صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ إِسْلاَمِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 3863
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ".
مجھ سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، انہیں قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد ہم لوگ ہمیشہ عزت سے رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3863]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، اس وقت سے ہم لوگ باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہوئے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3863]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3864
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي جَدِّي زَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" بَيْنَمَا هُوَ فِي الدَّارِ خَائِفًا إِذْ جَاءَهُ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ أَبُو عَمْرٍو عَلَيْهِ حُلَّةُ حِبَرَةٍ , وَقَمِيصٌ مَكْفُوفٌ بِحَرِيرٍ وَهُوَ مِنْ بَنِي سَهْمٍ وَهُمْ حُلَفَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ: مَا بَالُكَ؟ قَالَ: زَعَمَ قَوْمُكَ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُونِي إِنْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَمِنْتُ فَخَرَجَ الْعَاصِ فَلَقِيَ النَّاسَ قَدْ سَالَ بِهِمْ الْوَادِي، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ فَقَالُوا: نُرِيدُ هَذَا ابْنَ الْخَطَّابِ الَّذِي صَبَا، قَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْهِ , فَكَرَّ النَّاسُ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے دادا زید بن عبداللہ بن عمرو نے خبر دی، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے کے بعد قریش سے) ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ عاص نے کہا ”تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“ جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہو گیا ہے۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3864]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں خوفزدہ تھے۔ اچانک ان کے پاس ابو عمرو عاص بن وائل سہمی آیا جو ایک دھاری دار خوبصورت چادر اور ریشمی کرتا پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ اس نے کہا: ”تمہارا کیا حال ہے؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہاری قوم کہتی ہے کہ اگر میں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ عاص نے کہا: ”تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ عاص کی اس بات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں امان میں آ گیا ہوں۔ عاص باہر نکلا اور لوگوں سے ملا جبکہ مکہ کا میدان لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ عاص نے ان سے کہا: ”تم کہاں جا رہے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”ہم ابن خطاب کی خبر لینے جا رہے ہیں جو بے دین ہو چکا ہے۔“ عاص نے کہا: ”اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ یہ سن کر لوگ واپس چلے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3865
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: سَمِعْتُهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ، وَقَالُوا: صَبَا عُمَرُ وَأَنَا غُلَامٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي , فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ، فَقَالَ: قَدْ صَبَا عُمَرُ فَمَا ذَاكَ فَأَنَا لَهُ جَارٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا عَنْهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیسا ہے؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3865]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ ”عمر بے دین ہو گیا ہے۔“ میں ان دنوں بچہ تھا اور اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک آدمی آیا جس نے ریشمی قبا پہن رکھی تھی۔ اس نے کہا: ”عمر اپنے دین سے پھر گیا ہے تو کیا ہوا! میں اسے پناہ دیتا ہوں۔“”ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر لوگ منتشر ہو گئے۔ میں نے پوچھا: ”یہ صاحب کون تھے؟“ تو لوگوں نے کہا: ”یہ عاص بن وائل ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3865]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3866
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ , أَنَّ سَالِمًا حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ عُمَرَ لِشَيْءٍ قَطُّ يَقُولُ:" إِنِّي لَأَظُنُّهُ كَذَا إِلَّا كَانَ كَمَا يَظُنُّ بَيْنَمَا عُمَرُ جَالِسٌ إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ جَمِيلٌ، فَقَالَ: لَقَدْ أَخْطَأَ ظَنِّي , أَوْ إِنَّ هَذَا عَلَى دِينِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , أَوْ لَقَدْ كَانَ كَاهِنَهُمْ عَلَيَّ الرَّجُلَ فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ اسْتُقْبِلَ بِهِ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، قَالَ: فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا أَخْبَرْتَنِي، قَالَ: كُنْتُ كَاهِنَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: فَمَا أَعْجَبُ مَا جَاءَتْكَ بِهِ جِنِّيَّتُكَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا فِي السُّوقِ جَاءَتْنِي أَعْرِفُ فِيهَا الْفَزَعَ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَرَ الْجِنَّ وَإِبْلَاسَهَا وَيَأْسَهَا مِنْ بَعْدِ إِنْكَاسِهَا وَلُحُوقَهَا بِالْقِلَاصِ وَأَحْلَاسِهَا، قَالَ عُمَرُ: صَدَقَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ عِنْدَ آلِهَتِهِمْ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِعِجْلٍ , فَذَبَحَهُ فَصَرَخَ بِهِ صَارِخٌ لَمْ أَسْمَعْ صَارِخًا قَطُّ أَشَدَّ صَوْتًا مِنْهُ، يَقُولُ: يَا جَلِيحْ أَمْرٌ نَجِيحْ رَجُلٌ فَصِيحْ، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَوَثَبَ الْقَوْمُ، قُلْتُ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَعْلَمَ مَا وَرَاءَ هَذَا , ثُمَّ نَادَى يَا جَلِيحْ أَمْرٌ نَجِيحْ رَجُلٌ فَصِيحْ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَقُمْتُ فَمَا نَشِبْنَا أَنْ قِيلَ: هَذَا نَبِيٌّ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن محمد بن زید نے بیان کیا، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب بھی عمر رضی اللہ عنہ نے کسی چیز کے متعلق کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس طرح ہے تو وہ اسی طرح ہوئی جیسا وہ اس کے متعلق اپنا خیال ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت شخص وہاں سے گزرا۔ انہوں نے کہا یا تو میرا گمان غلط ہے یا یہ شخص اپنے جاہلیت کے دین پر اب بھی قائم ہے یا یہ زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہے۔ اس شخص کو میرے پاس بلاؤ۔ وہ شخص بلایا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے بھی یہی بات دہرائی۔ اس پر اس نے کہا میں نے تو آج کے دن کا سا معاملہ کبھی نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میں تمہارے لیے ضروری قرار دیتا ہوں کہ تم مجھے اس سلسلے میں بتاؤ۔ اس نے اقرار کیا کہ زمانہ جاہلیت میں، میں اپنی قوم کا کاہن تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا غیب کی جو خبریں تمہاری جنیہ تمہارے پاس لاتی تھی، اس کی سب سے حیرت انگیز کوئی بات سناؤ؟ شخص مذکور نے کہا کہ ایک دن میں بازار میں تھا کہ جنیہ میرے پاس آئی۔ میں نے دیکھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے، پھر اس نے کہا جنوں کے متعلق تمہیں معلوم نہیں۔ جب سے انہیں آسمانی خبروں سے روک دیا گیا ہے وہ کس درجہ ڈرے ہوئے ہیں، مایوس ہو رہے ہیں اور اونٹنیوں کے پالان کی کملیوں سے مل گئے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ ایک مرتبہ میں بھی ان دنوں بتوں کے قریب سویا ہوا تھا۔ ایک شخص ایک بچھڑا لایا اور اس نے بت پر اسے ذبح کر دیا اس کے اندر سے اس قدر زور کی آواز نکلی کہ میں نے ایسی شدید چیخ کبھی نہیں سنی تھی۔ اس نے کہا: اے دشمن! ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد مل جائے ایک فصیح خوش بیان شخص یوں کہتا ہے لا الہٰ الا اللہ یہ سنتے ہی تمام لوگ (جو وہاں موجود تھے) چونک پڑے (چل دئیے) میں نے کہا میں تو نہیں جانے کا، دیکھو اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ پھر یہی آواز آئی ارے دشمن تجھ کو ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد بر آئے ایک فصیح شخص یوں کہہ رہا ہے لا الہٰ الا اللہ۔ اس وقت میں کھڑا ہوا اور ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے) نبی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3866]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی چیز کے متعلق فرمایا: ”میرے خیال کے مطابق یہ اس طرح ہے“ وہ اسی طرح ہوئی جیسا کہ وہ اس کے متعلق اظہار خیال کرتے تھے، چنانچہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت شخص وہاں سے گزرا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ شخص اپنے دینِ جاہلیت پر ہے یا زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہے یا پھر میرا گمان غلط ہے۔ اس شخص کو میرے پاس لاؤ!“ اسے بلایا گیا تو آپ نے اس کے سامنے اپنی بات دہرائی۔ اس نے کہا: ”میں نے تو آج کے دن جیسا معاملہ کبھی نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے ضروری قرار دیتا ہوں کہ مجھے صحیح صورتِ حال سے آگاہ کرو۔“ اس نے اقرار کیا: ”میں زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن تھا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تیرے پاس تیرے جنات جو خبریں لاتے تھے ان میں سے حیران کن اور عجیب تر خبر سناؤ۔“ اس شخص نے کہا: ”میں ایک دن بازار میں تھا کہ ایک جِنی میرے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور اس نے کہا: کیا آپ نے جنوں کو ان کی حیرانی اور ان کے سرنگوں ہونے کے بعد ان کی مایوسی کو نہیں دیکھا کہ وہ اپنی اونٹنیوں اور ان کے ٹاٹوں کے ساتھ چمٹ گئے ہیں؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ میں بھی مشرکین کے بتوں کے پاس سو رہا تھا کہ ایک آدمی بچھڑا لے کر آیا اور اس نے اسے ذبح کیا۔ اس کے اندر سے اس قدر زور دار چیخ برآمد ہوئی کہ میں نے اس سے زیادہ سخت چیخ کبھی نہ سنی تھی۔ اس نے کہا: اے دشمن! میں تجھے ایک بات بتاتا ہوں جس سے مراد مل جائے۔ ایک فصیح اور خوش بیان شخص یہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“۔ یہ سنتے ہی وہاں تمام لوگ چونک پڑے اور اچھل کر دوڑنے لگے۔ میں نے کہا: میں تو اسی جگہ رہوں گا تاکہ اس کے پس پردہ کچھ معلوم کروں۔ پھر اس نے آواز دی: اے دشمن! معاملہ واضح ہے۔ آدمی خوش بیان ہے جو کہتا ہے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“۔ پھر میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ہم زیادہ عرصہ نہیں ٹھہرے تھے کہ کہا گیا: یہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3866]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3867
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ لِلْقَوْمِ:" لَوْ رَأَيْتُنِي مُوثِقِي عُمَرُ عَلَى الْإِسْلَامِ أَنَا وَأُخْتُهُ وَمَا أَسْلَمَ وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا انْقَضَّ لِمَا صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ لَكَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَنْقَضَّ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے، کہا کہ میں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ایک وقت تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو مجھے اور اپنی بہن کو اس لیے باندھ رکھا تھا کہ ہم اسلام کیوں لائے اور آج تم نے جو کچھ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ برتاؤ کیا ہے اگر اس پر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3867]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے میں نے خود کو اور ان کی ہمشیرہ کو دیکھا کہ وہ ہمیں اسلام لانے کی پاداش میں باندھے ہوئے تھے اور جو کچھ تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ برتاؤ کیا ہے، اگر احد پہاڑ اس کے باعث ریزہ ریزہ ہو جائے تو وہ اسی کے لائق ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3867]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة