🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

ہمسائے کو اذیت پہنچانے والا جہنمی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 772
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، مَوْلَى جَعْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فُلَانَةَ تُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَتَصُومُ النَّهَارَ وَتُؤْذِي جِيرَانَهَا سَلِيطَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (هِيَ فِي النَّارِ) ) ، وَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانَةَ تُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الَأَقِطِ، لَيْسَ لَهَا شَيْءٌ غَيْرُهِ وَلَا تُؤْذِي أَحَدًا، فَقَالَ: ( (هِيَ فِي الْجَنَّةِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: فلاں عورت رات کے وقت تہجد پڑھتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے، جبکہ وہ اپنی پڑوسن کو اذیت پہنچاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: فلاں عورت فرض نماز پڑھتی ہے رمضان کے روزے رکھتی ہے، پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اس کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں، وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البر و الصلة/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: «انظر: 291 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 773
قُلتُ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمُ الْأَعْمَشُ، نا أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فُلَانَةُ تُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ كَمَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت تہجد پڑھتی ہے، راوی نے بیان کیا: پس میں نے انہیں اسی طرح سنایا جس طرح جریر نے ہمیں بیان کیا تھا، تو ابواسامہ نے اسے درست قرار دیا اور کہا: ہاں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البر و الصلة/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں