🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

83. بَابُ سُوءِ الْمَلَكَةِ
غلاموں سے بدسلوکی کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 159
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِلنَّاسِ‏:‏ نَحْنُ أَعْرَفُ بِكُمْ مِنَ الْبَيَاطِرَةِ بِالدَّوَابِّ، قَدْ عَرَفْنَا خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ‏.‏ أَمَّا خِيَارُكُمُ‏:‏ الَّذِي يُرْجَى خَيْرُهُ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ‏.‏ وَأَمَّا شِرَارُكُمْ‏:‏ فَالَّذِي لاَ يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلاَ يُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَلاَ يُعْتَقُ مُحَرَّرُهُ‏.‏
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے: ہم تمہیں اس سے زیادہ جانتے ہیں جتنا جانوروں کا علاج کرنے والے جانوروں کو جانتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو تم میں اچھے ہیں اور انہیں بھی جو تم میں برے ہیں۔ تمہارے اچھے لوگ وہ ہیں جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کے شر سے لوگوں کو اطمینان ہو۔ اور برے وہ لوگ ہیں جن سے خیر کی امید نہیں کی جاتی اور ان کے شر سے بھی امان نہیں اور ان کا آزاد کردہ بھی آزاد نہیں ہوتا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «صحيح الإسناد موقوفًا وقد صح منه مرفوعًا جملة الخيار والشرار دون العتق: المشكاة: 4993 - رواه البيهقي فى شعب الإيمان: 189/13 و ابن عبدالبر فى جامع بيان العلم: 608/1 و أبونعيم فى الحلية: 221/1»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوفًا وقد صح منه مرفوعًا جملة الخيار والشرار دون العتق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏:‏ الْكَنُودُ‏:‏ الَّذِي يَمْنَعُ رِفْدَهُ، وَيَنْزِلُ وَحْدَهُ، وَيَضْرِبُ عَبْدَهُ‏.‏
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ناشکرا وہ ہے جو اپنے عطیات روک لیتا ہے، اور (سفر) میں علیحدہ پڑاؤ ڈالتا ہے، اور اپنے غلام کو مارتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «ضعيف موقوفًا و روى عنه مرفوعًا بسند واه جدا: الضعيفة: 5833 - رواه ابن معين فى تاريخه: 485/4 و الطبراني فى تفسيره: 566/24»
قال الشيخ الألباني: ضعيف موقوفًا و روى عنه مرفوعًا بسند واه جدا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَحَمَّادٍ، عَنْ حَبِيبٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلاً أَمَرَ غُلاَمًا لَهُ أَنْ يَسْنُوَ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ، فَنَامَ الْغُلاَمُ، فَجَاءَ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ فَأَلْقَاهَا فِي وَجْهِهِ، فَتَرَدَّى الْغُلاَمُ فِي بِئْرٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَأَى الَّذِي فِي وَجْهِهِ، فَأَعْتَقَهُ‏.‏
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو اپنے اونٹ پر پانی لانے کا حکم دیا لیکن غلام سو گیا (اور پانی نہ لایا) تو اس نے آگ کا ایک شعلہ لا کر اس کے چہرے پر ڈال دیا۔ غلام (گھبرا کر بھاگا تو) ایک کنویں میں گر گیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا (اور صورتِ حال بتائی) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس کا چہرہ دیکھا تو اسے آزاد کر دیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه عبدالرزاق: 17928»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں