بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب قضاء الحاجة
قضائے حاجت کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 77
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا دخل الخلاء وضع خاتمه. أخرجه الأربعة. وهو معلول.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو انگشتری (اپنی انگوٹھی اپنے دست مبارک سے) اتار کر الگ رکھ دیتے تھے۔
اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور یہ روایت معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 77]
اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور یہ روایت معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الخاتم يكون فيه ذكر الله تعالي يدخل به الخلاء، حديث:19، وقال: "هذا حديث منكر"، والترمذي، اللباس، حديث: 1746، والنسائي، الزينة، حديث: 5216، وابن ماجه، الطهارة، حديث:303، ابن جريج مدلس وعنعن.»
حدیث نمبر: 78
وعنه رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم إذا دخل الخلاء قال: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» . أخرجه السبعة.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے بیت الخلاء میں داخلہ کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» اے اللہ! میں آپ کی پناہ پکڑتا ہوں، خبیث جنوں اور خبیث جنیوں سے۔
اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 78]
اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب مايقول عند الخلاء، حديث:142، ومسلم، الحيض، باب ما يقول إذا أراد دخول الخلاء، حديث:375، وأبوداود، الطهارة، حديث:4، 5، والترمذي، الطهارة، حديث:5، 6، والنسائي، الطهارة، حديث:19، وابن ماجه، الطهارة، حديث:296، وأحمد:3 /99.»
حدیث نمبر: 79
وعنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يدخل الخلاء، فأحمل أنا وغلام نحوي إداوة من ماء، وعنزة فيستنجي بالماء. متفق عليه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور ایک اور میرا ہم عمر لڑکا پانی کا ایک برتن اور ایک چھوٹا سا نیزہ لے کر ہمراہ جاتے۔ اس پانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استنجاء فرمایا کرتے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب حمل العنزة مع الماء في الاستنجاء، حديث:152، ومسلم، الطهارة، باب الاستنجاء بالماء من التبرز، حديث:271.»
حدیث نمبر: 80
وعن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «خذ الإداوة» ، فانطلق حتى توارى عني فقضى حاجته. متفق عليه.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ”پانی کا برتن (ساتھ) لے چلو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لئے (اتنی دور) تشریف لے گئے کہ میری نظر سے اوجھل ہو گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب الصلاة في الجبة الشامية، حديث: 363، ومسلم، الطهارة، باب المسح علي الخفين، حديث:274.»
حدیث نمبر: 81
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «اتقوا اللعانين: الذي يتخلى في طريق الناس، أو في ظلهم» . رواه مسلم. وزاد أبو داود عن معاذ رضي الله عنه: «والموارد» ولفظه: «اتقوا الملاعن الثلاثة: البراز في الموارد، وقارعة الطريق والظل» . ولأحمد عن ابن عباس رضي الله عنهما: «أو نقع ماء» . وفيهما ضعف. وأخرج الطبراني النهي عن قضاء الحاجة تحت الأشجار المثمرة وضفة النهر الجاري، من حديث ابن عمر بسند ضعيف.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو لعنت کا سبب بننے والی جگہوں سے اجتناب کرو، ایک لوگوں کے راستہ میں۔ دوسرا (ان کے بیٹھنے آرام کرنے کی) سایہ دار جگہ میں قضائے حاجت کرنے سے۔“ (مسلم)
اور ابوداؤد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جو روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ ”لعنت کے تین اسباب سے اجتناب کرو، گھاٹوں پر، شاہراہ عام پر اور سایہ کے نیچے رفع حاجت کرنے سے۔“
اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے“ جہاں پانی جمع ہوتا ہو وہاں بھی رفع حاجت سے بچنا چاہیئے۔“ یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔
اور طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ“ پھل دار و سایہ دار درخت کے نیچے اور جاری و ساری نہر کے کنارے پر قضائے حاجت نہ کرے۔“ اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 81]
اور ابوداؤد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جو روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ ”لعنت کے تین اسباب سے اجتناب کرو، گھاٹوں پر، شاہراہ عام پر اور سایہ کے نیچے رفع حاجت کرنے سے۔“
اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے“ جہاں پانی جمع ہوتا ہو وہاں بھی رفع حاجت سے بچنا چاہیئے۔“ یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔
اور طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ“ پھل دار و سایہ دار درخت کے نیچے اور جاری و ساری نہر کے کنارے پر قضائے حاجت نہ کرے۔“ اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة، باب النهي عن التخلي في الطرق والظلال، حديث:269* حديث معاذ عند أبي داود. الطهارة، حديث:26 وسنده ضغيف-وحديث ابن عباس عند أحمد:1 / 299 وفيه رجل مجهول، لم يسم فالسند ضعيف، وحديث ابن عمر أخرجه الطبراني في الأوسط:3 /199، 200، حديث: 2413وسنده ضعيف جدًا، فيه فرات بن السائب وهو متروك الحديث.»
حدیث نمبر: 82
وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا تغوط الرجلان فليتوار كل واحد منهما عن صاحبه، ولا يتحدثا، فإن الله يمقت على ذلك» . رواه أحمد وصححه ابن السكن وابن القطان، وهو معلول.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب دو آدمی قضائے حاجت کریں تو ان کو ایک دوسرے سے پردہ میں ہونا چاہیئے اور اس حالت میں ایک دوسرے سے باہم گفتگو بھی نہ کریں اس لئے کہ ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔“
اس روایت کو احمد نے روایت کیا ہے اور ابن سکن اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مگر یہ حدیث معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 82]
اس روایت کو احمد نے روایت کیا ہے اور ابن سکن اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مگر یہ حدیث معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد: 3 / 36، وأبوداود، الطهارة، باب كراهية الكلام عند الحاجة، حديث:15، وابن ماجه، الطهارة، حديث: 342، وصححه ابن خزيمة، حديث:71، وابن حبان(موارد)، حديث: 137، والحاكم:1 /157، 158، والذهبي، عكرمة بن عمار مضطرب الحديث عن يحيي بن أبي كثير، وللحديث شواهد ضعيفة.»
حدیث نمبر: 83
وعن أبي قتادة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا يمسن أحدكم ذكره بيمينه وهو يبول، ولا يتمسح من الخلاء بيمينه، ولا يتنفس في الإناء» . متفق عليه، واللفظ لمسلم.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”تم میں سے کوئی بھی پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضو مخصوص کو ہرگز نہ چھوئے اور قضائے حاجت کے بعد سیدھے ہاتھ سے استنجاء بھی نہ کرے۔ نیز پانی پیتے وقت اس میں سانس بھی نہ لے“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب النهي عن الاستنجاء باليمين، حديث: 153، 154، ومسلم، الطهارة، باب النهي عن الاستنجاء باليمين، حديث:267.»
حدیث نمبر: 84
وعن سلمان رضي الله عنه قال: لقد نهانا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أن نستقبل القبلة بغائط أو بول، أو أن نستنجي باليمين، أوأن نستنجي بأقل من ثلاثة أحجار، أو أن نستنجي برجيع أو عظم". رواه مسلم.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ” ہم قضائے حاجت اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہوں یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کریں یا تین ڈھیلوں سے کم سے استنجاء کریں یا گوبر، لید اور ہڈی سے استنجاء کریں۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة، باب الاستطابة، حديث:262.»
حدیث نمبر: 85
وللسبعة من حديث أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه:«فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها، ببول أو غائط، ولكن شرقوا أو غربوا» .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رخ نہ بیٹھو اور نہ اس کی طرف پشت کرو، بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب کرو۔“
اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 85]
اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب لاتستقبل القبلة بغائط أو بول، حديث:144، ومسلم، الطهارة، باب في الاستطابة، حديث:264، وأبوداود، الطهارة، حديث:9، والترمذي، الطهارة، حديث:8، والنسائي الطهارة، حديث:21، 22، وابن ماجه، الطهارة، حديث:318، وأحمد:5 /416، 421.»
حدیث نمبر: 86
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من أتى الغآئط فليستتر» . رواه أبو داود.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو قضائے حاجت کے لئے جائے اسے پردہ کر کے بیٹھنا چاہیئے۔“ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الاستتارفي الخلاء، حديث:35، فيه حُصين وهو مجهول كما في تقريب التهذيب وغيره.»