🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. (أحاديث في الجنائز)
(جنازے کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
وعن بريدة رضي الله عنه في قصة الغامدية التي أمر النبي صلى الله عليه وآله وسلم برجمها في الزنا قال: ثم أمر بها فصلي عليها ودفنت. رواه مسلم.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے غامدیہ کے قصہ میں مروی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارتکاب زنا کی پاداش میں رجم و سنگساری کا حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا پھر خود اس کی جنازہ پڑھی اور اسے دفن کیا گیا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 445]
«وَعَنْ» اور سے – «بُرَيْدَةَ» بریدہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي قِصَّةِ» قصے میں – «الْغَامِدِيَّةِ» غامدیہ (عورت) کے – «الَّتِي» جس کے – «أَمَرَ» حکم دیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِرَجْمِهَا» اسے سنگسار کرنے کا – «فِي الزِّنَا» زنا (کی سزا) میں – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «ثُمَّ أَمَرَ بِهَا» پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا – «فَصُلِّيَ عَلَيْهَا» تو اس پر نماز (جنازہ) پڑھی گئی – «وَدُفِنَتْ» اور وہ دفن کی گئی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے غامدیہ عورت کے قصے میں، جسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زنا کی وجہ سے سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا، روایت ہے، انہوں نے کہا: پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 445]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحدود، باب من اعترف علي نفسه بالزني، حديث:1695.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 446
وعن جابر بن سمرة رضي الله عنهما قال: أتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم برجل قتل نفسه بمشاقص فلم يصل عليه. رواه مسلم.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے تیر سے خودکشی کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 446]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ» جابر بن سمرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أُتِيَ» لایا گیا – «النَّبِيُّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِرَجُلٍ» ایک آدمی کو – «قَتَلَ نَفْسَهُ» جس نے خود کو قتل کر لیا تھا – «بِمَشَاقِصَ» چوڑے پھل والے تیروں سے – «فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ» تو آپ نے اس پر نماز (جنازہ) نہیں پڑھی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوڑے پھل والے تیروں سے خود کشی کر لی تھی، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 446]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب ترك الصلاة علي القاتل نفسه، حديث:978.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
وعن أبي هريرة رضي الله عنه في قصة المرأة التي كانت تقم المسجد قال فسأل عنها النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالوا: ماتت فقال: «‏‏‏‏أفلا كنتم آذنتموني؟» ‏‏‏‏ فكأنهم صغروا أمرها،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏دلوني على قبرها» ‏‏‏‏ فدلوه،‏‏‏‏ فصلى عليها. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ وہ فوت ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں دی؟ گویا انہوں نے اس کے معاملہ وفات کو معمولی خیال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر کا راستہ بتاؤ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر کا راستہ بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جا کر قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قبریں اہل قبور کے لئے اندھیروں سے بھری ہوئی ہیں اور میری نماز سے ان کی قبروں میں روشنی ہو جاتی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 447]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي قِصَّةِ» قصے میں – «الْمَرْأَةِ» اس عورت کے – «الَّتِي كَانَتْ» جو تھی – «تَقُمُّ الْمَسْجِدَ» مسجد میں جھاڑو دیتی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَسَأَلَ عَنْهَا» تو اس کے بارے میں پوچھا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالُوا» تو انہوں نے کہا: – «مَاتَتْ» وہ فوت ہو گئی – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَفَلَا كُنْتُمْ» تو کیوں نہ تم نے – «آذَنْتُمُونِي» مجھے خبر دی؟ – «فَكَأَنَّهُمْ» تو گویا انہوں نے – «صَغَّرُوا أَمْرَهَا» اس کے معاملے کو معمولی سمجھا تھا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «دُلُّونِي» مجھے بتاؤ – «عَلَى قَبْرِهَا» اس کی قبر – «فَدَلُّوهُ» تو انہوں نے آپ کو بتا دی – «فَصَلَّى عَلَيْهَا» تو آپ نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے قصے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: وہ فوت ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: تم نے مجھے خبر کیوں نہ دی؟ گویا انہوں نے اس کے معاملے کو معمولی سمجھا تھا۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتاؤ۔ انہوں نے آپ کو بتا دی تو آپ نے اس (کی قبر) پر نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب كنس المسجد، حديث:458، ومسلم، الجنائز، باب الصلاة علي القبر، حديث:956.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
وعن حذيفة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان ينهى عن النعي. رواه أحمد والترمذي وحسنه.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موت کے لئے کھلے عام منادی سے منع فرمایا کرتے تھے۔
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 448]
«وَعَنْ» اور سے – «حُذَيْفَةَ» حذیفہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَنْهَى» منع فرمایا کرتے تھے – «عَنِ النَّعْيِ» موت کا اعلان (جاہلیت کے طریقے پر) کرنے سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور (ترمذی نے) اسے حسن کہا۔
اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جاہلی طریقے پر) موت کا اعلان کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الجنائز، باب ما جاء في كراهية النعي، حديث:986، وابن ماجه، الجنائز، حديث:1476، وأحمد:5 /385، 406. *قال يحيي بن معين في بلال بن يحيي: "روايته عن حذيفة مرسلة"، وبه ضعف الحديث.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
وعن أبي هريرة رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر عليه أربعا. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی خبر وفات اسی روز دی جس روز وہ فوت ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر جنازہ گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ صف بندی کروائی اور اس پرچار تکبیریں کہیں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 449]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَعَى» نے موت کی خبر دی – «النَّجَاشِيَّ» نجاشی کی – «فِي الْيَوْمِ» اس دن – «الَّذِي مَاتَ فِيهِ» جس میں وہ فوت ہوا – «وَخَرَجَ بِهِمْ» اور انہیں لے کر نکلے – «إِلَى الْمُصَلَّى» عید گاہ کی طرف – «فَصَفَّ بِهِمْ» پھر ان کی صفیں بنائیں – «وَكَبَّرَ عَلَيْهِ» اور اس پر تکبیریں کہیں – «أَرْبَعًا» چار۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ فوت ہوا، اور صحابہ کو لے کر عید گاہ کی طرف نکلے، ان کی صفیں بنائیں اور اس (کی نماز جنازہ) پر چار تکبیریں کہیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب الرجل ينعيٰ إلي أهل الميت بنفسه، حديث:1245، ومسلم، الجنائز، باب في التكبير علي الجنائز، حديث:951.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 450
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا لا شفعهم الله فيه» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کوئی مسلمان نہیں مرتا کہ اس کے جنازے میں ایسے چالیس آدمی شریک ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس مرنے والے کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما لیتا ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 450]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ» کوئی مسلمان آدمی نہیں – «يَمُوتُ» جو فوت ہو – «فَيَقُومُ» پھر کھڑے ہوں – «عَلَى جَنَازَتِهِ» اس کے جنازے پر – «أَرْبَعُونَ رَجُلًا» چالیس آدمی – «لَا يُشْرِكُونَ» جو شریک نہ ٹھہراتے ہوں – «بِاللَّهِ» اللہ کے ساتھ – «شَيْئًا» کسی چیز کو – «إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ» مگر اللہ ان کی سفارش قبول فرماتا ہے – «فِيهِ» اس کے حق میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان آدمی فوت ہو جائے اور اس کے جنازے پر ایسے چالیس آدمی کھڑے ہوں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں، تو اللہ اس کے حق میں ان کی سفارش ضرور قبول فرماتا ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب من صلي عليه أربعون شفعوا فيه، حديث:948.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 451
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنهما قال: صليت وراء النبي صلى الله عليه وآله وسلم على امرأة ماتت في نفاسها فقام وسطها. متفق عليه
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں فوت ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 451]
«وَعَنْ» اور سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ» سمرہ بن جندب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّيْتُ» میں نے نماز پڑھی – «وَرَاءَ النَّبِيِّ» نبی کے پیچھے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى امْرَأَةٍ» ایک عورت پر – «مَاتَتْ» جو فوت ہوئی تھی – «فِي نِفَاسِهَا» اپنے نفاس میں – «فَقَامَ» تو آپ کھڑے ہوئے – «وَسَطَهَا» اس کے درمیان (کے سامنے)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو نفاس کی حالت میں فوت ہو گئی تھی، تو آپ اس کے درمیان (کے سامنے) کھڑے ہوئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 451]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب الصلاة علي النفساء إذا ماتت في نفاسها، حديث:1331، ومسلم، الجنائز، باب أين يقوم الإمام من الميت للصلاة عليه، حديث:964.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 452
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: والله لقد صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على ابني بيضاء في المسجد. رواه مسلم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں ادا فرمائی۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 452]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم – «لَقَدْ صَلَّى» یقیناً نماز پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ» بیضاء کے دونوں بیٹوں پر – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 452]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب الصلاة علي الجنازة في المسجد، حديث:973.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 453
وعن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان زيد بن أرقم يكبر على جنائزنا أربعا وإنه كبر على جنازة خمسا فسألته فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكبرها.رواه مسلم والأربعة.
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پرچار تکبیریں کہتے تھے مگر (خلاف معمول) ایک مرتبہ انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو میں نے ان سے دریافت کیا انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پانچ تکبیریں کہتے تھے۔
اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 453]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى» عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ» زید بن ارقم – «يُكَبِّرُ» تکبیریں کہا کرتے تھے – «عَلَى جَنَائِزِنَا» ہمارے جنازوں پر – «أَرْبَعًا» چار – «وَإِنَّهُ كَبَّرَ» اور انہوں نے (ایک بار) تکبیریں کہیں – «عَلَى جَنَازَةٍ» ایک جنازے پر – «خَمْسًا» پانچ – «فَسَأَلْتُهُ» تو میں نے ان سے پوچھا – «فَقَالَ» تو انہوں نے کہا: – «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُكَبِّرُهَا» یہ (پانچ) تکبیریں کہا کرتے تھے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں (اصحاب السنن) نے۔
اور عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے، اور (ایک مرتبہ) انہوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں، میں نے ان سے (اس بارے میں) پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بھی) یہ (پانچ تکبیریں) کہا کرتے تھے۔ اسے مسلم اور چاروں (اصحاب السنن) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 453]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب الصلاة علي القبر، حديث:957، وأبوداود، الجنائز، حديث:3197، والترمذي، الجنائز، حديث:1023، والنسائي، الجنائز، حديث:1984، وابن ماجه، الجنائز، حديث:1505.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 454
وعن علي رضي الله عنه أنه كبر على سهل بن حنيف ستا وقال: إنه بدري. رواه سعيد بن منصور وأصله في البخاري.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ میں چھ تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ وہ بدری تھے۔
اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے اور اس اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 454]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ كَبَّرَ» کہ انہوں نے تکبیریں کہیں – «عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ» سہل بن حنیف (کے جنازے) پر – «سِتًّا» چھ – «وَقَالَ» اور کہا: – «إِنَّهُ بَدْرِيٌّ» بے شک وہ بدری ہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ» سعید بن منصور نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الْبُخَارِيِّ» بخاری میں ہے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (کے جنازے) پر چھ تکبیریں کہیں اور فرمایا: یہ بدری (غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے) ہیں۔ اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصوركما في فتح الباري:7 /318، وأصله في البخاري، حديث:4004. *إسماعيل ابن أبي خالد عنعن، وله شاهد عند البخاري في التاريخ الكبير:4 /97، وللحديث شواهد أخري.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں