صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ بَعْثُ أَبِي مُوسَى وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ:
باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
حدیث نمبر: 4341
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلَافٍ، قَالَ: وَالْيَمَنُ مِخْلَافَانِ، ثُمَّ قَالَ:" يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا"، فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيُّمَ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، قَالَ: لَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَالَ: إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ، فَانْزِلْ، قَالَ: مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا، قَالَ: فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ دونوں صحابیوں کو اس کے ایک ایک صوبے میں بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ یمن کے دو صوبے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، دشواریاں نہ پیدا کرنا، انہیں خوش کرنے کی کوشش کرنا، دین سے نفرت نہ دلانا۔ یہ دونوں بزرگ اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو گئے۔ دونوں میں سے جب کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے اپنے دوسرے ساتھی کے پاس پہنچ جاتا تو ان سے تازی (ملاقات) کے لیے آتا اور سلام کرتا۔ ایک مرتبہ معاذ رضی اللہ عنہ اپنے علاقہ میں اپنے صاحب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے اور اپنے خچر پر ان سے ملاقات کے لیے چلے۔ جب ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کچھ لوگ جمع ہیں اور ایک شخص ان کے سامنے ہے جس کی مشکیں کسی ہوئی ہیں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے عبداللہ بن قیس! یہ کیا واقعہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے میں اپنی سواری سے نہیں اتروں گا۔ موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قتل کرنے ہی کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ آپ اتر جائیں لیکن انہوں نے اب بھی یہی کہا کہ جب تک اسے قتل نہ کیا جائے گا میں نہ اتروں گا۔ آخر موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ تب وہ اپنی سواری سے اترے اور پوچھا، عبداللہ! آپ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں پھر انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ معاذ! آپ قرآن مجید کس طرح پڑھتے ہیں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو رات کے شروع میں سوتا ہوں پھر اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر کے میں اٹھ بیٹھتا ہوں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے مقدر کر رکھا ہے اس میں قرآن مجید پڑھتا ہوں۔ اس طرح بیداری میں جس ثواب کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھتا ہوں سونے کی حالت کے ثواب کا بھی اس سے اسی طرح امیدوار رہتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4341]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ہر ایک کو یمن کی الگ الگ ولایت میں تعینات فرمایا، اس وقت یمن دو ولایات پر مشتمل تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر آسانی کرنا، سختی سے کام نہ لینا، انہیں خوش رکھنا، نفرت نہ دلانا۔“ بہرحال ان میں سے ہر ایک اپنے کام پر روانہ ہوا۔ ان میں سے جو کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے اپنے ساتھی کے قریب آ جاتا تو اس سے ضرور ملاقات کرتا اور اسے سلام کر کے مزاج پرسی کرتا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے، تو وہ اپنے خچر پر سوار ہو کر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”عبداللہ بن قیس! یہ کون ہے؟“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔“ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب تک اسے قتل نہیں کیا جاتا میں اپنے خچر سے نہیں اتروں گا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نیچے اتریں، اسے اسی لیے (قتل کرنے کے لیے) یہاں لایا گیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں تو اس کے مارے جانے سے پہلے ہرگز نہیں اتروں گا“، چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حکم سے وہ قتل کر دیا گیا۔ تب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی سواری سے نیچے اترے اور پوچھا کہ ”اے عبداللہ! تم قرآن کیسے پڑھتے ہو؟“ انہوں نے کہا کہ ”میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں۔“ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے معاذ! تم کیسے تلاوت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں اول شب میں سو جاتا ہوں، پھر اٹھ بیٹھتا ہوں، اس کے بعد اللہ کو منظور ہوتا ہے پڑھ لیتا ہوں۔ میں تو سوتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں جیسے اٹھتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4341]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4342
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلَافٍ، قَالَ: وَالْيَمَنُ مِخْلَافَانِ، ثُمَّ قَالَ:" يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا"، فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيُّمَ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، قَالَ: لَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَالَ: إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ، فَانْزِلْ، قَالَ: مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا، قَالَ: فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ دونوں صحابیوں کو اس کے ایک ایک صوبے میں بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ یمن کے دو صوبے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، دشواریاں نہ پیدا کرنا، انہیں خوش کرنے کی کوشش کرنا، دین سے نفرت نہ دلانا۔ یہ دونوں بزرگ اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو گئے۔ دونوں میں سے جب کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے اپنے دوسرے ساتھی کے پاس پہنچ جاتا تو ان سے تازی (ملاقات) کے لیے آتا اور سلام کرتا۔ ایک مرتبہ معاذ رضی اللہ عنہ اپنے علاقہ میں اپنے صاحب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے اور اپنے خچر پر ان سے ملاقات کے لیے چلے۔ جب ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کچھ لوگ جمع ہیں اور ایک شخص ان کے سامنے ہے جس کی مشکیں کسی ہوئی ہیں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے عبداللہ بن قیس! یہ کیا واقعہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے میں اپنی سواری سے نہیں اتروں گا۔ موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قتل کرنے ہی کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ آپ اتر جائیں لیکن انہوں نے اب بھی یہی کہا کہ جب تک اسے قتل نہ کیا جائے گا میں نہ اتروں گا۔ آخر موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ تب وہ اپنی سواری سے اترے اور پوچھا، عبداللہ! آپ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں پھر انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ معاذ! آپ قرآن مجید کس طرح پڑھتے ہیں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو رات کے شروع میں سوتا ہوں پھر اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر کے میں اٹھ بیٹھتا ہوں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے مقدر کر رکھا ہے اس میں قرآن مجید پڑھتا ہوں۔ اس طرح بیداری میں جس ثواب کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھتا ہوں سونے کی حالت کے ثواب کا بھی اس سے اسی طرح امیدوار رہتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4342]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کی طرف بھیجا اور ہر ایک کو یمن کی الگ الگ ولایت میں تعینات فرمایا۔ اس وقت یمن دو ولایات پر مشتمل تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر آسانی کرنا، سختی سے کام نہ لینا، انہیں خوش رکھنا، نفرت نہ دلانا۔“ بہرحال ان میں سے ہر ایک اپنے کام پر روانہ ہوا۔ ان میں سے جو کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے اپنے ساتھی کے قریب آ جاتا تو اس سے ضرور ملاقات کرتا اور اسے سلام کر کے مزاج پرسی کرتا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے، اس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے خچر پر سوار بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے عبداللہ بن قیس! یہ کون ہے؟“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔“ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب تک اسے قتل نہیں کیا جاتا میں اپنے خچر سے نہیں اتروں گا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نیچے اتریں، اسے اسی لیے (قتل کرنے کے لیے) یہاں لایا گیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں تو اس کے مارے جانے سے پہلے ہرگز نہیں اتروں گا“، چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حکم سے وہ قتل کر دیا گیا۔ تب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی سواری سے نیچے اترے اور پوچھا: ”اے عبداللہ! تم قرآن کیسے پڑھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں۔“ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے معاذ! تم کیسے تلاوت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں اولِ شب میں سو جاتا ہوں، پھر اٹھ بیٹھتا ہوں، اس کے بعد اللہ کو منظور ہوتا ہے پڑھ لیتا ہوں۔ میں تو سوتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں جیسے اٹھتا بھی ثواب کی نیت سے ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4343
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ تُصْنَعُ بِهَا، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ:" الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ"، فَقُلْتُ لِأَبِي بُرْدَةَ: مَا الْبِتْعُ؟ قَالَ: نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ نَبِيذُ الشَّعِيرِ، فَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ". رَوَاهُ جَرِيرٌ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے شیبانی نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان شربتوں کا مسئلہ پوچھا جو یمن میں بنائے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ وہ کیا ہیں؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ”بتع“ اور ”مزر“ (سعید بن ابی بردہ نے کہا کہ) میں نے ابوبردہ (اپنے والد) سے پوچھا ”بتع“ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شہد سے تیاری کی ہوئی شراب اور ”مزر“ جَو سے تیار کی ہوئی شراب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز پینا حرام ہے۔ اس کی روایت جریر اور عبدالواحد نے شیبانی سے کی ہے اور انہوں نے ابوبردہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4343]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان مشروبات کے متعلق سوال کیا جو وہاں تیار کیے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہیں؟“ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا: «الْبِتْعُ» اور «الْمِزْرُ» ہیں۔ (راوی کہتا ہے کہ) میں نے ابو بردہ سے پوچھا: «الْبِتْعُ» (اور «الْمِزْرُ») کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ «الْبِتْعُ» شہد کا شیرہ اور «الْمِزْرُ» جو کا شیرہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشے والی چیز حرام ہے۔“ اس حدیث کو جریر اور عبدالواحد نے شیبانی کے ذریعے سے ابو بردہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4343]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4344
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَدَّهُ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا"، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ، فَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، فَانْطَلَقَا، فَقَالَ مُعَاذٌ لِأَبِي مُوسَى: كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى رَاحِلَتِي وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي، وَضَرَبَ فُسْطَاطًا فَجَعَلَا يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ، فَقَالَ مُعَاذٌ: لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ، وَوَهْبٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَالْنَّضْرُ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان کے والد نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، ان کو دشواریوں میں نہ ڈالنا۔ لوگوں کو خوش خبریاں دینا دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں موافقت رکھنا۔ اس پر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے ملک میں جَو سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جس کا نام ”مزر“ ہے اور شہد سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جو ”بتع“ کہلاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ پھر دونوں بزرگ روانہ ہوئے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ کھڑے ہو کر بھی، بیٹھ کر بھی اور اپنی سواری پر بھی اور میں تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد پڑھتا ہی رہتا ہوں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میرا معمول یہ ہے کہ شروع رات میں، میں سو جاتا ہوں اور پھر بیدار ہو جاتا ہوں۔ اس طرح میں اپنی نیند پر بھی ثواب کا امیدوار ہوں جس طرح بیدار ہو کر (عبادت کرنے پر) ثواب کی مجھے امید ہے اور انہوں نے ایک خیمہ لگا لیا اور ایک دوسرے سے ملاقات برابر ہوتی رہتی۔ ایک مرتبہ معاذ رضی اللہ عنہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے، دیکھا ایک شخص بندھا ہوا ہے۔ پوچھا یہ کیا بات ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ ایک یہودی ہے، پہلے خود اسلام لایا اب یہ مرتد ہو گیا ہے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے قتل کئے بغیر ہرگز نہ رہوں گا۔ مسلم بن ابراہیم کے ساتھ اس حدیث کو عبدالملک بن عمرو عقدی اور وہب بن جریر نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور وکیع، نضر اور ابوداؤد نے اس کو شعبہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں اپنے باپ بردہ سے، انہوں نے سعید کے دادا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور جریر بن عبد الحمید نے اس کو شیبانی سے روایت کیا، انہوں نے ابوبردہ سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4344]
حضرت سعید بن ابوبردہ اپنے والد (حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (سعید) کے دادا حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: «یَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا» ”لوگوں پر آسانی کرنا، ان پر تنگی نہ کرنا، انہیں خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا اور ایک دوسرے سے موافقت پیدا کرنا۔“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہمارے علاقے میں کچھ مشروبات جو سے تیار ہوتے ہیں جنہیں «الْمِزْرُ» ”مزر“ اور کچھ شہد سے بنتے ہیں جنہیں «الْبِتْعُ» ”بتع“ کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ چنانچہ دونوں حضرات یمن کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر (ایک ملاقات میں) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ قرآن کیسے پڑھتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، سواری پر وقفے وقفے سے پڑھتا رہتا ہوں۔“ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں سوتا ہوں، پھر اٹھتا ہوں اور نیند کو بھی قیام کی طرح ثواب سمجھتا ہوں۔“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے ایک خیمہ لگوایا تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی زیارت کریں۔ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لیے آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی بندھا ہوا ہے، پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ یہودی ہے جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔“ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس کی گردن ضرور اڑاؤں گا۔“ عقدی اور وہب نے شعبہ سے روایت کرنے میں مسلم کی متابعت کی ہے۔ وکیع، ابونضر اور ابوداود نے شعبہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے اپنے والد کے ذریعے سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ جریر بن عبدالحمید نے شیبانی سے اور انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4344]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4345
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَدَّهُ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا"، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ، فَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، فَانْطَلَقَا، فَقَالَ مُعَاذٌ لِأَبِي مُوسَى: كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى رَاحِلَتِي وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي، وَضَرَبَ فُسْطَاطًا فَجَعَلَا يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ، فَقَالَ مُعَاذٌ: لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ، وَوَهْبٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَالْنَّضْرُ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان کے والد نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، ان کو دشواریوں میں نہ ڈالنا۔ لوگوں کو خوش خبریاں دینا دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں موافقت رکھنا۔ اس پر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے ملک میں جَو سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جس کا نام ”مزر“ ہے اور شہد سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جو ”بتع“ کہلاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ پھر دونوں بزرگ روانہ ہوئے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ کھڑے ہو کر بھی، بیٹھ کر بھی اور اپنی سواری پر بھی اور میں تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد پڑھتا ہی رہتا ہوں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میرا معمول یہ ہے کہ شروع رات میں، میں سو جاتا ہوں اور پھر بیدار ہو جاتا ہوں۔ اس طرح میں اپنی نیند پر بھی ثواب کا امیدوار ہوں جس طرح بیدار ہو کر (عبادت کرنے پر) ثواب کی مجھے امید ہے اور انہوں نے ایک خیمہ لگا لیا اور ایک دوسرے سے ملاقات برابر ہوتی رہتی۔ ایک مرتبہ معاذ رضی اللہ عنہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے، دیکھا ایک شخص بندھا ہوا ہے۔ پوچھا یہ کیا بات ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ یہ ایک یہودی ہے، پہلے خود اسلام لایا اب یہ مرتد ہو گیا ہے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے قتل کئے بغیر ہرگز نہ رہوں گا۔ مسلم بن ابراہیم کے ساتھ اس حدیث کو عبدالملک بن عمرو عقدی اور وہب بن جریر نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور وکیع، نضر اور ابوداؤد نے اس کو شعبہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں اپنے باپ بردہ سے، انہوں نے سعید کے دادا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور جریر بن عبد الحمید نے اس کو شیبانی سے روایت کیا، انہوں نے ابوبردہ سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4345]
حضرت سعید بن ابو بردہ اپنے والد (حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (سعید) کے دادا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”لوگوں پر آسانی کرنا، ان پر تنگی نہ کرنا، انہیں خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا اور ایک دوسرے سے موافقت پیدا کرنا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے علاقے میں کچھ مشروبات جو سے تیار ہوتے ہیں جنہیں «الْمِزْرُ» ”مزر“ اور کچھ شہد سے بنتے ہیں جنہیں «الْبِتْعُ» ”بتع“ کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ چنانچہ دونوں حضرات یمن کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر (ایک ملاقات میں) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ قرآن کیسے پڑھتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، سواری پر وقفے وقفے سے پڑھتا رہتا ہوں۔“ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں سوتا ہوں، پھر اٹھتا ہوں اور اپنی نیند کو بھی قیام کی طرح ثواب سمجھتا ہوں۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے ایک خیمہ لگوایا تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی زیارت کریں۔ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لیے آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی بندھا ہوا ہے، پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ یہودی ہے جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہے۔“ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس کی گردن ضرور اڑاؤں گا۔“ عقدی اور وہب نے شعبہ سے روایت کرنے میں مسلم کی متابعت کی ہے۔ وکیع، ابو نضر اور ابو داود نے شعبہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے اپنے والد کے ذریعے سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ جریر بن عبدالحمید نے شیبانی سے اور انہوں نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4346
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ هُوَ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي، فَجِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ، فَقَالَ:" أَحَجَجْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ؟" قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" كَيْفَ؟" قُلْتَ: قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِكَ، قَالَ:" فَهَلْ سُقْتَ مَعَكَ هَدْيًا؟" قُلْتُ: لَمْ أَسُقْ، قَالَ:" فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ"، فَفَعَلْتُ حَتَّى مَشَطَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ وَمَكُثْنَا بِذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ.
ہم سے عباس بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے ایوب بن عائذ نے، ان سے قیس بن مسلم نے بیان کیا، کہا میں نے طارق بن شہاب سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے وطن (یمن) میں بھیجا۔ پھر میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ کی) وادی ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم نے حج کا احرام باندھا لیا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ نے دریافت فرمایا کہ کلمات احرام کس طرح کہے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا (کہ یوں کلمات ادا کئے ہیں) ”اے اللہ میں حاضر ہوں، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے، میں نے بھی اسی طرح باندھا ہے۔“ فرمایا تم اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی لائے ہو؟ میں نے کہا کہ کوئی جانور تو میں اپنے ساتھ نہیں لایا۔ فرمایا تم پھر پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر لو۔ ان رکنوں کی ادائیگی کے بعد حلال ہو جانا۔ میں نے اسی طرح کیا اور بنو قیس کی خاتون نے میرے سر میں کنگھا کیا اور اسی قاعدے پر ہم اس وقت تک چلتے رہے جب تک عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے (اسی کو حج تمتع کہتے ہیں اور یہ بھی سنت ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4346]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے وطن میں بھیجا، جب میں واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بطحاء (خیف بنو کنانہ) میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! کیا تم نے حج کا احرام باندھ لیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیت کیا کی تھی؟“ میں نے عرض کی: میں نے یوں کہا تھا کہ میں حاضر ہوں اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے میں نے بھی اسی طرح باندھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اپنے ساتھ قربانی کا جانور لائے ہو؟“ میں نے کہا: میں اپنے ساتھ کوئی جانور نہیں لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے بیت اللہ کا طواف کرو، پھر صفا اور مروہ کی سعی کر کے احرام کی پابندی سے آزاد ہو جاؤ۔“ بہرحال میں نے اسی طرح کیا، پھر بنو قیس کی ایک خاتون نے میرے سر میں کنگھی کی، ہم اسی قاعدے کے مطابق حج کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4346]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4347
حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ:" إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ، فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: طَوَّعَتْ طَاعَتْ، وَأَطَاعَتْ لُغَةٌ طِعْتُ، وَطُعْتُ، وَأَطَعْتُ.
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا بن اسحاق نے، انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نافذ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا (حاکم بنا کر بھیجتے وقت انہیں) ہدایت فرمائی تھی کہ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب یہودی اور نصرانی وغیرہ میں سے ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں اس کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر اس میں وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے روزانہ ان پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، جب یہ بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ کو بھی فرض کیا ہے، جو ان کے مالدار لوگوں سے لی جائے گی اور انہیں کے غریبوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ جب یہ بھی مان جائیں تو (پھر زکوٰۃ وصول کرتے وقت) ان کا سب سے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی آہ سے ہر وقت ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ المائدہ میں جو «طوعت» کا لفظ آیا ہے اس کا وہی معنی ہے جو «طاعت» اور «أطاعت» کا ہے جیسے کہتے ہیں «طعت وطعت وأطعت.» سب کا معنی ایک ہی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4347]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو انہیں فرمایا: ”تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو، وہاں جا کر انہیں پہلے کلمہ شہادت کی دعوت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں۔ اگر وہ اس کا اقرار کرنے میں تمہاری اطاعت کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں خبردار کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے وصول کر کے ان کے غرباء پر تقسیم کر دی جائے گی۔ پھر اگر وہ اسے تسلیم کر لیں تو زکاۃ وصول کرتے وقت ان کا سب سے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی آہ و بکا سے بھی ڈرتے رہنا کیونکہ اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا ہے کہ «طَوْعَت» کے وہی معنی ہیں جو «طَاعَت» اور «أَطَاعَت» کے ہیں، «طِعْتُ»، «طُعْتُ» اور «أَطَعْتُ» کے بھی ایک ہی معنی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4348
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ: أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَقَرَأَ: وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا سورة النساء آية 125، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: لَقَدْ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ"، زَادَ مُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَرَأَ مُعَاذٌ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ سُورَةَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا، قَالَ: وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا سورة النساء آية 125، قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ: قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب وہ یمن پہنچے تو یمن والوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور نماز میں آیت «واتخذ الله إبراهيم خليلا» کی قرآت کی تو ان میں سے ایک صاحب (نماز ہی میں) بولے کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔ معاذ بن معاذ بغوی نے شعبہ سے، انہوں نے حبیب سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے اس حدیث میں صرف اتنا بڑھایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا وہاں انہوں نے صبح کی نماز میں سورۃ نساء پڑھی جب اس آیت پر پہنچے «واتخذ الله إبراهيم خليلا» تو ایک صاحب جو ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4348]
حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن آئے تو لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور نماز میں یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾ [سورة النساء: 125] ”اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مخلص دوست بنایا۔“ ایک شخص بول پڑا کہ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔“ معاذ نے شعبہ سے، انہوں نے حبیب سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔ وہاں انہوں نے صبح کی نماز میں سورہ نساء پڑھی۔ جب اس آیت پر پہنچے: ﴿وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾ [سورة النساء: 125] ”اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مخلص دوست بنایا۔“ تو ان کے پیچھے ایک شخص نے کہا: ”والدہ ابراہیم کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة