سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب التَّوَرُّعِ عَنِ الْجَوَابِ فِيمَا لَيْسَ فِيهِ كِتَابٌ وَلاَ سُنَّةٌ:
ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
حدیث نمبر: 102
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُمَا كَانَا جَالِسَيْنِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُمَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لِحُذَيْفَةَ: "لِأَيِّ شَيْءٍ تَرَى يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا؟، قَالَ: يَعْلَمُونَهُ ثُمَّ يَتْرُكُونَهُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: مَا سَأَلْتُمُونَا عَنْ شَيْءٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى نَعْلَمُهُ، أَخْبَرْنَاكُمْ بِهِ، أَوْ سُنَّةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاكُمْ بِهِ، وَلَا طَاقَةَ لَنَا بِمَا أَحْدَثْتُمْ".
سیدنا عبدالله بن مسعود اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جانتے ہو یہ لوگ اس چیز کے بارے میں مجھ سے کیوں سوال کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: معلوم کر کے چھوڑ دیتے ہوں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جس چیز کے بارے میں تم نے سوال کیا اور اللہ کی کتاب میں سے ہمیں اس کا علم ہوا تو ہم نے تمہیں اس کی اطلاع دے دی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں جو چیز ہمیں ملی تمہیں بتا دی اور جو تم نے نئی باتیں ایجاد کر لیں ان کا فتوی دینے کی ہم میں طاقت نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف خالد بن عبد الله متأخر السماع من عطاء وطريق ابن مسعود منقطعة لأن الشعبي لم يسمع منه، [مكتبه الشامله نمبر: 102] »
اس اثر کو صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کئی علتیں ہونے کے سبب ضعیف ہے۔
اس اثر کو صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کئی علتیں ہونے کے سبب ضعیف ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 99 سے 102)
گرچہ یہ اثرِ سند ثابت نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
دین کے ماخذ صرف دو ہیں: کتاب اللہ و سنت رسول اللہ۔
جو چیز قرآن اور حدیث میں نہ ملے اس کا فتویٰ دینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے، اور علمی برتری جتانا نہیں چاہیے۔
گرچہ یہ اثرِ سند ثابت نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
دین کے ماخذ صرف دو ہیں: کتاب اللہ و سنت رسول اللہ۔
جو چیز قرآن اور حدیث میں نہ ملے اس کا فتویٰ دینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے، اور علمی برتری جتانا نہیں چاہیے۔
حدیث نمبر: 103
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: "مَا خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ خُطْبَةً بِالْكُوفَةِ إِلَّا شَهِدْتُهَا، فَسَمِعْتُهُ يَوْمًا، وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَمَانِيَةً وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ، قَالَ: هُوَ كَمَا، قَالَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ كِتَابَهُ وَبَيَّنَ بَيَانَهُ، فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقَدْ بُيِّنَ لَهُ، وَمَنْ خَالَفَ فَوَاللَّهِ مَا نُطِيقُ خِلَافَكُمْ".
نزال بن سبرہ نے کہا: سیدنا عبدالله (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں جو بھی خطبہ دیا میں اس میں حاضر رہا، ایک دن میں نے انہیں کہتے سنا، ان سے ایسے آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو آٹھ بار طلاق دیدے۔ انہوں نے جواب دیا جتنی اس نے کہا واقع ہو گئیں، بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی وضاحت فرما دی، اب جو آدمی اس کے مطابق عمل کرے تو الله تعالیٰ نے اسے واضح کر دیا، اور جس نے مخالفت کی اللہ کی قسم ہم تو تمہاری (طرح) مخالفت کی طاقت نہیں رکھتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة المسعودي، [مكتبه الشامله نمبر: 103] »
اس اثر کی سند عبدالرحمن المسعودی کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن طبرانی میں اس کا شاہد صحیح موجود ہے۔ دیکھئے: [معجم طبراني 9628، 9629] اور یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے حدیث نہیں۔
اس اثر کی سند عبدالرحمن المسعودی کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن طبرانی میں اس کا شاہد صحیح موجود ہے۔ دیکھئے: [معجم طبراني 9628، 9629] اور یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے حدیث نہیں۔
حدیث نمبر: 104
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قَالَ: "شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَأَتَاهُ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ فِي تَحْرِيمٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَيَّنَ، فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقَدْ بُيِّنَ، وَمَنْ خَالَفَ، فَوَاللَّهِ مَا نُطِيقُ خِلَافَكُمْ".
نزال بن سبرہ نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو ایک مرد ایک عورت حرمت کا مسئلہ لے کر ان کے پاس آئے (یعنی طلاق کا)، انہوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی ہے، جو شخص اس وضاحت کے عین مطابق چلا تو (حکم) واضح ہے، اور جو اس کے خلاف چلا تو تمہارے اس خلاف کے مطابق فتویٰ دینے کی ہمیں طاقت نہیں ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 104] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير للطبراني 9636]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير للطبراني 9636]
حدیث نمبر: 105
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ: "أَنَّهُ كَانَ لَا يَقُولُ بِرَأْيِهِ إِلَّا شَيْئًا سَمِعَهُ".
اشعث نے کہا: ابن سیرین اپنی رائے سے کچھ نہ کہتے، وہی کہتے جو سنا ہوتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 105] »
اس اثر کی سند صحیح ہے اور صرف امام دارمی نے اس قول کو روایت کیا ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے اور صرف امام دارمی نے اس قول کو روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 106
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَثَّامٌ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ عَثَّامٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "مَا سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ بِرَأْيِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ".
اعمش نے کہا: میں نے ابراہیم کو کسی بارے میں اپنی رائے سے کبھی کچھ کہتے نہیں سنا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 106] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابوخیثمہ نے (العلم 38) میں دوسری سند سے بھی اسے ذکر کیا ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابوخیثمہ نے (العلم 38) میں دوسری سند سے بھی اسے ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 107
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "مَا قُلْتُ بِرَأْيِي مُنْذُ ثَلَاثُونَ سَنَةً"، قَالَ أَبُو هِلَالٍ:"مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً".
قتاده رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے تیس سال سے اپنی رائے سے کچھ نہیں کہا۔ ابوہلال نے چالیس سال بتایا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 107] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ مزید دیکھئے: [حلية الأولياء 335/2]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ مزید دیکھئے: [حلية الأولياء 335/2]
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَلَا تَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِكَ؟، قَالَ: "إِنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدَانَ فِي الْأَرْضِ بِرَأْيِي".
عبدالعزیز بن رفیع سے مروی ہے کہ عطاء رحمہ اللہ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے «لا أدري» ”میں نہیں جانتا“ کہا۔ ان سے کہا گیا اپنی رائے سے بھی کچھ نہ کہیں گے؟ فرمایا: مجھے اللہ عز وجل سے شرم آتی ہے کہ روئے زمین پر میرے قول کی پیروی کی جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 108] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة لابن بطة 347]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة لابن بطة 347]
وضاحت: (تشریح احادیث 102 سے 108)
یہ تمام آثار سلف صالحین اور کبار علماء کے ہیں، محمد بن سیرین، ابراہیم النخعی، قتادہ بن دعامہ اور عطاء وغیرہ بڑے عظیم فقہا اور محدثین میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ان کی تواضع اور احتیاط دیکھئے علم کے سمندر ہونے کے باوجود وہی کہتے تھے جو کتاب و سنّت اور صحابہ و تابعین سے منقول ہے، ورنہ لاعلمی ظاہر کر دیتے۔
یہ تمام آثار سلف صالحین اور کبار علماء کے ہیں، محمد بن سیرین، ابراہیم النخعی، قتادہ بن دعامہ اور عطاء وغیرہ بڑے عظیم فقہا اور محدثین میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ان کی تواضع اور احتیاط دیکھئے علم کے سمندر ہونے کے باوجود وہی کہتے تھے جو کتاب و سنّت اور صحابہ و تابعین سے منقول ہے، ورنہ لاعلمی ظاہر کر دیتے۔
حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنِي حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عِيسَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: "كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِيهِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَخْبِرْنِي أَنْتَ بِرَأْيِكَ، فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ أَخْبَرْتُهُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَيَسْأَلُنِي عَنْ رَأْيِي، وَدِينِي عِنْدِي آثَرُ مِنْ ذَلِكَ، وَاللَّهِ لَأَنْ أَتَغَنَّى أُغْنِيَّةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُخْبِرَكَ بِرَأْيِي".
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ایک شخص نے آ کر کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا، میں نے کہا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ (اس بارے میں) ایسا یا اس طرح کہتے ہیں۔ اس نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے؟ شعبی رحمہ اللہ نے کہا: تمہیں اس آدمی پرتعجب نہیں ہوتا؟ میں نے اسے کہا کہ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں اور یہ کہتا ہے مجھے اپنی رائے بتایئے، حالانکہ میرا مسلک (یعنی دوسروں کی رائے نقل کرنا) میرے نزدیک زیادہ راجح ہے۔ اللہ کی قسم اپنی رائے کے اظہار سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں گانے گاتا پھروں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وعيسى هو: الحناط متروك الحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 109] »
عیسیٰ الحناط کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کو خطیب نے [الفقيه والمتفقه 492] میں ذکر کیا ہے۔
عیسیٰ الحناط کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کو خطیب نے [الفقيه والمتفقه 492] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 108)
اس روایت سے بشرطِ صحت ثابت ہوتا ہے کہ اپنی رائے سے فتویٰ دینے سے گانے گانا بہتر ہے۔
حالانکہ گانے گانا فعلِ قبیح ہے، لیکن ان کے نزدیک فتویٰ سازی سے بہتر ہے، اس سے امام شعبی کی فضیلت اور دوسروں کی رائے کا احترام ثابت ہوتا ہے۔
اس روایت سے بشرطِ صحت ثابت ہوتا ہے کہ اپنی رائے سے فتویٰ دینے سے گانے گانا بہتر ہے۔
حالانکہ گانے گانا فعلِ قبیح ہے، لیکن ان کے نزدیک فتویٰ سازی سے بہتر ہے، اس سے امام شعبی کی فضیلت اور دوسروں کی رائے کا احترام ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عِيسَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِيَّاكُمْ وَالْمُقَايَسَةَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ أَخَذْتُمْ بِالْمُقَايَسَةِ لَتُحِلُّنَّ الْحَرَامَ وَلَتُحَرِّمُنَّ الْحَلَالَ، وَلَكِنْ مَا بَلَغَكُمْ عَمَّنْ حَفِظَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْمَلُوا بِهِ".
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: قیاس آرائی سے بچو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم نے قیاس آرائی کی تو یقیناً حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر ڈالو گے، اس لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے محفوظات سے تم تک جو پہنچا ہے اسی پر عمل کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 110] »
اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ عیسیٰ ضعیف ہیں اور خطیب نے [الفقيه 497] میں ضرار بن صرد کے طریق سے اسے بیان کیا ہے، لیکن ضرار بھی ضعیف راوی ہیں۔ واللہ اعلم
اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ عیسیٰ ضعیف ہیں اور خطیب نے [الفقيه 497] میں ضرار بن صرد کے طریق سے اسے بیان کیا ہے، لیکن ضرار بھی ضعیف راوی ہیں۔ واللہ اعلم
وضاحت: (تشریح حدیث 109)
اس روایت کے شعبی کی طرف منسوب ہونے میں کلام ہے، لیکن «عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين» جیسی احادیث کے پیشِ نظر بات صحیح ہے۔
نیز علماءِ اصول نے قیاس کو ادلہ شرعیہ میں شمار کیا ہے۔
لیکن یہ اس وقت صحیح ہے جب اس کی مثال اقوالِ صحابہ میں موجود ہو۔
واللہ اعلم۔
اس روایت کے شعبی کی طرف منسوب ہونے میں کلام ہے، لیکن «عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين» جیسی احادیث کے پیشِ نظر بات صحیح ہے۔
نیز علماءِ اصول نے قیاس کو ادلہ شرعیہ میں شمار کیا ہے۔
لیکن یہ اس وقت صحیح ہے جب اس کی مثال اقوالِ صحابہ میں موجود ہو۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَمَانِيًا، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ؟، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ طَلْقَةٍ قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ؟، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "مَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ الطَّلَاقَ وَمَنْ لَبَّسَ عَلَى نَفْسِهِ، وَكَّلْنَا بِهِ لَبْسَهُ وَاللَّهِ لَا تُلَبِّسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ نَحْنُ، هُوَ كَمَا تَقُولُونَ".
علقمہ نے کہا ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے پچھلی شب اپنی بیوی کو آٹھ طلاق دے دیں، پوچھا ایک بار میں؟ کہا: ایک کلمہ میں۔ پوچھا وہ تم سے تمہاری بیوی جدا کرانا چاہتے ہیں، کہا: ہاں۔ راوی نے کہا پھر دوسرا آدمی آیا کہ اس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں داغ دی ہیں، پوچھا ایک بار میں؟ کہا: ہاں (یعنی یہ کہا میں نے سو طلاق دیں)۔ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو لوگ طلاق بائنہ سمجھ کر تمہاری بیوی کو جدا کرانا چاہتے ہیں، عرض کیا جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق (ایک ایک کر کے) طلاق دی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بیان فرما دیا ہے، اور جس نے خلط ملط کیا ہم نے اسے اسی خلط کے حوالے کر دیا، واللہ گڑبڑ تم کرتے ہو اس کا بوجھ ہم اٹھائیں اب فیصلہ ویسا ہی ہے جیسا تم کر چکے ہو یعنی (طلاق بائن ہوگئی)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 111] »
اس اثر کی سند صحیح ہے اور معجم الكبير [9628] و سنن البيهقي [335/7] میں یہ روایت موجود ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 11343]
اس اثر کی سند صحیح ہے اور معجم الكبير [9628] و سنن البيهقي [335/7] میں یہ روایت موجود ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 11343]
وضاحت: (تشریح حدیث 110)
یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے اصل «الطلاق مرتان» ہے، باری باری ایک ایک طلاق دینا، لیکن جب لوگوں نے نص قرآنی سے کھلواڑ شروع کر دی اور ان گنت طلاق دینے لگے تو انہوں نے کہا: اگر ایک ساتھ تین یا تین سے زیادہ طلاق دی گئی تو طلاق بائن ہو جائے گی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس طرح طلاقِ ثلاثہ کو رائج کیا تھا۔
یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے اصل «الطلاق مرتان» ہے، باری باری ایک ایک طلاق دینا، لیکن جب لوگوں نے نص قرآنی سے کھلواڑ شروع کر دی اور ان گنت طلاق دینے لگے تو انہوں نے کہا: اگر ایک ساتھ تین یا تین سے زیادہ طلاق دی گئی تو طلاق بائن ہو جائے گی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس طرح طلاقِ ثلاثہ کو رائج کیا تھا۔