🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ}:
باب: جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایمانداروں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4051
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا سورة آل عمران آية 122 بَنِي سَلِمَةَ , وَبَنِي حَارِثَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ وَاللَّهُ يَقُولُ: وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی «إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا‏» (آل عمران: 122) یعنی بنی حارثہ اور بنی سلمہ کے بارے میں۔ میری خواہش نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی، جب کہ اللہ آگے فرما رہا ہے «والله وليهما‏» اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4051]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ ہمارے متعلق نازل ہوئی: ﴿إِذْ هَمَّتْ طَّائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا﴾ [سورة آل عمران: 122] جب دو گروہوں نے بزدلی دکھانے کا ارادہ کیا۔ یعنی ہمارے دو قبیلوں بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اب میرے لیے اس آیت کا اترنا گرانی کا باعث نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرماتا ہے: ﴿وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا﴾ [سورة آل عمران: 122] اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4051]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4052
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , أَخْبَرَنَا عَمْرٌو , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" مَاذَا أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا" , قُلْتُ: لَا بَلْ ثَيِّبًا , قَالَ:" فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ كُنَّ لِي تِسْعَ أَخَوَاتٍ , فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ , وَلَكِنْ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ , قَالَ:" أَصَبْتَ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا جابر! کیا نکاح کر لیا؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کیا؟ جو تمہارے ساتھ کھیلا کرتی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے۔ نو لڑکیاں چھوڑیں۔ پس میری نو بہنیں موجود ہیں۔ اسی لیے میں نے مناسب نہیں خیال کیا کہ انہیں جیسی نا تجربہ کار لڑکی ان کے پاس لا کر بٹھا دوں، بلکہ ایک ایسی عورت لاؤں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی صفائی و ستھرائی کا خیال رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4052]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کنواری سے کیوں نہ کی تاکہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد گرامی غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے نو لڑکیاں چھوڑ گئے ہیں، وہ میری نو بہنیں ہیں۔ مجھے یہ پسند نہیں تھا کہ میں ان کے پاس ان جیسی ہی کوئی ناتجربہ کار لڑکی لے آؤں، لہٰذا میں نے شادی کے لیے ایک ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے جو ان کی کنگھی پٹی کرے گی اور ان کی نگہداشت کا فریضہ بھی ادا کرتی رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4052]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4053
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ فِرَاسٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنَّ أَبَاهُ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا , وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ , فَلَمَّا حَضَرَ جِزَازُ النَّخْلِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ , فَقَالَ:" اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ" , فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ , فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ , فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" ادْعُ لِي أَصْحَابَكَ" , فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ , وَأَنَا أَرْضَى أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَلَا أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ , فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا وَحَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً.
ہم سے احمد بن ابی شریح نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ان کے والد (عبداللہ رضی اللہ عنہ) احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور قرض چھوڑ گئے تھے اور چھ لڑکیاں بھی۔ جب درختوں سے کھجور اتارے جانے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میرے والد صاحب احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں (اور کچھ نرمی برتیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور ہر قسم کی کھجور کا الگ الگ ڈھیر لگا لو۔ میں نے حکم کے مطابق عمل کیا اور پھر آپ کو بلانے گیا۔ جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو جیسے اس وقت مجھ پر اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ (کیونکہ وہ یہودی تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا یہ طرز عمل دیکھا تو آپ پہلے سب سے بڑے ڈھیر کے چاروں طرف تین مرتبہ گھومے۔ اس کے بعد اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر انہیں ناپ کے دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی طرف سے ان کی ساری امانت ادا کر دی۔ میں اس پر خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کی امانت ادا کرا دے اور میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ لے جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام دوسرے ڈھیر بچا دیئے بلکہ اس ڈھیر کو بھی جب دیکھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ جیسے اس میں سے ایک کھجور کا دانہ بھی کم نہیں ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4053]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد گرامی غزوہ احد میں شہید ہو گئے اور اپنے اوپر بہت سا قرض اور چھ بیٹیاں چھوڑ گئے تھے۔ جب کھجوریں اتارنے کا موسم آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد احد میں شہید ہو گئے ہیں اور بہت سا قرض چھوڑ گئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں اور کچھ رعایت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر کھجوروں کی الگ الگ ڈھیریاں لگاؤ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق عمل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے گیا۔ جب قرض خواہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس وقت میرے خلاف اور زیادہ مشتعل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا طرز عمل دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین چکر لگائے پھر اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل انہیں ناپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے باپ کی طرف سے ان کا قرض ادا کر دیا۔ میں اس بات پر ہی خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد گرامی کا قرض پورے طور پر ادا کر دے اور میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ لے جاؤں، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام دوسرے ڈھیر محفوظ رکھے حتیٰ کہ میں اس ڈھیر کو بھی دیکھ رہا تھا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز تھے، گویا اس میں سے کھجور کا ایک دانہ بھی کم نہ ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4053]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4054
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَمَعَهُ رَجُلَانِ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ , مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے، ان کے دادا سے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، غزوہ احد کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ دو اور اصحاب (یعنی جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام انسانی صورت میں) آئے ہوئے تھے۔ وہ آپ کو اپنی حفاظت میں لے کر کفار سے بڑی سختی سے لڑ رہے تھے۔ ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے۔ میں نے انہیں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4054]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے ہمراہ دو آدمی ہیں جو آپ کی طرف سے لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں، انہوں نے سفید لباس زیب تن کر رکھا تھا، میں نے انہیں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4054]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4055
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ السَّعْدِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , يَقُولُ: نَثَلَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِنَانَتَهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ:" ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم سعدی نے بیان کیا، کہا میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش کے تیر مجھے نکال کر دیئے اور فرمایا کہ خوب تیر برسائے جا۔ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4055]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی جنگ میں میرے لیے اپنے ترکش سے تمام تیر نکال کر رکھ دیے اور فرمایا: ان پر تیروں کی بارش کرو، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4055]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4056
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا , يَقُولُ:" جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری ہمت افزائی کے لیے) اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4056]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ اُحد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا (کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4056]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4057
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ كِلَيْهِمَا , يُرِيدُ حِينَ قَالَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَهُوَ يُقَاتِلُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، ان سے ابن المسیب نے، انہوں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر (میری ہمت بڑھانے کے لیے) اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا۔ ان کی مراد آپ کے اس ارشاد سے تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب وہ جنگ کر رہے تھے کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4057]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی لڑائی میں میرے لیے اپنے والدین کو جمع فرمایا۔ مقصد یہ ہے کہ جب وہ جنگ کر رہے تھے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4057]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4058
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ سَعْدٍ , عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ:" مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدٍ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے سعد نے، ان سے ابن شداد نے بیان کیا، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ سعد رضی اللہ عنہ کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ اس کے لیے دعا میں ماں باپ دونوں کو بایں طور جمع کر رہے ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4058]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4058]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4059
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ , يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ:" يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
ہم سے بسرہ بن صفوان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن مالک کے سوا میں نے اور کسی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کرتے نہیں سنا، میں نے خود سنا کہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ سعد! خوب تیر برساؤ۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4059]
حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے متعلق یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو جمع کیا ہو۔ میں نے اُحد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے سعد! خوب تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4059]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4060
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ مُعْتَمِرٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: زَعَمَ أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي يُقَاتِلُ فِيهِنَّ , غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ابوعثمان بیان کرتے تھے کہ ان غزوات میں سے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے قتال کیا۔ بعض غزوہ (احد) میں ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طلحہ اور سعد کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ ابوعثمان نے یہ بات طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما سے روایت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4060]
حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جن (بعض) ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے لڑائی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ نے یہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے سن کر بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں