صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ بَعْثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ- عَلَيْهِ السَّلاَمُ- وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ:
باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
حدیث نمبر: 4349
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ، فَقَالَ:" مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ"، فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ، قَالَ: فَغَنِمْتُ أَوَاقٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ.
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن بھیجا، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4349]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یمن کی طرف روانہ کیا۔ پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تعینات فرمایا، نیز حکم دیا: ”خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے کہہ دو کہ ان میں سے جو تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ لوٹ جائے اور جو چاہے (مدینہ) واپس چلا جائے۔“ (حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن لوٹ گئے تھے اور مجھے کئی اوقیہ چاندی مال غنیمت سے حاصل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4350
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" يَا بُرَيْدَةُ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" لَا تُبْغِضْهُ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن سوید بن منجوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا (بریدہ) کیا تمہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4350]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس خمس لینے کے لیے بھیجا اور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ناراض رہتا تھا جبکہ انہوں نے وہاں غسل کیا۔ میں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ دیکھتے ہیں کہ علی نے کیا کیا ہے؟“ پھر جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بریدہ! کیا تو علی سے ناراض رہتا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم علی سے عداوت نہ رکھو کیونکہ اس کا مال خمس میں اس سے زیادہ حق ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4351
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، قَالَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ، وَأَقْرَعَ بْنِ حابِسٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً؟" قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ، قَالَ:" وَيْلَكَ، أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ"، قَالَ: ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ:" لَا، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي"، فَقَالَ خَالِدٌ: وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ"، قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ:" إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ"، وَأَظُنُّهُ قَالَ:" لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دئیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے (کان کی) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہم تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی جو آسمان پر ہے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا، تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈرئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تجھ پر، کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4351]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صاف کردہ چمڑے میں تھوڑا سا سونا بھیجا جو ابھی مٹی سے علیحدہ نہیں کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار اشخاص عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور چوتھے علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل میں تقسیم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا: ”ہم ان لوگوں سے اس سونے کے زیادہ حق دار تھے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مجھ پر اعتماد نہیں کرتے، حالانکہ اس پروردگار کو مجھ پر اعتماد ہے جو آسمانوں پر ہے اور صبح و شام میرے پاس آسمانی خبر آتی رہتی ہے۔“ اس دوران میں ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار پھولے ہوئے، پیشانی ابھری ہوئی، گھنی داڑھی، سر منڈا اور اونچی ازار باندھے ہوئے تھا، کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ڈریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ہلاک ہو جائے! کیا میں روئے زمین کے لوگوں میں اللہ سے ڈرنے کا زیادہ حق دار نہیں ہوں؟“ پھر وہ شخص چلا گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، شاید وہ نماز پڑھتا ہو گا۔“ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بہت سے نمازی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ منہ سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کسی کے دل ٹٹولنے یا پیٹ چیرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف دیکھا جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا اور فرمایا: ”یقینا اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ کتاب اللہ کی تلاوت سے ان کی زبانیں تر ہوں گی، حالانکہ وہ (کتاب) ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گی۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اگر میں ان کو پاؤں تو انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کروں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4351]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4352
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ: أَمَر النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِسِعَايَتِهِ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ؟" قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ"، قَالَ: وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے (جب وہ یمن سے مکہ آئے) فرمایا تھا کہ وہ اپنے احرام پر باقی رہیں۔ محمد بن بکر نے ابن جریج سے اتنا بڑھایا کہ ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا علی رضی اللہ عنہ اپنی ولایت (یمن) سے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ علی! تم نے احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا کہ جس طرح احرام آپ نے باندھا ہو۔ فرمایا پھر قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے، اسی کے مطابق عمل کرو۔ بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4352]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں۔ محمد بن بکر نے بواسطہ ابن جریج عطاء سے کچھ اضافہ بیان کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب اپنی ولایت سے واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے علی! تم نے احرام کس طرح باندھا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے اسی کے مطابق عمل کرو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4352]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4353
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً"، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ الْيَمَنِ حَاجًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ، فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ؟" قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَمْسِكْ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر ہم جب مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کر لے (اور طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے لوٹ کر حج کا احرام باندھ کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح احرام باندھا ہے؟ ہمارے ساتھ تمہاری زوجہ فاطمہ بھی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسی طرح کا احرام باندھا ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے احرام پر قائم رہو، کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4353]
بکر بن عبداللہ بصری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ حج کا احرام باندھا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں تبدیل کر لے۔“ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی یمن سے حج کے ارادے سے آئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”احرام باندھتے وقت تم نے کیا نیت کی تھی؟ تمہاری بیوی ہمارے ساتھ ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے مطابق اپنے احرام کی نیت کی تھی۔“ آپ نے فرمایا: ”پھر تم اس احرام پر قائم رہو کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4353]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4354
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً"، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ الْيَمَنِ حَاجًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ، فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ؟" قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَمْسِكْ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر ہم جب مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کر لے (اور طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے لوٹ کر حج کا احرام باندھ کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح احرام باندھا ہے؟ ہمارے ساتھ تمہاری زوجہ فاطمہ بھی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسی طرح کا احرام باندھا ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے احرام پر قائم رہو، کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4354]
بکر بن عبداللہ بصری سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ حج کا احرام باندھا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں تبدیل کر لے۔“ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی یمن سے حج کے ارادے سے آئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”احرام باندھتے وقت تم نے کیا نیت کی تھی؟ تمہاری بیوی ہمارے ساتھ ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے مطابق اپنے احرام کی نیت کی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اس احرام پر قائم رہو کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة