بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب صلاة الاستسقاء
نماز استسقاء کا بیان
حدیث نمبر: 406
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: خرج النبي صلى الله عليه وآله وسلم متواضعا متبذلا متخشعا مترسلا متضرعا فصلى ركعتين كما يصلي في العيد لم يخطب خطبتكم هذه. رواه الخمسة وصححه الترمذي وأبو عوانة وابن حبان.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی تواضع کے ساتھ سادہ لباس میں نہایت عاجزی و انکساری، بہت خشوع اور بڑی زاری اور تضرع کرتے ہوئے نماز کے لئے باہر نکلے۔ عید کی نماز کی طرح لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ تمہارے خطبہ کی طرح خطبہ ارشاد نہیں فرمایا۔
اس روایت کو پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابوعوانہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 406]
اس روایت کو پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابوعوانہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 406]
«عَنْ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَرَجَ» نکلے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مُتَوَاضِعًا» عاجزی کرتے ہوئے – «مُتَبَذِّلًا» معمولی لباس میں – «مُتَخَشِّعًا» خشوع اختیار کرتے ہوئے – «مُتَرَسِّلًا» آہستہ آہستہ چلتے ہوئے – «مُتَضَرِّعًا» گڑگڑاتے ہوئے – «فَصَلَّى» پس نماز پڑھی – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «كَمَا يُصَلِّي» جیسے پڑھتے ہیں – «فِي الْعِيدِ» عید میں – «لَمْ يَخْطُبْ» خطبہ نہیں دیا – «خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ» تمہارے اس خطبے جیسا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَأَبُو عَوَانَةَ» اور ابو عوانہ – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز استسقاء کے لیے) عاجزی کرتے ہوئے، معمولی لباس میں، خشوع کے ساتھ، آہستہ چلتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں پڑھتے ہیں، آپ نے تمہارے اس خطبے جیسا خطبہ نہیں دیا۔ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابو عوانہ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 406]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز استسقاء کے لیے) عاجزی کرتے ہوئے، معمولی لباس میں، خشوع کے ساتھ، آہستہ چلتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں پڑھتے ہیں، آپ نے تمہارے اس خطبے جیسا خطبہ نہیں دیا۔ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابو عوانہ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، صلاة الاستسقاء، باب جماع أبواب صلاة الاستسقاء وتفريعها، حديث:1165، والترمذي، الجمعة، حديث:558، والنسائي، الاستسقاء، حديث:1507، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1266، وأحمد:1 /230، 269، 355، وابن حبان(الإحسان):4 /229، حديث:2851، وأبوعوانه:6 /33، القسم المفقود.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 407
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: شكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قحوط المطر فأمر بمنبر فوضع له بالمصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه قالت عائشة: فخرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد على المنبر فكبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وحمد الله عز وجل ثم قال: «إنكم شكوتم جدب دياركم وقد أمركم الله أن تدعوه ووعدكم أن يستجيب لكم» ثم قال: «الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت علينا قوة وبلاغا إلى حين» ثم رفع يديه فلم يزل حتى رئي بياض إبطيه ثم حول إلى الناس ظهره وقلب رداءه وهو رافع يديه ثم أقبل على الناس ونزل فصلى ركعتين فأنشأ الله سحابة فرعدت وبرقت ثم أمطرت. رواه أبو داود وقال غريب وإسناده جيد. وقصة التحويل في الصحيح من حديث عبد الله بن زيد وفيه: فتوجه إلى القبلة يدعو ثم صلى ركعتين جهر فيهما بالقراءة. وللدارقطني من مرسل أبي جعفر الباقر: وحول رداءه ليتحول القحط.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں منبر لے جانے کا حکم دیا، چنانچہ منبر عید گاہ میں لا کر رکھ دیا گیا۔ لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سارے باہر نکلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا۔ تشریف لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے اور «الله اكبر» کہا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا ”تم لوگوں نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کا شکوہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ تو تمہیں یہ حکم دے چکا ہے کہ اس سے دعا کرو وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا ”تعریف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے جو کائنات کا پروردگار ہے۔ لوگوں کے حق میں بڑا مہربان اور ہمیشہ مہربان ہے۔ روز جزا کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں۔ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ الٰہی! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر باران رحمت کا نزول فرما۔ جو کچھ تو ہمارے اوپر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے روزی اور مدت دراز تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک اوپر اٹھائے کہ وہ بتدریج آہستہ آہستہ اوپر اٹھتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ پھر لوگوں کی جانب اپنی پشت کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پھیر کر پلٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے پھر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ اسی لمحہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بادل پیدا کیا۔ وہ بدلی گرجی اور چمکی اور بارش ہونے لگی۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے اور اس کی سند نہایت عمدہ و جید ہے۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما کی روایت میں (تبدیلی چادر) کا قصہ اس طرح ہے ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور دعا فرماتے رہے، پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ ان میں قرآت بلند آواز سے کی۔“ اور دارقطنی میں ابوجعفر باقر کی مرسل روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اس لیے پھیر کر بدلی کہ قحط سالی بھی اسی طرح پھر جائے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 407]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «شَكَا النَّاسُ» لوگوں نے شکایت کی – «إِلَى رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قُحُوطَ الْمَطَرِ» بارش نہ ہونے کی – «فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ» تو آپ نے منبر کا حکم دیا – «فَوُضِعَ لَهُ» تو آپ کے لیے رکھا گیا – «بِالْمُصَلَّى» عید گاہ میں – «وَوَعَدَ النَّاسَ» اور لوگوں سے وعدہ کیا – «يَوْمًا» ایک دن کا – «يَخْرُجُونَ فِيهِ» جس میں وہ نکلیں – «قَالَتْ عَائِشَةُ» عائشہ نے کہا: – «فَخَرَجَ» پس نکلے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حِينَ بَدَا» جب ظاہر ہوا – «حَاجِبُ الشَّمْسِ» سورج کا کنارہ – «فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ» تو منبر پر بیٹھ گئے – «فَكَبَّرَ» پھر تکبیر کہی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَحَمِدَ اللَّهَ» اور اللہ کی حمد کی – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ ہے – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «إِنَّكُمْ» بے شک تم نے – «شَكَوْتُمْ» شکایت کی ہے – «جَدْبَ دِيَارِكُمْ» اپنے علاقوں کی خشک سالی کی – «وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ» اور اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے – «أَنْ تَدْعُوهُ» کہ تم اس سے دعا کرو – «وَوَعَدَكُمْ» اور تم سے وعدہ کیا ہے – «أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ» کہ وہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «الْحَمْدُ لِلَّهِ» سب تعریف اللہ کے لیے ہے – «رَبِّ الْعَالَمِينَ» جو تمام جہانوں کا رب ہے – «الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا – «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» بدلے کے دن کا مالک – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ» وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «أَنْتَ اللَّهُ» تو ہی اللہ ہے – «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» تیرے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «أَنْتَ الْغَنِيُّ» تو بے نیاز ہے – «وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ» اور ہم محتاج ہیں – «أَنْزِلْ عَلَيْنَا» ہم پر نازل فرما – «الْغَيْثَ» بارش – «وَاجْعَلْ» اور بنا دے – «مَا أَنْزَلْتَ عَلَيْنَا» جو تو ہم پر نازل کرے – «قُوَّةً» قوت – «وَبَلَاغًا» اور (ضرورت کے) پہنچنے کا ذریعہ – «إِلَى حِينٍ» ایک مدت تک۔ – «ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ» پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے – «فَلَمْ يَزَلْ» اور اٹھائے رکھے – «حَتَّى رُئِيَ» یہاں تک کہ دیکھی گئی – «بَيَاضُ إِبْطَيْهِ» آپ کی بغلوں کی سفیدی – «ثُمَّ حَوَّلَ» پھر پھیر دی – «إِلَى النَّاسِ» لوگوں کی طرف – «ظَهْرَهُ» اپنی پیٹھ – «وَقَلَبَ» اور الٹ دی – «رِدَاءَهُ» اپنی چادر – «وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ» اس حال میں کہ آپ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے – «ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ» پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے – «وَنَزَلَ» اور (منبر سے) اترے – «فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ» اور دو رکعتیں پڑھیں – «فَأَنْشَأَ اللَّهُ» تو اللہ نے پیدا فرمایا – «سَحَابَةً» ایک بادل – «فَرَعَدَتْ» تو وہ گرجا – «وَبَرَقَتْ» اور چمکا – «ثُمَّ أَمْطَرَتْ» پھر برس پڑا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَقَالَ» اور کہا: – «غَرِيبٌ» (یہ) غریب ہے – «وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ» اور اس کی سند عمدہ ہے۔ – «وَقِصَّةُ التَّحْوِيلِ» اور (چادر) پلٹنے کا قصہ – «فِي الصَّحِيحِ» صحیح (بخاری) میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ» عبداللہ بن زید کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «فَتَوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ» تو آپ قبلہ رخ ہوئے – «يَدْعُو» دعا کرتے ہوئے – «ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ» پھر دو رکعتیں پڑھیں – «جَهَرَ فِيهِمَا» ان میں بلند آواز سے کی – «بِالْقِرَاءَةِ» قراءت۔ – «وَلِلدَّارَقُطْنِيِّ» اور دارقطنی کی روایت میں ہے – «مِنْ مُرْسَلِ» مرسل (روایت) سے – «أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ» ابو جعفر الباقر کی: – «وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ» اور آپ نے اپنی چادر پلٹی – «لِيَتَحَوَّلَ» تاکہ پلٹ جائے – «الْقَحْطُ» قحط۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (لانے) کا حکم دیا، چنانچہ وہ آپ کے لیے عید گاہ میں رکھا گیا، اور آپ نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ (عید گاہ کی طرف) نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، آپ منبر پر بیٹھے، اللہ اکبر کہا اور اللہ عزوجل کی حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کی شکایت کی ہے، اور اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا: ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا، بدلے کے دن کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما، اور جو (بارش) تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک مدت تک (ضروریات) پوری ہونے کا ذریعہ بنا دے۔“ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اٹھائے رکھے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر لی اور ہاتھ اٹھائے ہوئے ہی اپنی چادر پلٹی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور (منبر سے) اتر کر دو رکعتیں پڑھیں، تو اللہ نے ایک بادل پیدا فرمایا جو گرجا اور چمکا، پھر برس پڑا۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور کہا: یہ غریب ہے، اور اس کی سند عمدہ ہے۔ اور چادر پلٹنے کا قصہ صحیح (بخاری) میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے، اور اس میں ہے: پھر آپ قبلہ رخ ہو کر دعا کرنے لگے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں بلند آواز سے قراءت کی۔ اور دارقطنی کی روایت میں ابو جعفر الباقر کی مرسل روایت سے ہے: اور آپ نے اپنی چادر اس لیے پلٹی تاکہ قحط (خوشحالی میں) پلٹ جائے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 407]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (لانے) کا حکم دیا، چنانچہ وہ آپ کے لیے عید گاہ میں رکھا گیا، اور آپ نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ (عید گاہ کی طرف) نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، آپ منبر پر بیٹھے، اللہ اکبر کہا اور اللہ عزوجل کی حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کی شکایت کی ہے، اور اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا: ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا، بدلے کے دن کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما، اور جو (بارش) تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک مدت تک (ضروریات) پوری ہونے کا ذریعہ بنا دے۔“ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اٹھائے رکھے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر لی اور ہاتھ اٹھائے ہوئے ہی اپنی چادر پلٹی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور (منبر سے) اتر کر دو رکعتیں پڑھیں، تو اللہ نے ایک بادل پیدا فرمایا جو گرجا اور چمکا، پھر برس پڑا۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور کہا: یہ غریب ہے، اور اس کی سند عمدہ ہے۔ اور چادر پلٹنے کا قصہ صحیح (بخاری) میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے، اور اس میں ہے: پھر آپ قبلہ رخ ہو کر دعا کرنے لگے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں بلند آواز سے قراءت کی۔ اور دارقطنی کی روایت میں ابو جعفر الباقر کی مرسل روایت سے ہے: اور آپ نے اپنی چادر اس لیے پلٹی تاکہ قحط (خوشحالی میں) پلٹ جائے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 407]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب رفع اليدين في الاستسقاء، حديث:1173، وقصة التحويل: ذكرها البخاري، الاستسقاء، حديث:1024، ومرسل أبي جعفر أخرجه الدارقطني:2 /66، وسنده ضعيف، حفص بن غياث مدلس وعنعن، والسند مرسل.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 408
وعن أنس أن رجلا دخل المسجد يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وآله وسلم قائم يخطب.فقال: يا رسول الله هلكت الأموال وانقطعت السبل فادع الله عز وجل يغيثنا فرفع يديه ثم قال: «اللهم أغثنا اللهم أغثنا» فذكر الحديث وفيه الدعاء بإمساكها. متفق عليه
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ بولا یا رسول اللہ! اموال (مویشی) ہلاک ہو گئے اور آمدورفت کے راستے بند ہو گئے ہیں۔ اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش نازل فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے اور دعا فرمائی۔ «اللهم أغثنا اللهم أغثنا» یا الٰہی! بارش سے ہماری فریاد رسی فرما۔ یا الٰہی! باران رحمت سے ہماری فریاد رسی فرما۔ ساری حدیث بیان فرمائی۔ اس میں بارش کے بند کروانے کی دعا کا بھی ذکر ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 408]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «أَنَّ» کہ – «رَجُلًا» ایک آدمی – «دَخَلَ الْمَسْجِدَ» مسجد میں داخل ہوا – «يَوْمَ الْجُمُعَةِ» جمعہ کے دن – «وَالنَّبِيُّ» جبکہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَائِمٌ» کھڑے – «يَخْطُبُ» خطبہ دے رہے تھے – «فَقَالَ» تو اس نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول – «هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ» مال (مویشی) ہلاک ہو گئے – «وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ» اور راستے منقطع ہو گئے – «فَادْعُ اللَّهَ» پس اللہ سے دعا کیجیے – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ ہے – «يُغِيثُنَا» کہ وہ ہمیں بارش دے – «فَرَفَعَ يَدَيْهِ» تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» اے اللہ ہمیں بارش دے – «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» اے اللہ ہمیں بارش دے۔ – «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ» پھر (پوری) حدیث ذکر کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے – «الدُّعَاءُ» دعا کرنا – «بِإِمْسَاكِهَا» اس (بارش) کے روکنے کی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، لہٰذا اللہ عزوجل سے دعا فرمائیے کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے۔“ پھر (راوی نے پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں (بعد میں) بارش روکنے کی دعا کا ذکر بھی ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 408]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، لہٰذا اللہ عزوجل سے دعا فرمائیے کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے۔“ پھر (راوی نے پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں (بعد میں) بارش روکنے کی دعا کا ذکر بھی ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاستسقاء، باب الاستسقاء في المسجد الجامع، حديث:1013، ومسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:897.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 409
وعنه رضي الله عنه أن عمر رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب وقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا فيسقون. رواه البخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہو جاتے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنا کر بارش طلب فرماتے تھے اور یوں دعا کرتے کہ اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے بارش طلب کرتے تھے تو ہمیں باران رحمت سے نواز دیتا تھا اور اب ہم تیرے حضور تیرے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چچا کو بطور وسیلہ لائے ہیں لہٰذا تو ہمیں بارش سے سیراب فرما دے (اس دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں) ان کو بارش سے سیراب کیا جاتا تھا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 409]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «كَانَ إِذَا قَحَطُوا» جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے – «اسْتَسْقَى» تو بارش کی دعا کرتے – «بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے (ان سے دعا کروا کر) – «وَقَالَ» اور کہتے: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «إِنَّا كُنَّا» بے شک ہم – «نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ» تیری طرف وسیلہ بناتے تھے – «بِنَبِيِّنَا» اپنے نبی (کی دعا) کو – «فَتَسْقِينَا» تو تو ہمیں بارش دیتا تھا – «وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ» اور اب ہم تیری طرف وسیلہ بناتے ہیں – «بِعَمِّ نَبِيِّنَا» اپنے نبی کے چچا (کی دعا) کو – «فَاسْقِنَا» پس ہمیں بارش دے – «فَيُسْقَوْنَ» تو انہیں بارش دی جاتی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (سے دعا کروا کر ان) کے ذریعے بارش طلب کرتے اور کہتے: اے اللہ! ہم (پہلے) اپنے نبی (کی دعا) کو تیری طرف وسیلہ بناتے تھے تو تو ہمیں بارش عطا فرماتا تھا، اور اب ہم اپنے نبی کے چچا (کی دعا) کو تیری طرف وسیلہ بناتے ہیں، پس ہمیں بارش عطا فرما۔ چنانچہ انہیں بارش دی جاتی۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 409]
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (سے دعا کروا کر ان) کے ذریعے بارش طلب کرتے اور کہتے: اے اللہ! ہم (پہلے) اپنے نبی (کی دعا) کو تیری طرف وسیلہ بناتے تھے تو تو ہمیں بارش عطا فرماتا تھا، اور اب ہم اپنے نبی کے چچا (کی دعا) کو تیری طرف وسیلہ بناتے ہیں، پس ہمیں بارش عطا فرما۔ چنانچہ انہیں بارش دی جاتی۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاستسقاء، باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، حديث:1010.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 410
وعنه رضي الله عنه قال: أصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مطر قال فحسر ثوبه حتى أصابه من المطر وقال: «إنه حديث عهد بربه» . رواه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ ہم ایک دفعہ بارش کی لپیٹ میں آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن اطہر سے کپڑا اوپر اٹھایا کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطیب پر پڑنے لگی اور ارشاد فرمایا کہ ”یہ اپنے آقا و مالک کے ہاں سے نئی نئی (تحفہ کی صورت میں) آ رہی ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 410]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَصَابَنَا» ہمیں پہنچی – «وَنَحْنُ» جبکہ ہم – «مَعَ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ تھے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَطَرٌ» بارش – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَحَسَرَ» تو آپ نے ہٹا دیا – «ثَوْبَهُ» اپنا کپڑا – «حَتَّى أَصَابَهُ» یہاں تک کہ آپ کو لگی – «مِنَ الْمَطَرِ» بارش – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّهُ» بے شک یہ – «حَدِيثُ عَهْدٍ» تازہ تازہ آئی ہے – «بِرَبِّهِ» اپنے رب کے پاس سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو آپ نے اپنا کپڑا (جسم سے) ہٹا دیا یہاں تک کہ بارش آپ کے جسم پر پڑی، اور فرمایا: ”یہ اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 410]
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو آپ نے اپنا کپڑا (جسم سے) ہٹا دیا یہاں تک کہ بارش آپ کے جسم پر پڑی، اور فرمایا: ”یہ اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:898.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 411
وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا رأى المطر قال: «اللهم صيبا نافعا» . أخرجاه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو اس طرح دعا مانگتے۔ «اللهم صيبا نافعا» ”اے اللہ! اس بارش کو منافع بخش و سود مند بنا دے۔ “ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 411]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ إِذَا رَأَى» جب دیکھتے – «الْمَطَرَ» بارش – «قَالَ» تو فرماتے: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «صَيِّبًا» (اسے) زور سے برسنے والی – «نَافِعًا» نفع دینے والی (بنا)۔ – «أَخْرَجَاهُ» اسے ان دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت کیا ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! (اسے) خوب برسنے والی نفع بخش بارش بنا۔“ اسے دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 411]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! (اسے) خوب برسنے والی نفع بخش بارش بنا۔“ اسے دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الاستسقاء، باب ما يقال إذا أمطرت، حديث:1032، ومسلم، صلاة الاستسقاء، باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم....، حديث:899.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 412
وعن سعد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم دعا في الاستسقاء: «اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» . رواه أبو عوانة في صحيحه.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا استسقاء میں یہ دعا مانگی «اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» ”یا الٰہی! ہمیں ایسے بادل سے جو ساری زمین پر چھایا ہوا ہو، گہرا ہو، کڑکنے والا، زور سے برسنے والا، چمکنے گرجنے والا، تہ بہ تہ ہو، سے بارش کی باریک بوندیں بہت زیادہ برسا دے۔ اے بزرگی اور عزت کے مالک!۔“ (مسند ابی عوانہ) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 412]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدٍ» سعد – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «دَعَا» نے دعا کی – «فِي الِاسْتِسْقَاءِ» بارش طلب کرنے میں: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «جَلِّلْنَا» ہم پر چھا دے – «سَحَابًا» بادل – «كَثِيفًا» گھنا – «قَصِيفًا» گرجنے والا – «دَلُوقًا» خوب برسنے والا – «ضَحُوكًا» چمکنے والا – «تُمْطِرُنَا مِنْهُ» جس سے تو ہم پر برسائے – «رَذَاذًا» ہلکی پھوار – «قِطْقِطًا» چھوٹے چھوٹے قطرے – «سَجْلًا» زوردار بارش – «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» اے جلال اور اکرام والے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو عَوَانَةَ» ابو عوانہ نے – «فِي صَحِيحِهِ» اپنی صحیح میں۔
اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش طلب کرتے ہوئے یہ دعا کی: ”اے اللہ! ہم پر گھنا، گرجنے والا، خوب برسنے والا اور چمکنے والا بادل چھا دے، جس سے تو ہم پر ہلکی پھوار، چھوٹے چھوٹے قطرے اور زوردار بارش برسائے، اے جلال اور اکرام والے!“ اسے ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 412]
اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش طلب کرتے ہوئے یہ دعا کی: ”اے اللہ! ہم پر گھنا، گرجنے والا، خوب برسنے والا اور چمکنے والا بادل چھا دے، جس سے تو ہم پر ہلکی پھوار، چھوٹے چھوٹے قطرے اور زوردار بارش برسائے، اے جلال اور اکرام والے!“ اسے ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو عوانة:2 /119.* فيه أبو محمد عبدالله بن محمد بن عبدالله الأنصاري المدني ولم أجد له ترجمة، ولعله البلوي الترجم في لسان الميزان وهو كذاب.»
الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
حدیث نمبر: 413
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «خرج سليمان عليه السلام يستسقي فرأى نملة مستلقية على ظهرها رافعة قوائمها إلى السماء تقول: اللهم إنا خلق من خلقك ليس بنا غنى عن سقياك فقال: ارجعوا سقيتم بدعوة غيركم» . رواه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سیدنا سلیمان علیہ السلام بارش طلب کرنے کے لئے باہر نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی کو پشت کے بل ٹانگیں آسمان کی جانب اٹھائے ہوئے دیکھا جو بارگاہ رب العزت میں عرض کر رہی تھی۔ الٰہی ہم تیری مخلوق ہیں تیری دوسری مخلوق کی طرح، ہم بھی تیری بارش سے بے نیاز و مستغنی نہیں ہیں، یہ سن کر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا چلو واپس چلیں تمہیں بارش سے سیراب کر دیا گیا، غیروں کی دعا کی بدولت۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 413]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «خَرَجَ» نکلے – «سُلَيْمَانُ» سلیمان – «عَلَيْهِ السَّلَامُ» ان پر سلامتی ہو – «يَسْتَسْقِي» بارش کی دعا کرنے – «فَرَأَى» تو دیکھا – «نَمْلَةً» ایک چیونٹی کو – «مُسْتَلْقِيَةً» لیٹی ہوئی – «عَلَى ظَهْرِهَا» اپنی پیٹھ کے بل – «رَافِعَةً» اٹھائے ہوئے – «قَوَائِمَهَا» اپنے پاؤں – «إِلَى السَّمَاءِ» آسمان کی طرف – «تَقُولُ» کہہ رہی تھی: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «إِنَّا» بے شک ہم – «خَلْقٌ» ایک مخلوق ہیں – «مِنْ خَلْقِكَ» تیری مخلوق میں سے – «لَيْسَ بِنَا» ہمیں نہیں ہے – «غِنًى» بے نیازی – «عَنْ سُقْيَاكَ» تیری (دی ہوئی) بارش سے – «فَقَالَ» تو (سلیمان نے) کہا: – «ارْجِعُوا» لوٹ چلو – «سُقِيتُمْ» تمہیں بارش دے دی گئی – «بِدَعْوَةِ غَيْرِكُمْ» دوسرے کی دعا سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان علیہ السلام بارش کی دعا کرنے نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی دیکھی جو اپنی پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے کہہ رہی تھی: اے اللہ! ہم تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، ہم تیری (عطا کردہ) بارش سے بے نیاز نہیں ہیں۔ تو سلیمان علیہ السلام نے (لوگوں سے) کہا: واپس چلو، تمہیں دوسرے کی دعا کی وجہ سے بارش دے دی گئی ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 413]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان علیہ السلام بارش کی دعا کرنے نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی دیکھی جو اپنی پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے کہہ رہی تھی: اے اللہ! ہم تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، ہم تیری (عطا کردہ) بارش سے بے نیاز نہیں ہیں۔ تو سلیمان علیہ السلام نے (لوگوں سے) کہا: واپس چلو، تمہیں دوسرے کی دعا کی وجہ سے بارش دے دی گئی ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد، ولم أجده، عزاه المؤلف في كتابه اتحاف المهرة:16 /1 ص70، حديث:20399 إلي الحاكم فقط، قال المؤلف: أخرجه الحاكم في المستدرك:1 /325 وصححه [ووافقه الذهبي] .»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 414
وعن أنس رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استسقى فأشار بظهر كفيه إلى السماء. أخرجه مسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا فرمائی تو اپنے دونوں ہاتھ الٹی حالت میں آسمان کی طرف اٹھا کر ارشاد فرمایا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 414]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اسْتَسْقَى» نے بارش کی دعا کی – «فَأَشَارَ» تو اشارہ کیا – «بِظَهْرِ كَفَّيْهِ» اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت سے – «إِلَى السَّمَاءِ» آسمان کی طرف۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کی دعا کی تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 414]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کی دعا کی تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء، حديث:896.»
الحكم على الحديث:
صحيح