🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب الحيض
حیض (سے متعلق احکام) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
عن عائشة رضي الله عنها: أن فاطمة بنت أبي حبيش كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏إن دم الحيض دم أسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكي عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي» .‏‏‏‏ رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم واستنكره أبو حاتم.وفي حديث أسماء بنت عميس عند أبي داود:«‏‏‏‏ولتجلس في مركن فإذا رأت صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر،‏‏‏‏ غسلا واحدا،‏‏‏‏ وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا وتغتسل للفجر غسلا واحدا وتتوضأ فيما بين ذلك» ‏‏‏‏.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا استحاضہ کی دائمی مریضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ ”حیض کے خون (کی رنگت) سیاہ ہوتی ہے، آسانی سے پہچان ہو سکتی ہے۔ جن ایام میں یہ خون آ رہا ہو تو ان ایام میں نماز چھوڑ دو اور جب کوئی دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔“
ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا ہے ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم کے نزدیک یہ منکر ہے ابوداؤد میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی مروی حدیث میں ہے کہ ایک ٹب میں بیٹھ جائے اور جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر دونوں نمازوں کیلئے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز کیلئے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کیلئے الگ سے ایک غسل کر لے اور ان کے درمیان میں وضو کر لے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 118]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ» فاطمہ بنت ابی حبیش – «كَانَتْ» تھیں – «تُسْتَحَاضُ» انہیں استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا – «فَقَالَ» تو فرمایا – «لَهَا» ان سے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «إِنَّ» بیشک – «دَمَ» خون – «الْحَيْضِ» حیض کا – «دَمٌ» ایک خون ہے – «أَسْوَدُ» سیاہ (رنگ کا) – «يُعْرَفُ» جو پہچانا جاتا ہے – «فَإِذَا» پس جب – «كَانَ» ہو – «ذَلِكَ» وہ (خون) – «فَأَمْسِكِي» تو تو رک جا – «عَنِ» سے – «الصَّلَاةِ» نماز، – «فَإِذَا» پس جب – «كَانَ» ہو – «الْآخَرُ» دوسرا (خون) – «فَتَوَضَّئِي» تو تو وضو کر – «وَصَلِّي» اور نماز پڑھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَاسْتَنْكَرَهُ» اور اسے منکر قرار دیا ہے – «أَبُو حَاتِمٍ» ابو حاتم نے۔ – «وَفِي» اور میں – «حَدِيثِ» حدیث – «أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ» اسماء بنت عمیس – «عِنْدَ» ہاں – «أَبِي دَاوُدَ» ابو داود کے: – «وَلْتَجْلِسْ» اور اسے چاہیے کہ وہ بیٹھے – «فِي» میں – «مِرْكَنٍ» ایک ٹب (برتن) – «فَإِذَا» پس جب – «رَأَتْ» وہ دیکھے – «صُفْرَةً» زردی – «فَوْقَ» اوپر – «الْمَاءِ» پانی کے – «فَلْتَغْتَسِلْ» تو اسے چاہیے کہ غسل کرے – «لِلظُّهْرِ» ظہر – «وَالْعَصْرِ» اور عصر کے لیے، – «غُسْلًا» غسل – «وَاحِدًا» ایک، – «وَتَغْتَسِلَ» اور وہ غسل کرے – «لِلْمَغْرِبِ» مغرب – «وَالْعِشَاءِ» اور عشاء کے لیے – «غُسْلًا» غسل – «وَاحِدًا» ایک – «وَتَغْتَسِلَ» اور وہ غسل کرے – «لِلْفَجْرِ» فجر کے لیے – «غُسْلًا» غسل – «وَاحِدًا» ایک – «وَتَتَوَضَّأَ» اور وہ وضو کرے – «فِيمَا» اس میں جو – «بَيْنَ» درمیان ہے – «ذَلِكَ» اس کے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بیشک حیض کا خون سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، پس جب وہ (خون) ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا (استحاضہ کا خون) ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو۔“ اسے امام ابوداود اور امام نسائی نے روایت کیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابو حاتم نے اسے منکر کہا ہے۔ اور ابوداود میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ”اور اسے چاہیے کہ ایک ٹب میں بیٹھے، پس جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے، اور ان (نمازوں) کے درمیانی اوقات میں وضو کرے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، حديث:286، والنسائي، الطهارة، حديث:363، وابن حبان(الإحسان):2 / 318، حديث:1345، الزهري مدلس وعنعن* وأبوداود، الطهارة، حديث:296 من حديث أسماء بنت عميس رضي الله عنها وسنده ضعيف [الزهري عنعن] .»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
وعن حمنة بنت جحش قالت: كنت أستحاض حيضة كثيرة شديدة فأتيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم أستفتيه فقال: «‏‏‏‏إنما هي ركضة من الشيطان فتحيضي ستة أيام أو سبعة أيام ثم اغتسلي فإذا استنقأت فصلي أربعة وعشرين أو ثلاثة وعشرين وصومي وصلي فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء فإن قويت على أن تؤخري الظهر وتعجلي العصر ثم تغتسلي حين تطهرين وتصلي الظهر والعصر جميعا ثم تؤخرين المغرب والعشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي. وتغتسلين مع الصبح وتصلين» . قال:«‏‏‏‏وهو أعجب الأمرين إلي» .‏‏‏‏ رواه الخمسة إلا النسائي وصححه الترمذي وحسنه البخاري.
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سخت قسم کے عارضہ استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں استفسار کیلئے حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ تو شیطان کی چوک (مار) ہے۔ لہٰذا تو چھ یا سات روز ایام شمار کر کے پھر نہا لے، جب تو اچھی طرح پاک و صاف ہو جائے تو پھر چوبیس یا تئیس روز نماز پڑھ اور روزہ بھی رکھ۔ یقینًا یہ تیرے لئے کافی ہے پس ہر ماہ اسی طرح کر لیا کر جیسا کہ حیض والی خواتین کرتی ہیں۔ پھر اگر تم میں ظہر کو ذرا مؤخر کرنے اور عصر کو ذرا مقدم کرنے کی ہمت و طاقت ہے تو پھر غسل کر لے جب پاک و صاف ہو جائے تو ظہر اور عصر دونوں کو اکٹھا ملا کر پڑھ لے۔ پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو ذرا مقدم کر کے غسل کر لے اور جمع صلاتین کر لے۔ تو ایسا کر لے (یعنی ایسا کرنے کی اجازت ہے) اور صبح کی نماز کیلئے الگ غسل کر لے اور نماز پڑھ لے“ پھر فرمایا ”دونوں باتوں میں سے مجھے یہ زیادہ پسند اور محبوب ہے۔“
اس کو نسائی کے علاوہ باقی چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 119]
«وَعَنْ» اور سے – «حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ» حمنہ بنت جحش – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «كُنْتُ» تھی میں – «أُسْتَحَاضُ» مجھے استحاضہ آتا تھا – «حَيْضَةً» ایسا استحاضہ (خون) – «كَثِيرَةً» جو بہت زیادہ – «شَدِيدَةً» تیز ہوتا – «فَأَتَيْتُ» تو میں آئی – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «أَسْتَفْتِيهِ» میں ان سے فتویٰ (مسئلہ) پوچھتی تھی – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِنَّمَا» بس – «هِيَ» وہ (خون) – «رَكْضَةٌ» ایک ٹھوکر ہے – «مِنَ» سے – «الشَّيْطَانِ» شیطان (کی ٹھوکروں میں)، – «فَتَحَيَّضِي» تو تو حیض شمار کر – «سِتَّةَ» چھ – «أَيَّامٍ» دن – «أَوْ» یا – «سَبْعَةَ» سات – «أَيَّامٍ» دن – «ثُمَّ» پھر – «اغْتَسِلِي» تو غسل کر لے – «فَإِذَا» پس جب – «اسْتَنْقَأْتِ» تو پاک صاف ہو جائے – «فَصَلِّي» تو نماز پڑھ – «أَرْبَعَةً» چوبیس (دن) – «وَعِشْرِينَ» اور بیس – «أَوْ» یا – «ثَلَاثَةً» تیئس (دن) – «وَعِشْرِينَ» اور بیس – «وَصُومِي» اور روزہ رکھ – «وَصَلِّي» اور نماز پڑھ – «فَإِنَّ» تو بیشک – «ذَلِكَ» یہ – «يُجْزِئُكِ» تجھے کافی ہوگا – «وَكَذَلِكَ» اور اسی طرح – «فَافْعَلِي» تو کیا کر – «كَمَا» جس طرح – «تَحِيضُ» حیض والی ہوتی ہیں – «النِّسَاءُ» عورتیں – «فَإِنْ» پھر اگر – «قَوِيتِ» تو طاقت رکھے – «عَلَى» پر – «أَنْ» کہ – «تُؤَخِّرِي» تو موخر کرے (دیر سے پڑھے) – «الظُّهْرَ» ظہر کو – «وَتُعَجِّلِي» اور جلدی پڑھے – «الْعَصْرَ» عصر کو – «ثُمَّ» پھر – «تَغْتَسِلِي» تو غسل کرے – «حِينَ» جس وقت – «تَطْهُرِينَ» تو پاک ہو – «وَتُصَلِّي» اور تو نماز پڑھے – «الظُّهْرَ» ظہر – «وَالْعَصْرَ» اور عصر – «جَمِيعًا» اکٹھی – «ثُمَّ» پھر – «تُؤَخِّرِينَ» تو موخر کرے (دیر سے پڑھے) – «الْمَغْرِبَ» مغرب کو – «وَالْعِشَاءَ» اور عشاء کو – «ثُمَّ» پھر – «تَغْتَسِلِينَ» تو غسل کرے – «وَتَجْمَعِينَ» اور تو جمع کرے – «بَيْنَ» درمیان – «الصَّلَاتَيْنِ» دونوں نمازوں کے – «فَافْعَلِي» تو ایسا کر لے۔ – «وَتَغْتَسِلِينَ» اور تو غسل کرے – «مَعَ» ساتھ – «الصُّبْحِ» صبح (فجر) کے – «وَتُصَلِّيْنَ» اور تو نماز پڑھے۔ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «وَهُوَ» اور یہ – «أَعْجَبُ» زیادہ پسندیدہ ہے – «الْأَمْرَيْنِ» دونوں کاموں میں سے – «إِلَيَّ» میری طرف (مجھے)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچ نے – «إِلَّا» سوائے – «النَّسَائِيَّ» نسائی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن قرار دیا ہے – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بہت زیادہ اور تیز استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا، تو میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو شیطان کی ٹھوکروں میں سے ایک ٹھوکر ہے، لہٰذا تم چھ یا سات دن حیض شمار کرو، پھر غسل کر لو، پس جب تم پاک صاف ہو جاؤ تو چوبیس یا تیئس دن نماز پڑھو اور روزے رکھو، بیشک یہ تمہارے لیے کافی ہوگا۔ اور تم اسی طرح کیا کرو جس طرح باقی عورتیں حیض کے ایام گزارتی ہیں۔ پھر اگر تم اس بات کی طاقت رکھو کہ ظہر کو موخر کرو اور عصر کو جلدی پڑھو، پھر جب تم پاک ہو جاؤ تو غسل کرو اور ظہر اور عصر دونوں اکٹھی پڑھو، پھر مغرب کو موخر کرو اور عشاء (جلدی پڑھو)، پھر غسل کرو اور ان دونوں نمازوں کو جمع کر لو تو ایسا کر لو۔ اور فجر کے وقت غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ دونوں طریقوں میں سے مجھے زیادہ پسند ہے۔“ اسے امام نسائی کے علاوہ پانچوں (احمد، ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، حديث: 287، والترمذي، الطهارة، حديث:128، وابن ماجه، الطهارة، حديث:622، 627، وأحمد: 6 /439، الزهري عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 120
وعن عائشة رضي الله عنها أن أم حبيبة بنت جحش شكت إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الدم فقال:«‏‏‏‏امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي» فكانت تغتسل لكل صلاة. رواه مسلم.وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏وتوضئي لكل صلاة» .‏‏‏‏ وهي لأبي داود وغيره من وجه آخر.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دم استحاضہ کا شکوہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تمہارے ماہواری کے ایام جس قدر پہلے سے متعین ہیں اتنے ایام میں (نماز ‘ روزہ) چھوڑ دے۔ اس کے بعد نہا دھو کر نماز ادا کرو۔“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اس کے بعد ہر نماز کیلئے تازہ غسل کیا کرتی تھیں۔ (مسلم) اور بخاری کی روایت میں ہے کہ ”پھر ہر نماز کیلئے ازسرنو (دوبارہ سے) وضو کر لیا کرو۔“
ابوداؤد وغیرہ محدثین نے اس حدیث کو دوسرے طریقے سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 120]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ» ام حبیبہ بنت جحش نے – «شَكَتْ» شکایت کی – «إِلَى» طرف – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «الْدَّمِ» خون کی۔ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «امْكُثِي» تو رکی رہ (نماز سے) – «قَدْرَ» اس قدر – «مَا» جو – «كَانَتْ» تھی – «تَحْبِسُكِ» تجھے روکتی – «حَيْضَتُكِ» تیری حیض کی عادت، – «ثُمَّ» پھر – «اغْتَسِلِي» تو غسل کر لے“ – «فَكَانَتْ» تو وہ تھیں – «تَغْتَسِلُ» غسل کرتیں – «لِكُلِّ» ہر – «صَلَاةٍ» نماز کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي» اور میں – «رِوَايَةٍ» ایک روایت – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کی: – «وَتَوَضَّئِي» ”اور تو وضو کر“ – «لِكُلِّ» ہر – «صَلَاةٍ» نماز کے لیے۔ – «وَهِيَ» اور یہ (روایت) – «لِأَبِي دَاوُدَ» ابو داود کے لیے (کی کتاب میں) ہے – «وَغَيْرِهِ» اور دیگر میں – «مِنْ» سے – «وَجْهٍ» ایک طریق (سند) – «آخَرَ» دوسرے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (استحاضہ کے) خون کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اتنے دن (نماز سے) رکی رہو جتنے دن تمہیں تمہاری حیض کی عادت روکے رکھتی تھی، پھر غسل کر لو۔“ چناچہ وہ (سیدہ ام حبیبہ) ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اور ہر نماز کے لیے وضو کرو۔“ اور یہ روایت امام ابوداود اور دیگر کے ہاں ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، حديث:334، والبخاري، الوضوء، حديث:228، وأبوداود، الطهارة، حديث:298.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت: كنا لا نعد الكدرة والصفرة بعد الطهر شيئا. رواه البخاري وأبو داود واللفظ له.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم (ایام ماہواری کے اختتام پر) نہا دھو کر پاک و صاف ہونے کے بعد گدلے اور زرد رنگ کی چیز کو (اس چیز کے خارج ہونے کو) کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں (یعنی ایسے مادہ کے خروج کو حیض تصور نہیں کرتی تھیں۔) (بخاری، ابوداؤد) متن حدیث کے الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ عَطِيَّةَ» ام عطیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا – «كُنَّا» ہم تھیں – «لَا» نہیں – «نَعُدُّ» ہم شمار کرتی تھیں – «الْكُدْرَةَ» مٹیالے پن کو – «وَ» اور – «الصُّفْرَةَ» زردی کو – «بَعْدَ» بعد – «الطُّهْرِ» پاکی کے – «شَيْئًا» کچھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «وَ» اور – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَ» اور – «اللَّفْظُ» لفظ – «لَهُ» انہی (ابو داود) کے ہیں۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم پاک ہونے کے بعد مٹیالے اور زرد رنگ کو کچھ شمار نہیں کرتی تھیں۔ اسے بخاری اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور الفاظ ابو داود کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب الصفرة والكدرة في غير أيام الحيض، حديث: 326، وأبوداود، الطهارة، باب في المرأة تري الصفرة والكدرة بعد الطهر، حديث:307.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
وعن أنس رضي الله عنه أن اليهود كانوا إذا حاضت المرأة فيهم لم يؤاكلوها فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اصنعوا كل شيء إلا النكاح» ‏‏‏‏. رواه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں کے ہاں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اس عورت کے ساتھ کھانا پینا ترک کر دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(اے مسلمانوں)! تم ہمبستری کے علاوہ ہر قسم کا فعل عورت کے ساتھ کر سکتے ہو۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 122]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «الْيَهُودَ» یہود – «كَانُوا» تھے – «إِذَا» جب – «حَاضَتِ» حائضہ ہوتی – «الْمَرْأَةُ» عورت – «فِيهِمْ» ان میں – «لَمْ» نہیں – «يُؤَاكِلُوهَا» وہ اس کے ساتھ کھاتے – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «اصْنَعُوا» تم کرو – «كُلَّ» ہر – «شَيْءٍ» چیز – «إِلَّا» سوائے – «النِّكَاحَ» ہم بستری کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو وہ اس کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بستری کے سوا ہر کام کرو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب جواز غسلالحائض رائس زوجها وترجيله...، حديث:302.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يأمرني فأتزر فيباشرني وأنا حائض. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تہبند مضبوطی سے باندھنے کا حکم فرماتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ مباشرت کرتے، حالانکہ میں اس وقت حالت حیض میں ہوتی تھی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 123]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يَأْمُرُنِي» مجھے حکم دیتے – «فَأَتَّزِرُ» تو میں تہبند باندھ لیتی – «فَيُبَاشِرُنِي» پھر وہ مجھ سے جسمانی قربت کرتے – «وَ» اور – «أَنَا» میں – «حَائِضٌ» حائضہ ہوتی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں تہبند باندھ لیتی، پھر آپ مجھ سے جسمانی قربت کرتے درآں حالیکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ اس پر اتفاق (بخاری و مسلم) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب مباشرة الحائض، حديث:300، 302، ومسلم الحيض، باب مباشرة الحائض فوق الإزار، حديث:293.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الذي يأتي امرأته وهي حائض قال: «‏‏‏‏يتصدق بدينار أو بنصف دينار» .‏‏‏‏ رواه الخمسة وصححه الحاكم وابن القطان ورجح غيرهما وقفه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی کے بارے میں بیان کیا ہے جو اپنی بیوی کے پاس ایسی حالت میں جائے جبکہ وہ حالت حیض میں ہو ”وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ و خیرات کرے۔“
اس حدیث کو پانچوں نے روایت کیا ہے۔ حاکم اور ابن قطان دونوں نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ان دونوں کے علاوہ دوسرے محدثین نے اسے موقوف کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 124]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنْ» سے – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فِي» میں / کے بارے میں – «الَّذِي» وہ شخص جو – «يَأْتِي» آتا ہے (قربت کرتا ہے) – «امْرَأَتَهُ» اپنی عورت (بیوی) سے – «وَ» اور – «هِيَ» وہ – «حَائِضٌ» حائضہ ہو – «قَالَ» آپ نے فرمایا – «يَتَصَدَّقُ» وہ صدقہ کرے – «بِدِينَارٍ» ایک دینار – «أَوْ» یا – «بِنِصْفِ» آدھا – «دِينَارٍ» دینار۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْخَمْسَةُ» پانچ نے – «وَ» اور – «صَحَّحَهُ» اسے صحیح کہا ہے – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَ» اور – «ابْنُ الْقَطَّانِ» ابن القطان نے – «وَ» اور – «رَجَّحَ» راجح قرار دیا ہے – «غَيْرُهُمَا» ان دونوں کے علاوہ نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی کے پاس آتا ہے (ہم بستری کرتا ہے) درآں حالیکہ وہ حائضہ ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ اسے پانچ (محدثین) نے روایت کیا ہے اور حاکم اور ابن القطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ان دونوں کے علاوہ دیگر محدثین نے اس کے موقوف ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في إتيان الحائض، حديث: 264، والترمذي، الطهارة، حديث:136، والنسائي، الطهارة، حديث:290، وابن ماجه، الطهارة، حديث:640، وأحمد:1 /272، 367، والحاكم في المستدرك:1 /172 وصحيحه، ووافقه الذهبي في تلخيصه بالسكوت عليه.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أليس إذا حاضت المرأة لم تصل ولم تصم» ‏‏‏‏؟. متفق عليه في حديث طويل.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”کیا عورت جب حالت حیض میں ہوتی ہے تو نماز اور روزہ چھوڑ نہیں دیتی؟“ (بخاری و مسلم) یہ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 125]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «أَلَيْسَ» کیا نہیں – «إِذَا» جب – «حَاضَتِ» حائضہ ہوتی ہے – «الْمَرْأَةُ» عورت – «لَمْ» نہیں – «تُصَلِّ» وہ نماز پڑھتی – «وَ» اور – «لَمْ» نہیں – «تَصُمْ» وہ روزہ رکھتی؟ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «فِي» میں – «حَدِيثٍ» ایک حدیث – «طَوِيلٍ» لمبی۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت جب حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟“ ایک لمبی حدیث میں اس پر اتفاق (بخاری و مسلم) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب ترك الحائض الصوم، حديث:304، ومسلم، الإيمان، باب بيان نقصان الإيمان بنقص الطاعات...، حديث:79.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: لما جئنا سرف حضت فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري» ‏‏‏‏. متفق عليه في حديث طويل.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مقام سرف میں آئے تو مجھے ایام ماہواری شروع ہو گئے (میرے بتانے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مناسک حج تم بھی اسی طرح ادا کرو جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں البتہ طواف بیت اللہ ایام سے فارغ ہو کر نہا دھو کر کرنا“ (بخاری و مسلم) یہ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ» راضی ہو – «اللَّهُ» اللہ – «تَعَالَى» بلند و برتر – «عَنْهَا» ان سے – «قَالَتْ» انہوں نے کہا – «لَمَّا» جب – «جِئْنَا» ہم آئے – «سَرِفَ» سرف (مقام) پر – «حِضْتُ» میں حائضہ ہو گئی – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «افْعَلِي» تم کرو – «مَا» جو – «يَفْعَلُ» کرتا ہے – «الْحَاجُّ» حاجی – «غَيْرَ» سوائے – «أَنْ» اس کے کہ – «لَا» نہیں – «تَطُوفِي» تم طواف کرنا – «بِالْبَيْتِ» بیت اللہ کا – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «تَطْهُرِي» تم پاک ہو جاؤ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «فِي» میں – «حَدِيثٍ» ایک حدیث – «طَوِيلٍ» لمبی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنها فرماتی ہیں: جب ہم مقام سرف پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب کام کرو جو حاجی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا یہاں تک کہ تم پاک ہو جاؤ۔“ ایک لمبی حدیث میں اس پر اتفاق (بخاری و مسلم) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت، حديث:305، ومسلم، الحج، باب بيان وجوه الإحرام...، حديث:1211.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
وعن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه أنه سأل النبي صلى الله عليه وآله وسلم: ما يحل للرجل من امرأته وهي حائض؟ فقال: «‏‏‏‏ما فوق الإزار» ‏‏‏‏. رواه أبو داود وضعفه.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ”جب عورت ایام ماہواری میں ہو تو عورت کی اپنے شوہر کے لیے کیا کیا چیز حلال ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پاجامہ یا تہبند میں جسم کا جتنا حصہ ہے اسے چھوڑ کر باقی حصہ اس کے لیے حلال ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 127]
«وَعَنْ» اور سے – «مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ» معاذ بن جبل – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ بے شک انہوں نے – «سَأَلَ» پوچھا – «النَّبِيَّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «مَا» کیا – «يَحِلُّ» حلال ہے – «لِلرَّجُلِ» آدمی کے لیے – «مِنْ» سے – «امْرَأَتِهِ» اس کی عورت (بیوی) – «وَ» اور – «هِيَ» وہ – «حَائِضٌ» حائضہ ہو؟ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا – «مَا» جو – «فَوْقَ» اوپر ہے – «الْإِزَارِ» تہبند کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَ» اور – «ضَعَّفَهُ» اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آدمی کے لیے اپنی بیوی سے کیا حلال ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟ تو آپ نے فرمایا: ”جو تہبند سے اوپر ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في المذي، حديث: 213* عبدالرحمن بن عائذ أحد رواة السند لم يدرك معاذ بن جبل رضي الله عنه، انظر جامع التحصيل، ص: 223.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں