بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب الرخصة في العرايا وبيع الأصول والثمار
بیع عرایا، درختوں اور (ان کے) پھلوں کی بیع میں رخصت
حدیث نمبر: 712
عن زيد بن ثابت رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رخص في العرايا أن تباع بخرصها كيلا. متفق عليه. ولمسلم: رخص في العرية يأخذها أهل البيت بخرصها تمرا يأكلونها رطبا.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ ان کو اندازہ سے ماپ کر فروخت کر دیا جائے۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ میں رخصت دی کہ گھر والے اندازے سے خشک کھجور دے کر کھانے کیلئے تازہ کھجوریں حاصل کر لیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 712]
«عَنْ» سے – «زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ» زید بن ثابت – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَخَّصَ» رخصت دی – «فِي الْعَرَايَا» عرایا میں – «أَنْ تُبَاعَ» کہ انہیں بیچا جائے – «بِخَرْصِهَا» ان کے اندازے کے مطابق – «كَيْلًا» ماپ کر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «رَخَّصَ» آپ نے رخصت دی – «فِي الْعَرِيَّةِ» عریہ میں – «يَأْخُذُهَا» جسے لے لیں – «أَهْلُ الْبَيْتِ» گھر والے – «بِخَرْصِهَا» اس کے اندازے کے برابر – «تَمْرًا» خشک کھجور کے بدلے – «يَأْكُلُونَهَا» وہ اسے کھاتے ہیں – «رُطَبًا» تازہ کھجور کی صورت میں۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ ان (درخت پر لگی کھجوروں) کو اندازے کے مطابق ماپ کر (خشک کھجور کے بدلے) بیچا جائے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: آپ نے عریہ میں رخصت دی کہ گھر والے اسے اندازے کے برابر خشک کھجور کے بدلے لے لیں اور اسے تازہ کھجور کی صورت میں کھائیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 712]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ ان (درخت پر لگی کھجوروں) کو اندازے کے مطابق ماپ کر (خشک کھجور کے بدلے) بیچا جائے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: آپ نے عریہ میں رخصت دی کہ گھر والے اسے اندازے کے برابر خشک کھجور کے بدلے لے لیں اور اسے تازہ کھجور کی صورت میں کھائیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 712]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب تفسير العرايا، حديث:2192، ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا، حديث:1539 /64.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 713
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه: أن رسول الله رخص في بيع العرايا بخرصها فيما دون خمسة أوسق أو في خمسة أوسق. متفق عليه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا میں اجازت و رخصت عنایت فرما دی۔ بایں صورت کہ تازہ کھجوروں کو خشک کے عوض اندازے سے فروخت کر لیا جائے، جبکہ یہ پانچ وسق کی مقدار سے کم ہوں، یا پھر پانچ وسق ہوں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 713]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «رَخَّصَ» رخصت دی – «فِي بَيْعِ الْعَرَايَا» عرایا کی بیع میں – «بِخَرْصِهَا» ان کے اندازے کے ساتھ – «فِيمَا دُونَ» اس میں جو کم ہو – «خَمْسَةِ أَوْسُقٍ» پانچ وسق سے – «أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ» یا پانچ وسق میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرایا کی بیع میں اندازے کے ساتھ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک میں رخصت دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 713]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرایا کی بیع میں اندازے کے ساتھ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک میں رخصت دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 713]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمر علي رؤوس النخل بالذهب أو الفضة، حديث:2190، ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا، حديث:1541.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 714
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها نهى البائع والمبتاع. متفق عليه. وفي رواية: وكان إذا سئل عن صلاحها قال: حتى تذهب عاهتها.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے والے اور خریدار دونوں کو ان کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا کہ پھلوں کے پکنے کی صلاحیت سے کیا مراد ہے؟ تو فرماتے ”جب ان پر آفت اور نقصان کا اندیشہ نہ رہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 714]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ» پھلوں کو بیچنے سے – «حَتَّى يَبْدُوَ» یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے – «صَلَاحُهَا» ان کا (پکنے کے قابل) درست ہونا – «نَهَى» آپ نے منع فرمایا – «الْبَائِعَ» بیچنے والے کو – «وَالْمُبْتَاعَ» اور خریدنے والے کو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «وَكَانَ» اور آپ (کا طریقہ) تھا – «إِذَا سُئِلَ» جب پوچھا جاتا – «عَنْ صَلَاحِهَا» ان کے درست ہونے کے بارے میں – «قَالَ» تو فرماتے: – «حَتَّى تَذْهَبَ» یہاں تک کہ چلی جائے – «عَاهَتُهَا» ان کی آفت۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: جب آپ سے ان کی پختگی کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے: ”یہاں تک کہ ان کی آفت (کا خطرہ) ختم ہو جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 714]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: جب آپ سے ان کی پختگی کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے: ”یہاں تک کہ ان کی آفت (کا خطرہ) ختم ہو جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 714]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمارقبل أن يبدو صلاحها، حديث:2194، ومسلم، البيوع، باب النهي عن بيع الثمار قبل بدو صلاحها، حديث:1534.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 715
وعن أنس بن مالك رضي الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الثمار حتى تزهى. قيل: وما زهوها؟ قال: «تحمار وتصفار» . متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع فرمایا ہے۔ کہا گیا کہ پکنے سے کیا مراد ہے؟ ارشاد فرمایا کہ ”وہ سرخ رنگ کا ہو جائے اور پھر زرد رنگ کا“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 715]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ» پھلوں کو بیچنے سے – «حَتَّى تُزْهِيَ» یہاں تک کہ وہ رنگ پکڑ لیں۔ – «قِيلَ» کہا گیا: – «وَمَا زَهْوُهَا» اور ان کا رنگ پکڑنا کیا ہے؟ – «قَالَ» فرمایا: – «تَحْمَارُّ» سرخ ہو جائیں – «وَتَصْفَارُّ» اور زرد ہو جائیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ» اور الفاظ بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو رنگ پکڑنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ پوچھا گیا: ان کا رنگ پکڑنا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ سرخ اور زرد ہو جائیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 715]
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو رنگ پکڑنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ پوچھا گیا: ان کا رنگ پکڑنا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ سرخ اور زرد ہو جائیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 715]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمار قبل أن يبدو صلاحها، حديث:2195، ومسلم، المساقاة، باب وضع الجوائح، حديث:1555.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 716
وعنه رضي الله تعالى عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع العنب حتى يسود وعن بيع الحب حتى يشتد. رواه الخمسة إلا النسائي وصححه ابن حبان والحاكم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی اس کے بھی راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو سیاہ رنگ اختیار کرنے سے پہلے اور دانے کو سخت ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 716]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ» انگور بیچنے سے – «حَتَّى يَسْوَدَّ» یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے – «وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ» اور دانے (غلے) بیچنے سے – «حَتَّى يَشْتَدَّ» یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگور کو سیاہ ہونے سے پہلے اور غلے کو سخت ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 716]
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگور کو سیاہ ہونے سے پہلے اور غلے کو سخت ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في بيع الثمار قبل أن يبدو صلاحها، حديث:3371، والترمذي، البيوع، حديث:1228، وابن ماجه، التجارات، حديث:2217، وأحمد:3 /221، وابن حبان (الإحسان):7 /231 /حديث:4972، والحاكم:2 /19، حميد الطويل مدلس وعنعن.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 717
وعن جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لو بعت من أخيك تمرا فأصابته جائحة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق؟» . رواه مسلم. وفي رواية له: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمر بوضع الجوائح.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تو اپنے بھائی کے ہاتھ پھل فروخت کرے اور اسے کوئی آفت و مصیبت پہنچ جائے تو تیرے لئے اس سے کچھ بھی وصول کرنا حلال نہیں۔ بغیر کسی حق کے اپنے بھائی کا مال کیسے حاصل کرے گا؟“ (مسلم) مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات کے مقابلہ میں قیمتیں وضع کرنے کا حکم دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 717]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَوْ بِعْتَ» اگر تم بیچو – «مِنْ أَخِيكَ» اپنے بھائی کو – «تَمْرًا» کھجور (کا پھل) – «فَأَصَابَتْهُ» پھر اسے پہنچ جائے – «جَائِحَةٌ» کوئی آفت – «فَلَا يَحِلُّ لَكَ» تو تمہارے لیے حلال نہیں – «أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ» کہ تم اس سے لو – «شَيْئًا» کچھ بھی – «بِمَ تَأْخُذُ» تم کس چیز کے بدلے لو گے – «مَالَ أَخِيكَ» اپنے بھائی کا مال – «بِغَيْرِ حَقٍّ» ناحق؟ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ» اور اسی (مسلم) کی ایک روایت میں ہے: – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَمَرَ» حکم دیا – «بِوَضْعِ» معاف کر دینے (ساقط کرنے) کا – «الْجَوَائِحِ» آفتوں (کے نقصان) کو۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنے بھائی کو (درخت پر لگی) کھجوریں بیچو، پھر ان پر کوئی آفت آ جائے تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اس سے کچھ بھی لو، تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے ناحق لو گے؟“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آفتوں کے نقصان کو (خریدار سے) ساقط کرنے کا حکم دیا۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 717]
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنے بھائی کو (درخت پر لگی) کھجوریں بیچو، پھر ان پر کوئی آفت آ جائے تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اس سے کچھ بھی لو، تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے ناحق لو گے؟“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آفتوں کے نقصان کو (خریدار سے) ساقط کرنے کا حکم دیا۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب وضع الجوائح، حديث:1554.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 718
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من ابتاع نخلا بعد أن تؤبر فثمرتها للذي باعها إلا أن يشترط المبتاع» . متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے کھجور کے درخت پیوند کاری کے عمل کے بعد خریدے تو اس صورت میں پھل فروخت کرنے والے کے ہوں گے۔ الایہ کہ خریدار پھل کی شرط کر لے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 718]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «مَنِ ابْتَاعَ» جس نے خریدا – «نَخْلًا» کھجور کا درخت – «بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ» اس کے بعد کہ اس کی پیوند کاری کر دی گئی ہو – «فَثَمَرَتُهَا» تو اس کا پھل – «لِلَّذِي بَاعَهَا» اس کا ہے جس نے اسے بیچا – «إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ» مگر یہ کہ شرط لگا لے – «الْمُبْتَاعُ» خریدار۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدار (پھل کی) شرط لگا لے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 718]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدار (پھل کی) شرط لگا لے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المساقاة، باب الرجل يكون له ممر أو شرب في حائط أو في نخل، حديث:2379، ومسلم، البيوع، باب من باع نخلاً عليها تمر، حديث:1543.»
الحكم على الحديث:
صحيح