بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب صلاة الجماعة والإمامة
نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 334
وعن وابصة بن معبد الجهني رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رأى رجلا يصلي خلف الصف وحده فأمره أن يعيد الصلاة. رواه أحمد وأبو داود والترمذي وحسنه وصححه ابن حبان. وله عن طلق بن علي رضي الله عنه: «لا صلاة لمنفرد خلف الصف» وزاد الطبراني في حديث وابصة رضي الله عنه:«ألا دخلت معهم أو اجتررت رجلا؟» .
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایسے آدمی پر پڑی جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ پڑھنے حکم دیا۔
احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی اور طبرانی نے وابصہ کی حدیث میں اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ ”تو ان کے ساتھ ہی داخل کیوں نہ ہو گیا یا تو پہلی صف میں سے کسی نمازی کو پیچھے کھینچ لیتا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 334]
احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی اور طبرانی نے وابصہ کی حدیث میں اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ ”تو ان کے ساتھ ہی داخل کیوں نہ ہو گیا یا تو پہلی صف میں سے کسی نمازی کو پیچھے کھینچ لیتا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الرجل يصلي وحده خلف الصف، حديث:682، والترمذي، الصلاة، حديث: 230، وأحمد: 4 /228، وابن حبان (الموارد): 2 /104، 105، حديث: 405 وحديث طلق أخرجه ابن حبان (الموارد): 2 /98، حديث:401، والزيادة في حديث وابصة أخرجها الطبراني في الكبير:22 /145، 146، حديث:394 وسنده ضعيف جدًا، فيه السري بن إسماعيل وهو متروك.»
حدیث نمبر: 335
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا سمعتم الإقامة فامشوا إلى الصلاة وعليكم السكينة والوقار ولا تسرعوا فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا» . متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم نماز کی اقامت سنو تو نماز کی طرف اطمینان و سکون اور وقار کے ساتھ چل کر آؤ۔ جلدی اور عجلت مت کرو۔ جتنی نماز جماعت کے ساتھ پا لو اتنی پڑھ لو اور جو باقی رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔“ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب لا يسعي إلي الصلاة....، حديث:636، ومسلم، المساجد، باب استحباب إتيان الصلاة بوقار سكينة، حديث:602.»
حدیث نمبر: 336
وعن أبي بن كعب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «صلاة الرجل مع الرجل أزكى من صلاته وحده وصلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الرجل وما كان أكثر فهو أحب إلى الله عز وجل» . رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے کہیں زیادہ پاکیزہ ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور جو نماز زیادہ لوگوں کے ساتھ ہو، وہ اللہ عزوجل کو زیادہ پسند ہے۔“
اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 336]
اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في فضل صلاة الجماعة، حديث:554، والنسائي، الإمامة، حديث:844، وابن حبان (الموارد)، حديث:429، وابن خزيمة، حديث:1477.»
حدیث نمبر: 337
وعن أم ورقة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمرها أن تؤم أهل دارها. رواه أبو داود وصححه ابن خزيمة.
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے گھر والوں کی امامت کرنے کا حکم فرمایا تھا۔
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 337]
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب إمامة النساء، حديث:592، وابن خزيمة: 3 /89، حديث:1676، والبيهقي في الخلافيات ق4ب.»
حدیث نمبر: 338
وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استخلف ابن أم مكتوم يؤم الناس وهو أعمى. رواه أحمد وأبو داود. ونحوه لابن حبان عن عائشة رضي الله عنها.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا۔ وہ لوگوں کی امامت کراتے تھے جب کہ وہ نابینا تھے۔
اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے بھی اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 338]
اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے بھی اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب أمامة الأعمي، حديث:595، وأحمد:3 /132، وحديث عائشة أخرجه ابن حبان(الإحسان):3 /287.»
حدیث نمبر: 339
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «صلوا على من قال لا إله إلا الله وصلوا خلف من قال لا إله إلا الله» . رواه الدارقطني بإسناد ضعيف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے «لا إله إلا الله» زبان سے کہا اس کی نماز جنازہ پڑھو اور جو «لا إله إلا الله» کہے اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیا کرو۔“
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 339]
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 339]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني: 2 /56.* عثمان بن عبدالرحمن وخالد بن إسماعيل المخزومي مجروحان متروكان.»
حدیث نمبر: 340
وعن علي رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال فليصنع كما يصنع الإمام» . رواه الترمذي بإسناد ضعيف.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لئے آئے تو امام کو جس حالت میں پائے اسی میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔“
ترمذی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 340]
ترمذی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما ذكر في الرجل يدرك الإمام وهو ساجد، حديث:591.* سنده ضعيف من أجل حجاج بن أرطاة، وللحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود، الصلاة، حديث:506 وغيره.»