🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب الإحرام وما يتعلق به
احرام اور اس کے متعلقہ امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 603
وعن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال: حملت إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والقمل يتناثر على وجهي فقال:«‏‏‏‏ما كنت أرى الوجع بلغ بك ما أرى أتجد شاة؟» ‏‏‏‏ قلت: لا،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏فصم ثلاثة أيام،‏‏‏‏ أو أطعم ستة مساكين،‏‏‏‏ لكل مسكين نصف صاع» . متفق عليه
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ خیال نہ تھا کہ تم کو بیماری نے اس حالت کو پہنچا دیا ہو گا جو میں دیکھ رہا ہوں، کیا تیرے پاس بکری ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن روزہ رکھ یا چھ مسکینوں کو آدھا صاع ہر مسکین کے حساب سے کھانا دے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المحصر، باب الإطعام في الفدية نصف صاع، حديث:1816، ومسلم، الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم، حديث:1201.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 604
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لما فتح الله على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مكة قام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: «‏‏‏‏إن الله حبس عن مكة الفيل وسلط عليها رسوله والمؤمنين وإنها لم تحل لأحد كان قبلي وإنما أحلت لي ساعة من نهار وإنها لم تحل لأحد بعدي فلا ينفر صيدها ولا يختلى شوكها ولا تحل ساقطتها إلا لمنشد ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يفدي وإما أن يقيد» ‏‏‏‏. فقال العباس: إلا الإذخر يا رسول الله فإنا نجعله في قبورنا وبيوتنا فقال: «إلا الإذخر» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کی فتح دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ سے روک دیا مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر غلبہ عطا فرمایا اور تحقیق مجھ سے پہلے مکہ کسی پر حلال نہ تھا مگر میرے لئے دن کی ایک گھڑی حلال کر دیا گیا ہے اور یقیناً میرے بعد یہ کسی کیلئے حلال نہیں ہو گا یعنی نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کا کوئی کانٹے دار درخت کاٹا جائے اور نہ ہی اس کی گری ہوئی چیز سوائے شناخت کرنے والے کے کسی پر حلال ہے اور جس کا کوئی آدمی مارا جائے وہ دو بہتر سوچے ہوئے کاموں میں سے ایک کام میں اختیار رکھتا ہے۔ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے سوا، کیونکہ اسے ہم اپنی قبروں اور چھتوں میں رکھتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے اذخر کے، (یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے۔) (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العلم، باب كتابه العلم، حديث:112، ومسلم، الحج، باب تحريم مكة وصيدها، حديث:1355.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
وعن عبد الله بن زيد بن عاصم رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إن إبراهيم حرم مكة ودعا لأهلها وإني حرمت المدينة كما حرم إبراهيم مكة وإني دعوت في صاعها ومدها بمثلي ما دعا به إبراهيم لأهل مكة» . متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تحقیق ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت دی اور اس کے بسنے والوں کیلئے دعا کی اور بیشک میں نے مدینہ کو حرمت دی۔ جس طرح ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور یقیناً میں نے مدینہ کے صاع اور اس کے مد کے متعلق ابراھیم علیہ السلام کی طرح دعا کی جو مکہ میں بسنے والوں کے متعلق تھی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بركة صاح النبي صلي الله عليه وسلم ومده، حديث:2129، ومسلم، الحج، باب فضل المدينة، حديث:1360.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏المدينة حرم ما بين عير إلى ثور» ‏‏‏‏. رواه مسلم.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے عیر سے ثور کے درمیان۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب فضل المدينة حديث:1370.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں