🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. باب مَنْ كَرِهَ الشُّهْرَةَ وَالْمَعْرِفَةَ:
جس نے شہرت اور خاص پہچان کو ناپسند کیا اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 555
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ الْعُرَنِيُّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا يَدَعُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى يَسْأَلَهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَمَّا أَفْنَوْا فِيهِ أَعْمَارَهُمْ، وَعَمَّا أَبْلَوْا فِيهِ أَجْسَادَهُمْ، وَعَمَّا كَسَبُوا وفِيمَا أَنْفَقُوا، وَعَمَّا عَمِلُوا فِيمَا عَلِمُوا".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: قیامت کے دن جب کہ لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ بندوں کو چار چیزیں پوچھنے سے پہلے نہیں چھوڑے گا۔ اپنی عمر کیسے گزاری؟ اپنے جسم کس کام میں استعال کئے؟ مال کیسے کمایا اور کس میں خرچ کیا؟ اور جو علم حاصل کیا اس پر عمل کتنا کیا؟ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 555] »
اس روایت کی سند میں فلاں العرنی مجہول ہیں، اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 556
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ، وَفِيمَا وَضَعَهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيهِ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قیامت کے دن کسی بھی بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے، اپنی عمر کس میں گنوائی؟ اپنے جسم کو کس میں لگایا؟ اپنا مال کیسے کمایا اور کہاں اس کو خرچ کیا؟ اور اپنے علم پر عمل کتنا کیا؟۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهوموقوف، [مكتبه الشامله نمبر: 556] »
اس قول کی سند ضعیف ہے اور موقوف بھی۔ یہ روایت [كشف الاستار 3438] ، [الاقتضاء 3] میں موجود ہے، لیکن سند ضعیف ہے، لیکن [ الاقتضاء 2] ، [تاريخ بغداد 441/11] ، [شعب الايمان 1785] میں صحیح سند سے مروی ہے۔ نیز سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی ہم معنی روایت صحیح سند سے گزر چکی ہے، اس لئے معنی کے اعتبار سے یہ روایت صحیح اور موصول ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 553 سے 556)
ان روایات سے قیامت کے دن حساب کتاب اور پوچھ گچھ ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ علم، عمر، جسم اور مال کے بارے میں حساب ہوگا، اس لئے ہر بندے کو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے، زندگی اچھے کاموں میں گزر رہی ہے یا نہیں؟ جسم و صحت کو اچھے کام میں لگایا یا نہیں؟ اور مال کہاں سے حاصل کیا، کہاں خرچ کیا؟ اچھے کاموں میں یا لہو و لعب اور منکرات و خواہش میں؟ الله تعالیٰ سب کو سمجھ اور عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، قَالَ: قَالَ لِي طَاوُسٌ: "مَا تَعَلَّمْتَ، فَتَعَلَّمْ لِنَفْسِكَ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ ذَهَبَتْ مِنْهُمْ الْأَمَانَةُ".
لیث بن ابی سلیم سے مروی ہے امام طاؤوس رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: تم نے جو علم سیکھا اسے اپنے لئے سیکھو کیونکہ لوگوں سے امانت اٹھ گئی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 557] »
لیث کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المصنف 17086] ، [المحدث الفاصل 704] ، [حلية الأولياء 11/4] ، [جامع بيان العلم وفضله 884-1155]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَالنَّاسِكُ إِذَا نَسَكَ لَمْ يُعْرَفْ مِنْ قِبَلِ مَنْطِقِهِ، وَلَكِنْ يُعْرَفُ مِنْ قِبَلِ عَمَلِهِ، فَذَلِكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ".
عمارة بن مہران سے مروی ہے امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے ایسی جماعت کو پایا کہ ان میں کوئی عبادت گزار جب عبادت کرتا تو اس کی گفتگو سے اس کا پتہ نہیں لگ پاتا تھا، لیکن اپنے عمل سے وہ پہچان لئے جاتے، نفع بخش علم یہی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 558] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور اسے صرف امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 556 سے 558)
یعنی جس علم کے ساتھ عمل ہو وہی فائدے مند ہے، نیز دکھاوا اور ریا و نمود عمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں