🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

159. بَابُ الزِّيَارَةِ
ایک دوسرے کی زیارت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّامِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهُ، قَالَ اللَّهُ لَهُ‏:‏ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأْتَ مَنْزِلاً فِي الْجَنَّةِ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی کی تیمار داری کرتا ہے یا اس سے ملاقات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرماتا ہے: توء بہت اچھے حال میں ہے، اور تیرا چلنا اچھا ہے، اور تو نے جنت میں گھر بنا لیا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الزِّيَارَةِ/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه الترمذي، كتاب البر و الصلة، باب ماجاء فى زيارة الإخوان: 2008 و ابن ماجه: 1443 - انظر الصحيحة: 2632»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ‏:‏ زَارَنَا سَلْمَانُ مِنَ الْمَدَائِنِ إِلَى الشَّامِ مَاشِيًا، وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ وَانْدَرْوَرْدُ، قَالَ‏:‏ يَعْنِي سَرَاوِيلَ مُشَمَّرَةً، قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ‏:‏ رُؤِيَ سَلْمَانُ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ مَطْمُومُ الرَّأْسِ سَاقِطُ الأُذُنَيْنِ، يَعْنِي أَنَّهُ كَانَ أَرْفَشَ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ‏:‏ شَوَّهْتَ نَفْسَكَ، قَالَ‏:‏ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الاخِرَةِ‏.‏
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ہم سے ملنے کے لیے مدائن سے پیدل شام آئے۔ وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے اور پاجامہ پہن رکھا تھا جس کے پانچے چڑھے ہوئے تھے۔ ابن شوذب نے کہا: سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو اس حال میں دیکھا گیا کہ انہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔ سر منڈا ہوا تھا اور کان لٹکے ہوئے اور بڑے بڑے تھے۔ ان سے کہا گیا: آپ نے اپنا حلیہ بگاڑ رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اصل اچھائی تو آخرت کی اچھائی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الزِّيَارَةِ/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «بعض الحديث حسن: أخرجه أحمد فى الزهد: 842 و ابن أبى الدنيا فى التواضع: 149 و أبونعيم فى الحلية: 199/1 - الصحيحة: 3198»
قال الشيخ الألباني: بعض الحديث حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں