بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب الربا
سود کا بیان
حدیث نمبر: 705
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه شيء حتى ترجعوا إلى دينكم» . رواه أبو داود من رواية نافع عنه، وفي إسناده مقال، ولأحمد نحوه من رواية عطاء، ورجاله ثقات، وصححه ابن القطان.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم عینہ کی تجارت کرنے لگو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑنے لگو گے اور زراعت کو پسند کرو گے اور جہاد کو ترک کر دو گے تو (اس وقت) اللہ تعالیٰ تم پر ذلت و خواری مسلط کر دے گا۔ اس (ذلت) کو تم سے اس وقت تک دور نہیں فرمائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف پلٹ نہیں آؤ گے۔“ اسے ابوداؤد نے نافع کی روایت سے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے اور مسند احمد میں مروی عطا رحمہ اللہ کی روایت میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں اور ابن قطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 705]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في النهي عن العنية، حديث:3462، وأحمد:2 /28، وللحديث شواهد ضعيفة. إسحاق بن أسيد ضيعف علي الراجح.»
حدیث نمبر: 706
وعن أبي أمامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من شفع لأخيه شفاعة فأهدى له هدية فقبلها فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا» . رواه أحمد وأبو داود وفي إسناده مقال.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جس کسی نے اپنے بھائی کے لیے کوئی سفارش کی (اس کے بعد) وہ اسے کوئی تحفہ دے اور وہ اسے قبول کر لے تو وہ سود کے بہت ہی بڑے دروازے پر پہنچ گیا۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 706]
تخریج الحدیث: « أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الهداية لقضاء الحاجة، حديث:3541، وأحمد:5 /261..»
حدیث نمبر: 707
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الراشي والمرتشي. رواه أبو داود والترمذي وصححه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 707]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الضاء باب في كراهية الرشوة، حديث:3580، والترمذي، الأحكام، حديث:1337.»
حدیث نمبر: 708
وعنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمره أن يجهز جيشا فنفدت الإبل فأمره أن يأخذ على قلائص الصدقة قال: فكنت آخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة. رواه الحاكم والبيهقي ورجاله ثقات.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ اونٹ ختم ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں پر (ادھار اونٹ) لینے کا حکم ارشاد فرمایا راوی کہتے ہیں میں ایک اونٹ، صدقہ کے دو اونٹوں کے بدلہ لیتا تھا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اس کے ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 708]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:2 /57، والبيهقي:5 /288، وأبوداود، البيوع، حديث:3357.»
حدیث نمبر: 709
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن المزابنة: أن يبيع ثمر حائطه إن كان نخلا بتمر كيلا وإن كان كرما أن يبيعه بزبيب كيلا وإن كان زرعا أن يبيعه بكيل طعام نهى عن ذلك كله.متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں سے، یا تازہ انگوروں کو کشمش و منقی سے ماپ کر سودا کرے اور اگر کھیتی ہو تو اس کا سودا غلہ سے کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب صورتوں میں ہونے والی بیع سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 709]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الزبيب بالزبيب، حديث:2171، ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا، حديث:1542.»
حدیث نمبر: 710
وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسأل عن اشتراء الرطب بالتمر فقال: «أينقص الرطب إذا يبس؟» قالوا: نعم فنهى عن ذلك. رواه الخمسة وصححه ابن المديني والترمذي وابن حبان والحاكم.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جا رہا تھا کہ تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے میں فروخت کی جا سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کیا وہ خشک ہو کر وزن میں کم رہ جاتی ہیں؟“ لوگوں نے کہا ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن مدینی، ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 710]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في التمر بالتمر، حديث:3359، والترمذي، البيوع، حديث:1225، والنسائي، البيوع، حديث:4549، وابن ماجه، التجارات، حديث:2264، وأحمد:1 /175، 179، وابن حبان (الإحسان):7 /234، حديث:4982، والحاكم:2 /38.»
حدیث نمبر: 711
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الكالىء بالكالىء. يعني الدين بالدين. رواه إسحاق والبزار بإسناد ضعيف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کے بدلہ ادھار یعنی قرض کے بدلہ قرض کو فروخت کرنا ممنوع فرمایا ہے۔ اسے اسحٰق اور بزار نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار، كشف الأستار:1 /91، 92.* فيه موسي بن عبيدة وهو ضعيف.»