🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. باب اجْتِنَابِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَالْبِدَعِ وَالْخُصُومَةِ:
اہل ہوس بدعتی اور متکلمین سے بچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: "لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْأَهْوَاءِ وَلَا تُجَادِلُوهُمْ، فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَغْمِسُوكُمْ فِي ضَلَالَتِهِمْ، أَوْ يَلْبِسُوا عَلَيْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ".
ابوقلابہ نے کہا: خواہشات کے بندوں (اہل ہوس) کے پاس نہ بیٹھو، اور نہ ان سے تکرار کرو، کیونکہ میں تم کو ان سے محفوظ نہیں سمجھتا کہ وہ تمہیں گمراہی میں ڈبو دیں گے، یا جس چیز کی تم معرفت رکھتے ہو اس میں بھی خلط ملط کر دیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 405] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت [إبانة 363] ، [طبقات ابن سعد 134/7] و [شرح أصول اعتقاد أهل السنة 243] میں اسی سند سے مروی ہے۔ نیز [إبانة 610] ، [البدع لابن وضاح 132] ، [الشريعة ص: 67] میں دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: رَآنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ جَلَسْتُ إِلَى طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، فَقَالَ لِي: "أَلَمْ أَرَكَ جَلَسْتَ إِلَى طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ؟ لَا تُجَالِسَنَّهُ".
ایوب نے کہا: سعید بن جبیر نے مجھے طلق بن حبیب کے پاس بیٹھے دیکھا تو مجھ سے کہا: کیا میں نے تمہیں طلق بن حبیب کے پاس بیٹھے نہیں دیکھا؟ تم (ہرگز) ان کے پاس نہ بیٹھو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 406] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [البدع 145] و [الإبانة 413]
وضاحت: (تشریح احادیث 404 سے 406)
سعید بن جبیر نے اس لئے طلق بن حبیب کے پاس بیٹھنے سے منع کیا کیونکہ وہ مرجئہ میں سے تھے اور انہوں نے دین میں نئی باتیں ایجاد کر لی تھیں۔
کلام اور فلسفہ میں ٹامک ٹویاں مارتے تھے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 407
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، قَالَ: "بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا تَقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: کہ فلاں آدمی آپ کو سلام کہتا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے بدعت ایجاد کی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہے تو میرا سلام اسے نہ کہنا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 407]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 407] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن یہ اثر کہیں اور نہیں مل سکی۔
ابوعاصم کا نام: ضحاک بن مخلد اور ابوصخر: حمید بن زیاد ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 408
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: "كَانَ إِبْرَاهِيمُ لَا يَرَى غِيبَةً لِلْمُبْتَدِعِ".
اعمش نے کہا: امام ابراہیم نخعی بدعتی کے بارے میں کچھ کہنے کو غیبت میں شمار نہیں کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات وهذا إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 408] »
اس روایت کے رجال ثقات ہیں، لیکن عبدالرحمن بن مغراء کی اعمش سے روایت میں کلام ہے۔ نیز [شرح اصول اعتقاد أهل السنة 276] میں لالکائی نے اِسے بسند صحیح روایت کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 409
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِنَّمَا سُمِّيَ الْهَوَى لِأَنَّهُ يَهْوِي بِصَاحِبِهِ".
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: خواہش نفس کا نام «هويٰ» اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ صاحب ھویٰ کو لے کر (جہنم میں) گرتی چلی جاتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 409] »
اس روایت کی سند محمد بن حمید کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [شرح اصول 229] ، [حلية الأولياء 320/3]
وضاحت: (تشریح احادیث 406 سے 409)
«هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی گرنے کے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 410
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، قَالَ: كَانَ مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، يَقُولُ: "إِيَّاكُمْ وَالْمِرَاءَ، فَإِنَّهَا سَاعَةُ جَهْلِ الْعَالِمِ، وَبِهَا يَبْتَغِي الشَّيْطَانُ زَلَّتَهُ".
محمد بن واسع نے کہا کہ مسلم بن یسار فرماتے تھے: اپنے کو مراء (دکھاوے) سے بچاؤ کیونکہ یہ عالم کی نادانی کی گھڑی ہوتی ہے اور شیطان ایسی لغزش کی تلاش میں رہتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 410] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الشريعة ص: 61] ، [الحلية 294/2] ، [الإبانة 547، 548] اس روایت کی سند میں عفان: ابن مسلم ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 411
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَا: يَا أَبَا بَكْرٍ، نُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ؟، قَالَ: لَا، قَالَا: فَنَقْرَأُ عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ؟، قَالَ: لَا، لِتَقُومَانِ عَنِّي أَوْ لَأَقُومَنَّ، قَالَ: فَخَرَجَا، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا أَبَا بَكْرٍ، وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ يَقْرَآ عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تعَالَى قَالَ: "إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْرَآ عَلَيَّ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيُحَرِّفَانِهَا، فَيَقِرُّ ذَلِكَ فِي قَلْبِي".
اسماء بن عبید نے کہا کہ اہل ہوس (متکلمین و فلاسفہ) میں سے دو آدمی امام ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر! ہم آپ کے لئے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نہیں (اس کی ضرورت نہیں)، انہوں نے کہا: پھر ہم آپ کو قرآن پاک کی کوئی آیت سناتے ہیں، فرمایا: نہیں، یا تم میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ یا میں خود چلا جاؤں گا۔ راوی نے کہا: لہٰذا وہ دونوں نکل گئے، اہل مجلس میں سے کسی نے کہا: اے ابوبکر! کیا برائی تھی اگر وہ قرآن پاک کی کوئی آیت سنا دیتے؟ فرمایا: مجھے ڈر تھا کہ وہ کوئی آیت سنائیں اور اس میں تحریف کر دیں اور وہ میرے دل میں بیٹھ جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 411] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 398] ، [شرح أصول 242] ، [الشريعة ص: 64] و [البدع 150]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 412
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، قَالَ لِأَيُّوبَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَسْأَلُكَ عَنْ كَلِمَةٍ؟، قَالَ: "فَوَلَّى وَهُوَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ وَلَا نِصْفَ كَلِمَةٍ"، وَأَشَارَ لَنَا سَعِيدٌ بِخِنْصِرِهِ الْيُمْنَى.
سلام بن ابی مطیع سے مروی ہے کہ «أهل الأهواء» (بدعتیوں) میں سے ایک آدمی نے ایوب (السختیانی رحمہ اللہ) سے کہا: اے ابوبکر! میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں، راوی نے کہا: ایوب رحمہ اللہ نے پیٹھ پھیر لی اور انگلی سے اشارہ کیا کہ آدھی بات بھی نہیں۔ سعید بن عامر نے سیدھے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 412] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 402] ، [شرح أصول اعتقاد أهل السنة 291] ، [الحلية 9/3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 413
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: "أَزِيشَانْ".
کلثوم بن جبر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا، جب ان سے اس (اعراض) کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا: یہ انہیں میں سے ہے (یعنی بدعتی ہے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 413] »
اس قول کی سند صحیح ہے، «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت: (تشریح احادیث 409 سے 413)
«أَزِيشَان» : یہ کلمہ فارسی زبان کا ہے جس کے معنی ہیں: انہیں (یعنی بدعتیوں) میں سے ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 414
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْخُصُومَاتِ، فَإِنَّهُمْ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ".
ابوجعفر محمد بن علی سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اہل کلام (منطق و فلسفہ والے) کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو الله تعالیٰ کی آیات میں کلام کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الليث هو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 414] »
اس روایت میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [الإبانة 383، 405، 543، 808]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں