرام ؓ کو ان کے ہاتھوں فتح کی نوید سنائی۔
اس سے اسلام کا نظام امارت مجروح نہیں ہو تا بلکہ اس کے جامع اور وسعت پذیر ہونے کی دلیل ہے کہ ایسے سنگین اور ہنگامی حالات میں ایک عمدہ اور قابل قبول حل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3063]