🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
وعن أبي الطفيل قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يطوف بالبيت ويستلم الركن بمحجن معه ويقبل المحجن. رواه مسلم.
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوکیلے سرے والی چھڑی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، (اس) سے حجر اسود کو چھوتے اور اس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب جواز الطواف علي بعير وغيره، حديث:1275.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
وعن يعلى بن أمية قال: طاف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مضطبعا ببرد أخضر. رواه الخمسة إلا النسائي وصححه الترمذي.
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سبز چادر میں طواف کیا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال رکھا تھا۔ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 618]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب الاضطباع في الطواف، حديث:1883، والترمذي، الحج، حديث:859، وابن ماجه، المناسك، حديث:2954، وأحمد:4 /224. ابن جريج والثوري مدلسان وعنعنا.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
وعن أنس رضي الله عنه قال: كان يهل منا المهل فلا ينكر عليه ويكبر منا المكبر فلا ينكر عليه. متفق عليه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ «لا إله إلا الله» کہتے تھے، اسے بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا اور بعض ہم میں سے تکبیریں کہتے تھے ان کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب التلبية والتكبير إذا غدا من مني إلي عرفة، حديث:1659، ومسلم، الحج، باب التلبية والتكبير في الذهاب من مني إلي عرفات في يوم عرفة، حديث:1285.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الثقل, أو قال في الضعفة من جمع () بليل. متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافروں کے سامان کے ساتھ (یا فرمایا) کہ کمزوروں کے ساتھ رات ہی کو مزدلفہ سے (منیٰ کی جانب) بھیج دیا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب من قدم ضعفة أهله بليل.....، حديث:1677، ومسلم، الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغير هن من مزدلفة إلي مني...، حديث:1293.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: استأذنت سودة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ليلة المزدلفة أن تدفع قبله وكانت ثبطة تعني ثقيلة فأذن لها. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے واپس آ جائیں (یہ اجازت انہوں نے اس لئے طلب کی) کہ بھاری جسم والی تھیں۔ (اس وجہ سے آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر چلتی تھیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب من قدم ضعفة أهله بليل....، حديث:1681، ومسلم، الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مذدلفة إلي مني...، حديث:1290.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس» ‏‏‏‏. رواه الخمسة إلا النسائي وفيه انقطاع.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ طلوع آفتاب سے پہلے کنکریاں نہ مارو۔ اسے نسائی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اس کی سند میں انقطاع ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب التعجيل من جمع، حديث:1940، والترمذي، الحج، حديث:893، وابن ماجه، المناسك، حديث:3025، وأحمد:1 /234، 277 "الحسن العريني أرسل عن ابن عباس" كما في التقريب (1252)، وللحديث شواهد ضعيفة.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 623
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: أرسل النبي صلى الله عليه وآله وسلم بأم سلمة ليلة النحر فرمت الجمرة قبل الفجر ثم مضت فأفاضت.رواه أبو داود وإسناده على شرط مسلم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو قربانی والی رات پہلے بھیج دیا تھا۔ انہوں نے فجر کے طلوع ہونے سے پہلے کنکریاں ماریں پھر جا کر طواف افاضہ کیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب التعجيل من جمع، حديث:1942.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 624
وعن عروة بن مضرس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من شهد صلاتنا هذه يعني بالمزدلفة فوقف معنا حتى ندفع وقد وقف بعرفة قبل ذلك ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه» ‏‏‏‏. رواه الخمسة وصححه الترمذي وابن خزيمة.
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی مزدلفہ میں ہماری نماز میں شامل ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ ہم نے کوچ کیا اور اس سے قبل عرفات میں رات یا دن میں قیام کر چکا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل اتار لی۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب من لم يدرك عرفة، حديث:1950، والترمذي، الحج، حديث:891، والنسائي، مناسك الحج، حديث:3042، وابن ماجه، المناسك، حديث:3016، وأحمد:4 /261، وابن خزيمة:4 /256، وابن حبان(الإحسان):6 /61، حديث:3839، 3840، والحاكم:1 /463 وصححه، ووافقه الذهبي.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 625
وعن عمر رضي عنه قال: إن المشركين كانوا لا يفيضون حتى تطلع الشمس ويقولون: أشرق ثبير وإن النبي صلى الله عليه وآله وسلم خالفهم فأفاض قبل أن تطلع الشمس. رواه البخاري.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مشرکین طلوع آفتاب کے بعد واپس لوٹتے تھے اور کہتے تھے، ثبیر (ایک پہاڑ کا نام) روشن ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے تشریف لے آئے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب متي يدفع من جمع، حديث:1684.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 626
وعن ابن عباس وأسامة بن زيد رضي الله عنهم قالا: لم يزل للنبي صلى الله عليه وآله وسلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة. رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما دونوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ (چھوٹا شیطان) کو کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب التلبية والتكبير غداة النحر، حديث:1685.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں