🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب صلاة الاستسقاء
نماز استسقاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 412
وعن سعد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم دعا في الاستسقاء: «‏‏‏‏اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» .‏‏‏‏ رواه أبو عوانة في صحيحه.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا استسقاء میں یہ دعا مانگی «اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» یا الٰہی! ہمیں ایسے بادل سے جو ساری زمین پر چھایا ہوا ہو، گہرا ہو، کڑکنے والا، زور سے برسنے والا، چمکنے گرجنے والا، تہ بہ تہ ہو، سے بارش کی باریک بوندیں بہت زیادہ برسا دے۔ اے بزرگی اور عزت کے مالک!۔ (مسند ابی عوانہ) [بلوغ المرام/حدیث: 412]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدٍ» سعد – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «دَعَا» نے دعا کی – «فِي الِاسْتِسْقَاءِ» بارش طلب کرنے میں: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «جَلِّلْنَا» ہم پر چھا دے – «سَحَابًا» بادل – «كَثِيفًا» گھنا – «قَصِيفًا» گرجنے والا – «دَلُوقًا» خوب برسنے والا – «ضَحُوكًا» چمکنے والا – «تُمْطِرُنَا مِنْهُ» جس سے تو ہم پر برسائے – «رَذَاذًا» ہلکی پھوار – «قِطْقِطًا» چھوٹے چھوٹے قطرے – «سَجْلًا» زوردار بارش – «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» اے جلال اور اکرام والے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو عَوَانَةَ» ابو عوانہ نے – «فِي صَحِيحِهِ» اپنی صحیح میں۔
اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش طلب کرتے ہوئے یہ دعا کی: اے اللہ! ہم پر گھنا، گرجنے والا، خوب برسنے والا اور چمکنے والا بادل چھا دے، جس سے تو ہم پر ہلکی پھوار، چھوٹے چھوٹے قطرے اور زوردار بارش برسائے، اے جلال اور اکرام والے! اسے ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو عوانة:2 /119.* فيه أبو محمد عبدالله بن محمد بن عبدالله الأنصاري المدني ولم أجد له ترجمة، ولعله البلوي الترجم في لسان الميزان وهو كذاب.»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً


بلوغ المرام کی حدیث نمبر 412 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 412
تخریج:
«أخرجه أبو عوانة:2 /119.* فيه أبو محمد عبدالله بن محمد بن عبدالله الأنصاري المدني ولم أجد له ترجمة، ولعله البلوي الترجم في لسان الميزان وهو كذاب.»
تشریح:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استسقا کی کئی دعائیں مختلف الفاظ سے منقول ہیں‘ تاہم حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہاں پر اس دعا کو ذکر کرنے کے بعد حدیث پر حکم کی بابت خاموشی اختیار فرمائی ہے جبکہ تلخیص الحبیر میں اس کی بابت لکھتے ہیں کہ اس میں بہت سے غریب الفاظ ہیں‘ نیز ابو عوانہ نے اسے نہایت کمزور سند سے بیان کیا ہے۔
(التلخیص الحبیـر: ۲ / ۹۹) علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے بھی اسے سنداً سخت ضعیف قرار دیا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 412]

Bulughul Maram Hadith 412 in Urdu