بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
حدیث نمبر: 607
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حج فخرجنا معه حتى إذا أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس فقال: «اغتسلي واستثفري بثوب وأحرمي» وصلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به على البيداء أهل بالتوحيد «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حتى إذا أتينا البيت استلم الركن فرمل ثلاثا ومشى أربعا ثم نفر إلى مقام إبراهيم فصلى ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا فلما دنا من الصفا قرأ «أبدأ بما بدأ الله به» فرقى الصفا حتى رأى البيت فاستقبل القبلة فوحد الله وكبره وقال: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ثم دعا بين ذلك ثلاث مرات ثم نزل إلى المروة حتى إذا انصبت قدماه في بطن الوادي سعى حتى إذا صعدتا مشى حتى أتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا فذكر الحديث وفيه: فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فأهلوا بالحج وركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس فأجاز حتى أتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس أمر بالقصواء فرحلت له فأتى بطن الوادي فخطب الناس ثم أذن ثم أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا ثم ركب حتى أتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص ودفع وقد شنق للقصواء الزمام حتى إن رأسها ليصيب مورك رحله ويقول بيده اليمنى: «أيها الناس السكينة السكينة» كلما أتى حبلا من الحبال أرخى لها قليلا حتى تصعد حتى أتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا ثم اضطجع حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح بأذان وإقامة ثم ركب القصواء حتى أتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعا وكبر وهلل فلم يزل واقفا حتى أسفر جدا فدفع قبل أن تطلع الشمس حتى أتى بطن محسر فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج على الجمرة الكبرى حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثم ركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأفاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر. رواه مسلم مطولا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غسل کر اور کسی کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے اور احرام باندھ لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی اور قصواء (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام) پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء کے برابر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلا شک سب تعریفیں اور انعامات تیرے ہیں۔ بادشاہت بھی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ رکن (اسود) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا، تین بار رمل کیا اور چار بار معمول کے مطابق چلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور نماز پڑھی پھر رکن (حجر اسود) کی طرف واپس آئے اور اس کو بوسہ دیا۔ پھر مسجد الحرام کے دروازہ سے صفا کی طرف نکلے جب صفا کے نزدیک پہنچے تو یہ آیت پڑھی۔ ”تحقیق صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ (پھر فرمایا) ”میں شروع کرتا ہوں (سعی کو) اس مقام سے کہ جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھا۔ پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور کہا ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ بادشاہی اور سب خوبیاں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی جماعت کو اکیلے اسی نے شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان تین بار دعا کی۔ پھر صفا سے اترے اور مروہ کی طرف گئے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں وادی کے نشیب میں پڑے تو دوڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشیب سے اوپر چڑھے اور مروہ کی طرف چلے۔ مروہ پر وہی کچھ کیا جو صفا پر کیا تھا۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ساری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ جب ترویہ کا دن (8 ذی الحج) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے پھر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو وہاں سے روانہ ہوئے اور مزدلفہ سے گزرتے ہوئے عرفات میں پہنچے تو خیمہ میں اترے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ پھر جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء پر پالان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وادی کے درمیان میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا پھر اذان دلوائی پھر اقامت کہلوائی تو نماز ظہر ادا کی پھر اقامت کہلوائی تو عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ پھر سوار ہو کر ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور راہ چلنے والوں کو اپنے سامنے کر لیا اور اپنا رخ قبلہ کی جانب کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ٹھہرے رہے کہ سورج غروب ہونے لگا اور تھوڑی سی زردی ختم ہو گئی حتیٰ کہ سورج مکمل طور پر غروب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء کی باگ اتنی تنگ کر رکھی تھی کہ اس کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پالان کے اگلے ابھرے ہوئے حصے کو پہنچتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے ”اے لوگو! تسکین و اطمینان اختیار کرو“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ٹیلے پر آتے تو باگ تھوڑی سی ڈھیلی کر دیتے کہ وہ اوپر چڑھ جاتی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور دونوں کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔ پھر لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ جب صبح کا وقت ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت سے فجر کی نماز پڑھی۔ پھر سوار ہو کر مشعر حرام پر آئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوئے دعا کی اور تکبیر و تہلیل کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اچھی طرح سفیدی ظاہر ہونے تک ٹھہرے رہے پھر سورج نکلنے سے پہلے واپس ہو کر وادی محسر کے نشیب میں آ گئے تو سواری کو کچھ تیز کر دیا۔ پھر درمیانی راستہ پر چلے جو جمرہ کبریٰ (بڑا شیطان) پر پہنچتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں، ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے تھے، ان میں سے ہر کنکری خذف (لوبیے کے دانے) کے برابر تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف گئے اور وہاں قربانی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 607]
«عَنْ» سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَجَّ» نے حج کیا – «فَخَرَجْنَا مَعَهُ» تو ہم آپ کے ساتھ نکلے – «حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا» یہاں تک کہ جب ہم پہنچے – «ذَا الْحُلَيْفَةِ» ذوالحلیفہ – «فَوَلَدَتْ» تو بچہ جنا – «أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ» اسماء بنت عمیس نے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «اغْتَسِلِي» غسل کر لو – «وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ» اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو – «وَأَحْرِمِي» اور احرام باندھ لو – «وَصَلَّى» اور نماز پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «الْقَصْوَاءَ» قصواء (اونٹنی) پر – «حَتَّى إِذَا» یہاں تک کہ جب – «اسْتَوَتْ بِهِ» وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی – «عَلَى الْبَيْدَاءِ» بیداء پر – «أَهَلَّ» آپ نے آواز بلند کی – «بِالتَّوْحِيدِ» توحید کے ساتھ: – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «لَا شَرِيكَ لَكَ» تیرا کوئی شریک نہیں – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «إِنَّ الْحَمْدَ» بے شک تعریف – «وَالنِّعْمَةَ» اور نعمت – «لَكَ» تیرے ہی لیے ہے – «وَالْمُلْكَ» اور بادشاہی (بھی) – «لَا شَرِيكَ لَكَ» تیرا کوئی شریک نہیں – «حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا» یہاں تک کہ جب ہم پہنچے – «الْبَيْتَ» بیت اللہ – «اسْتَلَمَ الرُّكْنَ» آپ نے رکن (حجر اسود) کا استلام کیا – «فَرَمَلَ» پھر رمل کیا – «ثَلَاثًا» تین (چکروں) میں – «وَمَشَى أَرْبَعًا» اور چار میں (عام) چلے – «ثُمَّ نَفَرَ» پھر آگے بڑھے – «إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ» مقام ابراہیم کی طرف – «فَصَلَّى» پس نماز پڑھی – «ثُمَّ رَجَعَ» پھر لوٹے – «إِلَى الرُّكْنِ» رکن کی طرف – «فَاسْتَلَمَهُ» پس اس کا استلام کیا – «ثُمَّ خَرَجَ» پھر نکلے – «مِنَ الْبَابِ» دروازے سے – «إِلَى الصَّفَا» صفا کی طرف – «فَلَمَّا دَنَا» پس جب قریب ہوئے – «مِنَ الصَّفَا» صفا کے – «قَرَأَ» پڑھا (اور فرمایا): – «أَبْدَأُ» میں شروع کرتا ہوں – «بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» اس سے جس سے اللہ نے شروع کیا – «فَرَقِيَ الصَّفَا» پھر صفا پر چڑھے – «حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ» یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا – «فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» پس قبلہ رخ ہوئے – «فَوَحَّدَ اللَّهَ» پس اللہ کی توحید بیان کی – «وَكَبَّرَهُ» اور اس کی بڑائی بیان کی – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «وَحْدَهُ» وہ اکیلا ہے – «لَا شَرِيكَ لَهُ» اس کا کوئی شریک نہیں – «لَهُ الْمُلْكُ» اسی کی بادشاہی ہے – «وَلَهُ الْحَمْدُ» اور اسی کی تعریف ہے – «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ» اور وہ ہر چیز پر – «قَدِيرٌ» قادر ہے – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «وَحْدَهُ» وہ اکیلا ہے – «أَنْجَزَ وَعْدَهُ» اس نے اپنا وعدہ پورا کیا – «وَنَصَرَ عَبْدَهُ» اور اپنے بندے کی مدد کی – «وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ» اور لشکروں کو شکست دی – «وَحْدَهُ» اکیلے – «ثُمَّ دَعَا» پھر دعا کی – «بَيْنَ ذَلِكَ» اس کے درمیان – «ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» تین مرتبہ – «ثُمَّ نَزَلَ» پھر اترے – «إِلَى الْمَرْوَةِ» مروہ کی طرف – «حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ» یہاں تک کہ جب اتر گئے – «قَدَمَاهُ» آپ کے دونوں قدم – «فِي بَطْنِ الْوَادِي» وادی کے نشیب میں – «سَعَى» تو دوڑے – «حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا» یہاں تک کہ جب وہ (قدم) چڑھنے لگے – «مَشَى» تو (عام رفتار سے) چلے – «حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ» یہاں تک کہ مروہ پر آئے – «فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ» پس مروہ پر کیا – «كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا» جیسے صفا پر کیا تھا – «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ» پھر (راوی نے) حدیث ذکر کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «فَلَمَّا كَانَ» پس جب ہوا – «يَوْمُ التَّرْوِيَةِ» ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) – «تَوَجَّهُوا» وہ متوجہ ہوئے – «إِلَى مِنًى» منیٰ کی طرف – «فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ» اور حج کا تلبیہ پکارا – «وَرَكِبَ» اور سوار ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَصَلَّى بِهَا» پس وہاں پڑھیں – «الظُّهْرَ» ظہر – «وَالْعَصْرَ» اور عصر – «وَالْمَغْرِبَ» اور مغرب – «وَالْعِشَاءَ» اور عشاء – «وَالْفَجْرَ» اور فجر – «ثُمَّ مَكَثَ» پھر ٹھہرے – «قَلِيلًا» تھوڑی دیر – «حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا – «فَأَجَازَ» پھر (مزدلفہ سے) آگے گزر گئے – «حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ» یہاں تک کہ عرفہ آئے – «فَوَجَدَ الْقُبَّةَ» تو خیمہ پایا – «قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ» جو آپ کے لیے لگا دیا گیا تھا – «بِنَمِرَةَ» نمرہ میں – «فَنَزَلَ بِهَا» پس وہاں اترے – «حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا – «أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ» قصواء کا حکم دیا – «فَرُحِلَتْ لَهُ» تو آپ کے لیے اس پر پالان کسا گیا – «فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي» پھر وادی کے نشیب میں آئے – «فَخَطَبَ النَّاسَ» پس لوگوں کو خطبہ دیا – «ثُمَّ أَذَّنَ» پھر اذان کہی گئی – «ثُمَّ أَقَامَ» پھر اقامت کہی گئی – «فَصَلَّى الظُّهْرَ» پس ظہر پڑھی – «ثُمَّ أَقَامَ» پھر اقامت کہی گئی – «فَصَلَّى الْعَصْرَ» پس عصر پڑھی – «وَلَمْ يُصَلِّ» اور نہیں پڑھی – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کے درمیان – «شَيْئًا» کوئی (نماز) – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ» یہاں تک کہ وقوف کی جگہ آئے – «فَجَعَلَ» پس کیا – «بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ» اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ – «إِلَى الصَّخَرَاتِ» چٹانوں کی طرف – «وَجَعَلَ» اور کیا – «حَبْلَ الْمُشَاةِ» پیدل چلنے والوں کے راستے (ریت کے ٹیلے) کو – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اپنے سامنے – «وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» اور قبلہ رخ ہوئے – «فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا» پس مسلسل ٹھہرے رہے – «حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا – «وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ» اور زردی چلی گئی – «قَلِيلًا» کچھ – «حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ» یہاں تک کہ ٹکیہ غائب ہو گئی – «وَدَفَعَ» اور (عرفہ سے) روانہ ہوئے – «وَقَدْ شَنَقَ» اور تحقیق کھینچ رکھی تھی – «لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ» قصواء کی مہار – «حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا» یہاں تک کہ اس کا سر – «لَيُصِيبُ» ضرور لگ رہا تھا – «مَوْرِكَ رَحْلِهِ» آپ کے پالان کے اگلے حصے (پاؤں رکھنے کی جگہ) سے – «وَيَقُولُ» اور فرما رہے تھے – «بِيَدِهِ الْيُمْنَى» اپنے دائیں ہاتھ سے (اشارہ کرتے ہوئے): – «أَيُّهَا النَّاسُ» اے لوگو – «السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ» اطمینان (اختیار کرو)، اطمینان – «كُلَّمَا أَتَى» جب بھی آتے – «حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ» ریت کے ٹیلوں میں سے کسی ٹیلے پر – «أَرْخَى لَهَا» اس (کی مہار) کو ڈھیلا کر دیتے – «قَلِيلًا» تھوڑا سا – «حَتَّى تَصْعَدَ» تاکہ وہ چڑھ جائے – «حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ» یہاں تک کہ مزدلفہ آئے – «فَصَلَّى بِهَا» پس وہاں پڑھیں – «الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ» مغرب اور عشاء – «بِأَذَانٍ وَاحِدٍ» ایک اذان – «وَإِقَامَتَيْنِ» اور دو اقامتوں کے ساتھ – «وَلَمْ يُسَبِّحْ» اور نفل نہیں پڑھے – «بَيْنَهُمَا شَيْئًا» ان دونوں کے درمیان کچھ بھی – «ثُمَّ اضْطَجَعَ» پھر لیٹ گئے – «حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ» یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی – «فَصَلَّى الْفَجْرَ» پس فجر پڑھی – «حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ» جب آپ کے لیے واضح ہو گئی – «الصُّبْحُ» صبح – «بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ» اذان اور اقامت کے ساتھ – «ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ» پھر قصواء پر سوار ہوئے – «حَتَّى أَتَى» یہاں تک کہ آئے – «الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ» مشعر حرام پر – «فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» پس قبلہ رخ ہوئے – «فَدَعَا» پس دعا کی – «وَكَبَّرَ» اور اللہ اکبر کہا – «وَهَلَّلَ» اور لا الہ الا اللہ کہا – «فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا» پس مسلسل ٹھہرے رہے – «حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا» یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی – «فَدَفَعَ» پھر روانہ ہوئے – «قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ» سورج طلوع ہونے سے پہلے – «حَتَّى أَتَى» یہاں تک کہ آئے – «بَطْنَ مُحَسِّرٍ» وادی محسر میں – «فَحَرَّكَ قَلِيلًا» تو (سواری کو) کچھ تیز کیا – «ثُمَّ سَلَكَ» پھر چلے – «الطَّرِيقَ الْوُسْطَى» درمیانے راستے پر – «الَّتِي تَخْرُجُ» جو نکلتا ہے – «عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى» بڑے جمرہ پر – «حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ» یہاں تک کہ اس جمرہ پر آئے – «الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ» جو درخت کے پاس ہے – «فَرَمَاهَا» پس اسے مارا – «بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ» سات کنکریوں سے – «يُكَبِّرُ» اللہ اکبر کہتے تھے – «مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا» ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ – «مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ» ٹھیکری (انگلیوں سے پھینکی جانے والی) کنکریوں جیسی – «رَمَى» آپ نے رمی کی – «مِنْ بَطْنِ الْوَادِي» وادی کے نشیب سے – «ثُمَّ انْصَرَفَ» پھر لوٹے – «إِلَى الْمَنْحَرِ» قربان گاہ کی طرف – «فَنَحَرَ» پس قربانی کی – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَأَفَاضَ» پس (طواف افاضہ کے لیے) روانہ ہوئے – «إِلَى الْبَيْتِ» بیت اللہ کی طرف – «فَصَلَّى بِمَكَّةَ» پس مکہ میں پڑھی – «الظُّهْرَ» ظہر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «مُطَوَّلًا» تفصیل کے ساتھ۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”غسل کر لو، کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو اور احرام باندھ لو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پھر قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو لے کر بیداء پر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے توحید والا تلبیہ بلند آواز سے پکارا: ”لبیک اللّٰہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک“ (میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ یہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے رکن (حجر اسود) کا استلام کیا، پھر تین چکروں میں رمل کیا اور چار میں عام رفتار سے چلے، پھر مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور نماز پڑھی، پھر رکن کی طرف لوٹ کر اس کا استلام کیا، پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے، جب صفا کے قریب ہوئے تو (آیت) پڑھی اور فرمایا: ”میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھ لیا، قبلہ رخ ہوئے، اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی اور فرمایا: ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی (کافروں کے) لشکروں کو شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان دعا کی، تین مرتبہ (ایسا کیا)، پھر مروہ کی طرف اترے، یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو دوڑے، اور جب (قدم) چڑھائی پر آئے تو عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پر آئے، اور مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا۔ پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: جب ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور وہاں (منیٰ میں) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آگے چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ اس میں اترے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کے بارے میں حکم دیا، اس پر پالان کسا گیا، پھر آپ وادی کے نشیب میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر اذان کہی گئی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے ظہر پڑھائی، پھر اقامت کہی گئی تو عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر سوار ہو کر وقوف کی جگہ آئے، اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں کی طرف کیا اور پیدل چلنے والوں کے راستے (ریت کے ٹیلے) کو اپنے سامنے رکھا اور قبلہ رخ ہو گئے، پھر مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور کچھ زردی بھی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیہ پوری طرح غائب ہو گئی، تب آپ روانہ ہوئے، اور آپ نے قصواء کی مہار اس قدر کھینچ رکھی تھی کہ اس کا سر آپ کے پالان کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا، اور آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اطمینان سے، اطمینان سے۔“ جب بھی ریت کے کسی ٹیلے پر آتے تو اس کی مہار تھوڑی ڈھیلی کر دیتے تاکہ وہ چڑھ جائے، یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھے، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، اور جب صبح واضح ہو گئی تو اذان اور اقامت کے ساتھ فجر پڑھی، پھر قصواء پر سوار ہو کر مشعر حرام آئے، قبلہ رخ ہوئے، دعا کی، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہا، اور مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہوئے یہاں تک کہ وادی محسر میں آئے تو (سواری کو) کچھ تیز کیا، پھر درمیانے راستے پر چلے جو بڑے جمرہ پر نکلتا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، (کنکریاں) ٹھیکری کی کنکریوں جیسی (چھوٹی) تھیں، آپ نے وادی کے نشیب سے رمی کی، پھر قربان گاہ کی طرف لوٹے اور قربانی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف (طواف افاضہ کے لیے) روانہ ہوئے اور ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 607]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”غسل کر لو، کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو اور احرام باندھ لو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پھر قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو لے کر بیداء پر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے توحید والا تلبیہ بلند آواز سے پکارا: ”لبیک اللّٰہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک“ (میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ یہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے رکن (حجر اسود) کا استلام کیا، پھر تین چکروں میں رمل کیا اور چار میں عام رفتار سے چلے، پھر مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور نماز پڑھی، پھر رکن کی طرف لوٹ کر اس کا استلام کیا، پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے، جب صفا کے قریب ہوئے تو (آیت) پڑھی اور فرمایا: ”میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھ لیا، قبلہ رخ ہوئے، اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی اور فرمایا: ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی (کافروں کے) لشکروں کو شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان دعا کی، تین مرتبہ (ایسا کیا)، پھر مروہ کی طرف اترے، یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو دوڑے، اور جب (قدم) چڑھائی پر آئے تو عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پر آئے، اور مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا۔ پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: جب ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور وہاں (منیٰ میں) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آگے چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ اس میں اترے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کے بارے میں حکم دیا، اس پر پالان کسا گیا، پھر آپ وادی کے نشیب میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر اذان کہی گئی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے ظہر پڑھائی، پھر اقامت کہی گئی تو عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر سوار ہو کر وقوف کی جگہ آئے، اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں کی طرف کیا اور پیدل چلنے والوں کے راستے (ریت کے ٹیلے) کو اپنے سامنے رکھا اور قبلہ رخ ہو گئے، پھر مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور کچھ زردی بھی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیہ پوری طرح غائب ہو گئی، تب آپ روانہ ہوئے، اور آپ نے قصواء کی مہار اس قدر کھینچ رکھی تھی کہ اس کا سر آپ کے پالان کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا، اور آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اطمینان سے، اطمینان سے۔“ جب بھی ریت کے کسی ٹیلے پر آتے تو اس کی مہار تھوڑی ڈھیلی کر دیتے تاکہ وہ چڑھ جائے، یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھے، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، اور جب صبح واضح ہو گئی تو اذان اور اقامت کے ساتھ فجر پڑھی، پھر قصواء پر سوار ہو کر مشعر حرام آئے، قبلہ رخ ہوئے، دعا کی، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہا، اور مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہوئے یہاں تک کہ وادی محسر میں آئے تو (سواری کو) کچھ تیز کیا، پھر درمیانے راستے پر چلے جو بڑے جمرہ پر نکلتا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، (کنکریاں) ٹھیکری کی کنکریوں جیسی (چھوٹی) تھیں، آپ نے وادی کے نشیب سے رمی کی، پھر قربان گاہ کی طرف لوٹے اور قربانی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف (طواف افاضہ کے لیے) روانہ ہوئے اور ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب حجة النبي صلي الله عليه وسلم، حديث:1218.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 608
وعن خزيمة بن ثابت رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا فرغ من تلبيته في حج أو عمرة سأل الله رضوانه والجنة واستعاذ برحمته من النار. رواه الشافعي بإسناد ضعيف.
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج یا عمرہ میں تلبیہ (یعنی لبیک) کہنے سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضامندی اور جنت طلب کرتے اور اس کی رحمت کے ساتھ آگ سے پناہ مانگتے۔ اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 608]
«وَعَنْ» اور سے – «خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ» خزیمہ بن ثابت – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ» تھے (کہ) – «إِذَا فَرَغَ» جب فارغ ہوتے – «مِنْ تَلْبِيَتِهِ» اپنے تلبیہ سے – «فِي حَجٍّ» حج میں – «أَوْ عُمْرَةٍ» یا عمرہ میں – «سَأَلَ اللَّهَ» اللہ سے مانگتے – «رِضْوَانَهُ» اس کی رضا مندی – «وَالْجَنَّةَ» اور جنت – «وَاسْتَعَاذَ» اور پناہ مانگتے – «بِرَحْمَتِهِ» اس کی رحمت کے ذریعے – «مِنَ النَّارِ» آگ سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الشَّافِعِيُّ» شافعی نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج یا عمرہ میں اپنے تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا مندی اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی رحمت کے ذریعے آگ سے پناہ مانگتے۔ اسے شافعی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 608]
اور سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج یا عمرہ میں اپنے تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا مندی اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی رحمت کے ذریعے آگ سے پناہ مانگتے۔ اسے شافعی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: «أخرجه الشافعي في الأم:2 /157 عن إبراهيم بن محمد الأسلمي عن صالح بن محمد بن زائدة عن عمارة بن خزيمة عن أبيه به. * إبراهيم متروك وشيخه منكر الحديث كما قال البخاري رحمه الله.»
الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
حدیث نمبر: 609
وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «نحرت هاهنا ومنى كلها منحر فانحروا في رحالكم ووقفت هاهنا وعرفة كلها موقف ووقفت ههنا وجمع كلها موقف» . رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے قربانی اس جگہ کی ہے، مگر منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے۔ لہذا تم اپنے اپنے ٹھہرنے کے مقامات پر قربانی کر دو اور میں نے اس جگہ قیام کیا ہے مگر عرفات کا سارا میدان جائے قیام ہے اور میں نے یہاں قیام کیا مگر مزدلفہ سارا جائے قیام ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 609]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَحَرْتُ» میں نے قربانی کی – «هَاهُنَا» یہاں – «وَمِنًى كُلُّهَا» اور پورا منیٰ – «مَنْحَرٌ» قربان گاہ ہے – «فَانْحَرُوا» پس قربانی کرو – «فِي رِحَالِكُمْ» اپنے ٹھکانوں میں – «وَوَقَفْتُ» اور میں ٹھہرا – «هَاهُنَا» یہاں – «وَعَرَفَةُ كُلُّهَا» اور پورا عرفہ – «مَوْقِفٌ» ٹھہرنے کی جگہ ہے – «وَوَقَفْتُ» اور میں ٹھہرا – «هَاهُنَا» یہاں – «وَجَمْعٌ كُلُّهَا» اور پورا مزدلفہ – «مَوْقِفٌ» ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہاں قربانی کی ہے اور پورا منیٰ قربان گاہ ہے، لہٰذا اپنے اپنے ٹھکانوں میں قربانی کرو، اور میں یہاں ٹھہرا ہوں اور پورا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور میں یہاں ٹھہرا ہوں اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 609]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہاں قربانی کی ہے اور پورا منیٰ قربان گاہ ہے، لہٰذا اپنے اپنے ٹھکانوں میں قربانی کرو، اور میں یہاں ٹھہرا ہوں اور پورا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور میں یہاں ٹھہرا ہوں اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب ما جاء أن عرفة كلها موقف، حديث:149-(1218).»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 610
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم لما جاء إلى مكة دخلها من أعلاها وخرج من أسفلها.متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو اس موقع پر مکہ کی بالائی جانب سے داخل ہوئے اور جب واپس جانے کے لیے مکہ سے نکلے تو زیریں حصے سے نکلے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 610]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَمَّا جَاءَ» جب آئے – «إِلَى مَكَّةَ» مکہ کی طرف – «دَخَلَهَا» اس میں داخل ہوئے – «مِنْ أَعْلَاهَا» اس کی بلند جانب سے – «وَخَرَجَ» اور نکلے – «مِنْ أَسْفَلِهَا» اس کی نچلی جانب سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو اس کی بلند جانب سے داخل ہوئے اور نچلی جانب سے نکلے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 610]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو اس کی بلند جانب سے داخل ہوئے اور نچلی جانب سے نکلے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب من أين يخرج من مكة، حديث:1578، ومسلم، الحج، باب استحباب دخول مكة من الثنية العليا، حديث:1258.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 611
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أنه كان لا يقدم مكة إلا بات بذى طوى حتى يصبح ويغتسل ويذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم. متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ میں آتے تو ذی طویٰ میں صبح تک شب بسر کرتے اور غسل کرتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 611]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّهُ كَانَ» کہ وہ (ایسے) تھے – «لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ» مکہ نہیں آتے تھے – «إِلَّا بَاتَ» مگر رات گزارتے – «بِذِي طُوًى» ذی طویٰ میں – «حَتَّى يُصْبِحَ» یہاں تک کہ صبح کرتے – «وَيَغْتَسِلَ» اور غسل کرتے – «وَيَذْكُرُ ذَلِكَ» اور یہ ذکر کرتے تھے – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی اور غسل کرتے، اور وہ یہ (عمل) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 611]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی اور غسل کرتے، اور وہ یہ (عمل) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الاغتسال عند دخول مكة، حديث:1573، ومسلم، الحج، باب استحباب الميت بذي طوي، حديث:1259.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 612
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أنه كان يقبل الحجر الأسود ويسجد عليه. رواه الحاكم مرفوعا والبيهفي موقوفا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس کے سامنے سجدہ کرتے۔ اسے حاکم نے مرفوع اور بیہقی نے موقوف روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 612]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّهُ كَانَ» کہ وہ – «يُقَبِّلُ» بوسہ دیتے تھے – «الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ» حجر اسود کو – «وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ» اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ – «رَوَاهُ الْحَاكِمُ» اسے حاکم نے روایت کیا – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً – «وَالْبَيْهَقِيُّ» اور بیہقی نے – «مَوْقُوفًا» موقوفاً۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس پر سجدہ کرتے (یعنی پیشانی رکھتے) تھے۔ اسے حاکم نے مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر) اور بیہقی نے موقوفاً (ابن عباس کے عمل کے طور پر) روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 612]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس پر سجدہ کرتے (یعنی پیشانی رکھتے) تھے۔ اسے حاکم نے مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر) اور بیہقی نے موقوفاً (ابن عباس کے عمل کے طور پر) روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:1 /455 وصححه، ووافقه الذهبي، والدارقطني:2 /289، والمرفوع والموقوف صحيحان كلاهما.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 613
وعنه رضي الله عنه قال: أمرهم النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يرملوا ثلاثة أشواط ويمشوا أربعا ما بين الركنين. متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں رکنوں کے درمیان چار چکر عام معمول کے مطابق چل کر لگائیں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 613]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَمَرَهُمُ النَّبِيُّ» نبی نے انہیں حکم دیا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ يَرْمُلُوا» کہ وہ رمل کریں – «ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ» تین چکروں میں – «وَيَمْشُوا أَرْبَعًا» اور چار (چکروں) میں چلیں – «مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ» دونوں رکنوں کے درمیان۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (صحابہ کو) حکم دیا کہ وہ تین چکروں میں رمل کریں اور چار چکروں میں دونوں رکنوں کے درمیان (عام رفتار سے) چلیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 613]
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (صحابہ کو) حکم دیا کہ وہ تین چکروں میں رمل کریں اور چار چکروں میں دونوں رکنوں کے درمیان (عام رفتار سے) چلیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب كيف بدء الرمل، حديث:1602، ومسلم، الحج، باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة، حديث:1264.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 614
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أنه كان إذا طاف بالبيت الطواف الأول خب ثلاثا ومشى أربعا. وفي رواية: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا طاف في الحج أو العمرة أول ما يقدم فإنه يسعى ثلاثة أطواف بالبيت ويمشي أربعة. متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی بیت اللہ کا طواف قدوم (پہلا طواف) کرتے تو اس کے پہلے تین چکروں میں پہلوانوں کی سی چال چلتے اور (باقی) چار میں آہستہ چلتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں) میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج یا عمرہ کے لئے بھی جب طواف قدوم کیا تو اس کے پہلے تین چکر دوڑ کر لگائے اور باقی چار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ چال چلتے۔ (متفق علیہ) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 614]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّهُ كَانَ» کہ وہ – «إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ» جب بیت اللہ کا طواف کرتے – «الطَّوَافَ الْأَوَّلَ» پہلا طواف – «خَبَّ ثَلَاثًا» تین (چکروں) میں تیز چلتے – «وَمَشَى أَرْبَعًا» اور چار میں (عام) چلتے – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ» میں نے اللہ کے رسول کو دیکھا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا طَافَ» جب طواف کرتے – «فِي الْحَجِّ» حج میں – «أَوِ الْعُمْرَةِ» یا عمرہ میں – «أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ» جب پہلی بار آتے – «فَإِنَّهُ يَسْعَى» تو بے شک آپ تیز چلتے – «ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ» تین چکر – «بِالْبَيْتِ» بیت اللہ کے – «وَيَمْشِي أَرْبَعَةً» اور چار میں (عام) چلتے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز چلتے اور چار میں عام رفتار سے چلتے۔ اور ایک روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ حج یا عمرہ میں پہلی بار آ کر طواف کرتے تو بیت اللہ کے تین چکروں میں تیز چلتے اور چار میں عام رفتار سے چلتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 614]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز چلتے اور چار میں عام رفتار سے چلتے۔ اور ایک روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ حج یا عمرہ میں پہلی بار آ کر طواف کرتے تو بیت اللہ کے تین چکروں میں تیز چلتے اور چار میں عام رفتار سے چلتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب استلام الحجر الأسود، حديث:1603، ومسلم، الحج، باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة، حديث:1261.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 615
وعنه رضي الله عنه قال: لم أر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يستلم من البيت غير الركنين اليمانيين. رواه مسلم.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی اس کے راوی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے دونوں یمانی رکنوں کے بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 615]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَمْ أَرَ» میں نے نہیں دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْتَلِمُ» استلام کرتے ہوئے – «مِنَ الْبَيْتِ» بیت اللہ میں سے – «غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ» دونوں یمانی رکنوں کے سوا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ کے دونوں یمانی رکنوں (رکن یمانی اور حجر اسود) کے سوا کسی حصے کا استلام کرتے نہیں دیکھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 615]
اور انہی (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ کے دونوں یمانی رکنوں (رکن یمانی اور حجر اسود) کے سوا کسی حصے کا استلام کرتے نہیں دیکھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب استحباب استلام الركنين اليمنانيين في الطواف، حديث:1269.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 616
وعن عمر رضي الله عنه: أنه قبل الحجر وقال: إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقبلك ما قبلتك. متفق عليه.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تو پتھر ہے کسی قسم کے نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 616]
«وَعَنْ» اور سے – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ» کہ انہوں نے حجر (اسود) کو بوسہ دیا – «وَقَالَ» اور کہا: – «إِنِّي أَعْلَمُ» بے شک میں جانتا ہوں – «أَنَّكَ حَجَرٌ» کہ تو ایک پتھر ہے – «لَا تَضُرُّ» نہ نقصان دیتا ہے – «وَلَا تَنْفَعُ» اور نہ نفع دیتا ہے – «وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ» اور اگر میں نے نہ دیکھا ہوتا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُقَبِّلُكَ» تجھے بوسہ دیتے ہوئے – «مَا قَبَّلْتُكَ» تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان دے سکتا ہے اور نہ نفع، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 616]
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان دے سکتا ہے اور نہ نفع، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 616]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب ما ذكر في الحجر الأسود، حديث:1597، ومسلم، الحج، باب استحباب تقبيل الحجر الأسود في الطواف، حديث:1270.»
الحكم على الحديث:
صحيح