بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في الجنائز)
(جنازے کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 455
وعن جابر رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكبر على جنائزنا أربعا ويقرأ بفاتحة الكتاب في التكبيرة الأولى.رواه الشافعي بإسناد ضعيف.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جنازوں پرچار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر میں سورۃ «فاتحه» (بھی) پڑھتے تھے۔
اسے شافعی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 455]
اسے شافعی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 455]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُكَبِّرُ» تکبیریں کہا کرتے تھے – «عَلَى جَنَائِزِنَا» ہمارے جنازوں پر – «أَرْبَعًا» چار – «وَيَقْرَأُ» اور پڑھتے تھے – «بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» سورۂ فاتحہ – «فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى» پہلی تکبیر میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الشَّافِعِيُّ» شافعی نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر (کے بعد) سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔ اسے شافعی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 455]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر (کے بعد) سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔ اسے شافعی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «أخرجه الشافعي في الأم:1 /270 نحو المعني، وسنده ضعيف جدًا من أجل إبراهيم بن محمد بن أبي يحيي، ولكن الحديث صحيح لأن له شواهد صحيحة في صحيح البخاري، وغيره، انظر الحديث الآتي.»
الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
حدیث نمبر: 456
وعن طلحة بن عبد الله بن عوف قال: صليت خلف ابن عباس رضي الله عنهما على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب قال: لتعلموا أنها سنة. رواه البخاري.
سیدنا طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ انہوں نے اس میں سورۃ «فاتحه» پڑھی اور فرمایا (میں نے اس لئے سورۃ «فاتحه» پڑھی ہے) تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ سنت ہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 456]
«وَعَنْ» اور سے – «طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ» طلحہ بن عبداللہ بن عوف – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّيْتُ» میں نے نماز پڑھی – «خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس کے پیچھے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَلَى جَنَازَةٍ» ایک جنازے پر – «فَقَرَأَ» تو انہوں نے پڑھی – «بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» سورۂ فاتحہ – «قَالَ» (اور) کہا: – «لِتَعْلَمُوا» تاکہ تم جان لو – «أَنَّهَا سُنَّةٌ» کہ یہ سنت ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک نماز جنازہ پڑھی تو انہوں نے سورۂ فاتحہ (بلند آواز سے) پڑھی اور فرمایا: (میں نے اس لیے ایسا کیا) تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 456]
اور طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک نماز جنازہ پڑھی تو انہوں نے سورۂ فاتحہ (بلند آواز سے) پڑھی اور فرمایا: (میں نے اس لیے ایسا کیا) تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب قراءة فاتحة الكتاب علي الجنازة، حديث:1335.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 457
وعن عوف بن مالك رضي الله عنه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على جنازة فحفظت من دعائه «اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واغسله بالماء، والثلج، والبرد، ونقه من الخطايا، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله دارا خيرا من داره، وأهلا خيرا من أهله، وأدخله الجنة، وقه فتنة القبر، وعذاب النار» . رواه مسلم.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھائی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں سے اتنا حصہ یاد کر لیا «اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واغسله بالماء، والثلج، والبرد، ونقه من الخطايا، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله دارا خيرا من داره، وأهلا خيرا من أهله، وأدخله الجنة، وقه فتنة القبر، وعذاب النار» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما دے، اس پر رحم فرما، اسے عافیت و آرام سے رکھ، اس سے درگزر فرما، اس کی مہمان نوازی اچھی فرما، اس کی قبر کشادہ و فراخ کر دے، اسے پانی، برف اور ژالوں (اولوں) سے دھو دے (بالکل صاف کر دے) اسے گناہوں سے ایسا صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اور اسے دنیاوی گھر سے بہتر اور عمدہ گھر اور اہل و عیال سے بہتر اہل و عیال عطا فرما، اسے جنت میں داخل فرما، اسے قبر کے فتنہ و آزمائش اور عذاب دوزخ سے محفوظ رکھ۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 457]
«وَعَنْ» اور سے – «عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ» عوف بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» نماز پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى جَنَازَةٍ» ایک جنازے پر – «فَحَفِظْتُ» تو میں نے یاد کر لیا – «مِنْ دُعَائِهِ» آپ کی دعا میں سے: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «اغْفِرْ لَهُ» اسے بخش دے – «وَارْحَمْهُ» اور اس پر رحم فرما – «وَعَافِهِ» اور اسے عافیت دے – «وَاعْفُ عَنْهُ» اور اسے معاف فرما – «وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ» اور اس کی مہمانی باعزت کر – «وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ» اور اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کشادہ کر – «وَاغْسِلْهُ» اور اسے دھو دے – «بِالْمَاءِ» پانی – «وَالثَّلْجِ» اور برف – «وَالْبَرَدِ» اور اولوں سے – «وَنَقِّهِ» اور اسے صاف کر دے – «مِنَ الْخَطَايَا» گناہوں سے – «كَمَا يُنَقَّى» جیسے صاف کیا جاتا ہے – «الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ» سفید کپڑا – «مِنَ الدَّنَسِ» میل کچیل سے – «وَأَبْدِلْهُ» اور اسے بدلے میں دے – «دَارًا» گھر – «خَيْرًا مِنْ دَارِهِ» اس کے گھر سے بہتر – «وَأَهْلًا» اور گھر والے – «خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ» اس کے گھر والوں سے بہتر – «وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ» اور اسے جنت میں داخل فرما – «وَقِهِ» اور اسے بچا – «فِتْنَةَ الْقَبْرِ» قبر کے فتنے سے – «وَعَذَابَ النَّارِ» اور آگ کے عذاب سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جنازے پر نماز پڑھی تو میں نے آپ کی دعا میں سے یہ (الفاظ) یاد کر لیے: ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اسے معاف فرما، اس کی باعزت مہمانی فرما، اس کی قبر کشادہ کر دے، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اور اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر اور اس کے گھر والوں کے بدلے بہتر گھر والے عطا فرما، اور اسے جنت میں داخل فرما، اور اسے قبر کے فتنے اور آگ کے عذاب سے بچا۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 457]
اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جنازے پر نماز پڑھی تو میں نے آپ کی دعا میں سے یہ (الفاظ) یاد کر لیے: ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اسے معاف فرما، اس کی باعزت مہمانی فرما، اس کی قبر کشادہ کر دے، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اور اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر اور اس کے گھر والوں کے بدلے بہتر گھر والے عطا فرما، اور اسے جنت میں داخل فرما، اور اسے قبر کے فتنے اور آگ کے عذاب سے بچا۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 457]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب الدعاء اللميت في الصلاة، حديث:963.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 458
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: فكان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا صلى على جنازة يقول:«اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» . رواه مسلم والأربعة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا مانگتے «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور مردوں، ہمارے حاضر و غائب، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں، ہمارے مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما دے! الٰہی! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے تو موت دے اسے ایمان کی موت سے سرفراز فرما! الٰہی! ہمیں اس کے اجر و ثواب سے محروم نہ رکھ اور نہ ہمیں اس کے بعد گمراہ ہونے دے۔
اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 458]
اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 458]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا صَلَّى» جب نماز پڑھتے – «عَلَى جَنَازَةٍ» کسی جنازے پر – «يَقُولُ» تو فرماتے: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «اغْفِرْ» بخش دے – «لِحَيِّنَا» ہمارے زندہ کو – «وَمَيِّتِنَا» اور ہمارے مردہ کو – «وَشَاهِدِنَا» اور ہمارے حاضر کو – «وَغَائِبِنَا» اور ہمارے غائب کو – «وَصَغِيرِنَا» اور ہمارے چھوٹے کو – «وَكَبِيرِنَا» اور ہمارے بڑے کو – «وَذَكَرِنَا» اور ہمارے مرد کو – «وَأُنْثَانَا» اور ہماری عورت کو – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا» ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے – «فَأَحْيِهِ» تو اسے زندہ رکھ – «عَلَى الْإِسْلَامِ» اسلام پر – «وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا» اور ہم میں سے جسے تو وفات دے – «فَتَوَفَّهُ» تو اسے وفات دے – «عَلَى الْإِيمَانِ» ایمان پر – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «لَا تَحْرِمْنَا» ہمیں محروم نہ کر – «أَجْرَهُ» اس کے اجر سے – «وَلَا تُضِلَّنَا» اور ہمیں گمراہ نہ کر – «بَعْدَهُ» اس کے بعد۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں (اصحاب السنن) نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازے پر نماز پڑھتے تو یہ دعا فرماتے: ”اے اللہ! ہمارے زندہ اور ہمارے مردہ، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب، ہمارے چھوٹے اور ہمارے بڑے، ہمارے مرد اور ہماری عورتوں کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جسے تو وفات دے اسے ایمان پر وفات دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔“ اسے مسلم اور چاروں (اصحاب السنن) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 458]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازے پر نماز پڑھتے تو یہ دعا فرماتے: ”اے اللہ! ہمارے زندہ اور ہمارے مردہ، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب، ہمارے چھوٹے اور ہمارے بڑے، ہمارے مرد اور ہماری عورتوں کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جسے تو وفات دے اسے ایمان پر وفات دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔“ اسے مسلم اور چاروں (اصحاب السنن) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب الدعاء للميت، حديث:3201، والترمذي، الجنائز، حديث:1024، والنسائي، الجنائز، حديث:1986، وابن ماجه، الجنائز، حديث:1498. * قوله: "رواه مسلم" وهم من المؤلف أو من بعده، والله أعلم.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 459
وعنه رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء» . رواه أبو داود وصححه ابن حبان.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم کسی میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خوب خلوص دل سے اس کے لئے دعا کرو۔“
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 459]
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 459]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا صَلَّيْتُمْ» جب تم نماز پڑھو – «عَلَى الْمَيِّتِ» میت پر – «فَأَخْلِصُوا» تو خالص کرو – «لَهُ» اس کے لیے – «الدُّعَاءَ» دعا کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میت پر نماز (جنازہ) پڑھو تو اس کے لیے خلوص سے دعا کرو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 459]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میت پر نماز (جنازہ) پڑھو تو اس کے لیے خلوص سے دعا کرو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب الدعاء للميت، حديث:3199، وابن حبان (الإحسان):5 /31.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 460
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم» . متفق عليه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو۔ اس لئے کہ اگر مرنے والا صالح اور نیک آدمی تھا تو اس کے لئے بہتر ہو گا کہ اسے بہتر جگہ کی طرف جلدی لے جاؤ اور اگر دوسرا ہے (برا آدمی ہے) تو اپنی گردن سے اتار کر رکھ دو۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 460]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «أَسْرِعُوا» جلدی کرو – «بِالْجَنَازَةِ» جنازے کے ساتھ – «فَإِنْ تَكُ» پس اگر وہ ہو – «صَالِحَةً» نیک – «فَخَيْرٌ» تو بھلائی ہے – «تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ» جس کی طرف تم اسے آگے بھیج رہے ہو – «وَإِنْ تَكُ» اور اگر ہو – «سِوَى ذَلِكَ» اس کے سوا – «فَشَرٌّ» تو برائی ہے – «تَضَعُونَهُ» جسے تم اتار رہے ہو – «عَنْ رِقَابِكُمْ» اپنی گردنوں سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جنازہ جلدی لے کر چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو (قبر) ایک بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے آگے بڑھا رہے ہو، اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک برائی ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 460]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جنازہ جلدی لے کر چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو (قبر) ایک بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے آگے بڑھا رہے ہو، اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک برائی ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 460]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب السرعة بالجنازة، حديث:1315، ومسلم، الجنائز، باب الإسراع بالجنازة، حديث:944.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 461
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من شهد الجنازة حتى يصلى عليها فله قيراط ومن شهدها حتى تدفن فله قيراطان» قيل: وما القيراطان؟ قال: «مثل الجبلين العظيمين» متفق عليه ولمسلم: «حتى توضع في اللحد» وللبخاري: «من تبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا وكان معها حتى يصلى عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع بقيراطين كل قيراط مثل جبل أحد» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی جائے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے کے وقت تک حاضر رہے اسے دو قیراط کے برابر اجر ملے گا۔“ دریافت کیا گیا کہ دو قیراط سے کیا مراد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے برابر۔“ (بخاری ومسلم)
اور مسلم کی روایت میں ہے ”میت کو قبر میں اتارے جانے تک حاضر رہے۔“ اور بخاری کی روایت میں ہے ”جس نے کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے شرکت کی اور نماز جنازہ کے اختتام تک اس کے ساتھ بھی رہا اور تدفین سے فراغت کے بعد واپس لوٹا تو وہ دو قیراط لے کر واپس لوٹا۔ ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 461]
اور مسلم کی روایت میں ہے ”میت کو قبر میں اتارے جانے تک حاضر رہے۔“ اور بخاری کی روایت میں ہے ”جس نے کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے شرکت کی اور نماز جنازہ کے اختتام تک اس کے ساتھ بھی رہا اور تدفین سے فراغت کے بعد واپس لوٹا تو وہ دو قیراط لے کر واپس لوٹا۔ ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 461]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ شَهِدَ» جو حاضر ہوا – «الْجَنَازَةَ» جنازے میں – «حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا» یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے – «فَلَهُ قِيرَاطٌ» تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے – «وَمَنْ شَهِدَهَا» اور جو اس میں حاضر رہا – «حَتَّى تُدْفَنَ» یہاں تک کہ وہ دفن کر دی جائے – «فَلَهُ قِيرَاطَانِ» تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ – «قِيلَ» کہا گیا: – «وَمَا الْقِيرَاطَانِ» اور دو قیراط کیا ہیں؟ – «قَالَ» فرمایا: – «مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ» دو پہاڑوں کی مانند – «الْعَظِيمَيْنِ» بڑے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «حَتَّى تُوضَعَ» یہاں تک کہ وہ رکھ دی جائے – «فِي اللَّحْدِ» لحد میں۔ – «وَلِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی روایت میں ہے: – «مَنْ تَبِعَ» جو پیچھے چلا – «جَنَازَةَ مُسْلِمٍ» کسی مسلمان کے جنازے کے – «إِيمَانًا» ایمان کے ساتھ – «وَاحْتِسَابًا» اور ثواب کی نیت سے – «وَكَانَ مَعَهَا» اور اس کے ساتھ رہا – «حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا» یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے – «وَيُفْرَغَ» اور فارغ ہوا جائے – «مِنْ دَفْنِهَا» اس کے دفن سے – «فَإِنَّهُ يَرْجِعُ» تو وہ لوٹتا ہے – «بِقِيرَاطَيْنِ» دو قیراط (اجر) کے ساتھ – «كُلُّ قِيرَاطٍ» ہر قیراط – «مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ» احد پہاڑ کی مانند ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر رہا یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے، اور جو دفن ہونے تک حاضر رہا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کی مانند۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں (دفن کی جگہ) ”یہاں تک کہ اسے لحد میں رکھ دیا جائے“ ہے۔ اور بخاری کی روایت میں ہے: ”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ چلا اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی گئی اور اس کے دفن سے فراغت ہو گئی، تو وہ دو قیراط (اجر) لے کر لوٹتا ہے، ہر قیراط احد پہاڑ کی مانند ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 461]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر رہا یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے، اور جو دفن ہونے تک حاضر رہا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کی مانند۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں (دفن کی جگہ) ”یہاں تک کہ اسے لحد میں رکھ دیا جائے“ ہے۔ اور بخاری کی روایت میں ہے: ”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ چلا اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی گئی اور اس کے دفن سے فراغت ہو گئی، تو وہ دو قیراط (اجر) لے کر لوٹتا ہے، ہر قیراط احد پہاڑ کی مانند ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 461]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب من انتظر حتي تدفن، حديث:1325، ومسلم، الجنائز، باب فضل الصلاة علي الجنازة واتبا عها، حديث:945، وحديث "من تبع جنازة مسلم" أخرجه البخاري، الجنائز، حديث:1323.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 462
وعن سالم عن أبيه رضي الله عنهما أنه رأى النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأبا بكر وعمر وهم يمشون أمام الجنازة. رواه الخمسة، وصححه ابن حبان، وأعله النسائي وطائفة بالإرسال.
سیدنا سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔
اس کو پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور نسائی اور ایک گروہ نے اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 462]
اس کو پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور نسائی اور ایک گروہ نے اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 462]
«وَعَنْ» اور سے – «سَالِمٍ» سالم – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّهُ رَأَى» کہ انہوں نے دیکھا – «النَّبِيَّ» نبی کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَأَبَا بَكْرٍ» اور ابو بکر – «وَعُمَرَ» اور عمر کو – «وَهُمْ يَمْشُونَ» درحالیکہ وہ چل رہے تھے – «أَمَامَ» آگے – «الْجَنَازَةِ» جنازے کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (امام احمد اور اصحاب سنن اربعہ) نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَأَعَلَّهُ» اور اسے معلول قرار دیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے – «وَطَائِفَةٌ» اور ایک جماعت نے – «بِالْإِرْسَالِ» مرسل ہونے کی وجہ سے۔
اور سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے، اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے، جبکہ نسائی اور ایک جماعت نے اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 462]
اور سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے، اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے، جبکہ نسائی اور ایک جماعت نے اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 462]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب المشي أمام الجنازة، حديث:3179، والترمذي، الجنائز، حديث:1007، 1009، والنسائي، الجنائز، حديث:1945، وابن ماجه، الجنائز، حديث:1482، وابن حبان (الإحسان):5 /20، حديث:3035، وقول الترمذي: ((أهل الحديث كلهم يرون...)) يعني من شيوخه، وإلا فبعض أهل الحديث صححه كابن حبان رحمه الله، والمرسل شاهد له.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 463
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت: نهينا عن اتباع الجنائز ولم يعزم علينا. متفق عليه.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں جنازوں میں شرکت سے منع کر دیا گیا مگر یہ ممانعت ہم پر لازمی قرار نہیں دی گئی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 463]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ عَطِيَّةَ» ام عطیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «نُهِينَا» ہمیں منع کیا گیا – «عَنِ اتِّبَاعِ» پیچھے جانے سے – «الْجَنَائِزِ» جنازوں کے – «وَلَمْ يُعْزَمْ» اور تاکید (سختی) نہیں کی گئی – «عَلَيْنَا» ہم پر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں (عورتوں کو) جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر (اس ممانعت میں) سختی نہیں کی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 463]
اور سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں (عورتوں کو) جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر (اس ممانعت میں) سختی نہیں کی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 463]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنازة، باب اتباع النساء الجنازة، حديث:1278، ومسلم، الجنائز، باب نهي النساء عن اتباع الجنائز، حديث:938.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 464
وعن أبي سعيد رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يجلس حتى توضع» . متفق عليه.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم کسی جنازے کو آتے دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔ نیز جو شخص جنازے کے ساتھ ہو وہ جنازے کے زمین پر رکھے جانے سے پہلے نہ بیٹھے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 464]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا رَأَيْتُمُ» جب تم دیکھو – «الْجَنَازَةَ» جنازے کو – «فَقُومُوا» تو کھڑے ہو جاؤ – «فَمَنْ تَبِعَهَا» پس جو اس کے پیچھے جائے – «فَلَا يَجْلِسْ» تو وہ نہ بیٹھے – «حَتَّى تُوضَعَ» یہاں تک کہ وہ رکھ دیا جائے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ (زمین پر) رکھ نہ دیا جائے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 464]
اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ (زمین پر) رکھ نہ دیا جائے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنائز/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب من تبع جنازة فلا يقعد حتي توضع...، حديث:1310، ومسلم، الجنائز، باب القيام للجنازة، حديث:959.»
الحكم على الحديث:
صحيح