الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ أَدَبِ الْخَادِمِ
خادم کو ادب سکھانا
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ: أَرْسَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَهُ بِذَهَبٍ أَوْ بِوَرِقٍ، فَصَرَفَهُ، فَأَنْظَرَ بِالصَّرْفِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَجَلَدَهُ جَلْدًا وَجِيعًا وَقَالَ: اذْهَبْ، فَخُذِ الَّذِي لِي، وَلاَ تَصْرِفْهُ.
یزید بن عبداللہ بن قسیط سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو سونا یا چاندی دے کر بھیجا۔ اس نے بیع صرف کی تو اس میں ادھار کر لیا۔ جب واپس آیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی سخت پٹائی کی اور فرمایا: جاؤ، میری چیز واپس لے آؤ اور بیع صرف نہ کرو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «حسن:»
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا: ”اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ“، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ، فَقَالَ: ”أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ أَوْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ.“
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا کہ اچانک اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: ”ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر رکھتے ہو۔“ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرتے تو تجھے ضرور جہنم کی آگ چھوتی۔“ یا فرمایا: ”آگ تجھے ضرور اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان، باب صحبة المماليك: 1659 و أبوداؤد: 5159 و الترمذي: 1948»
قال الشيخ الألباني: صحيح