🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

109. باب مُجَامَعَةِ الْحَائِضِ إِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ:
حائضہ کے غسل کرنے سے پہلے جماع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي الْحَائِضِ "إِذَا طَهُرَتْ مِنْ الدَّمِ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ".
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے: حائضہ عورت جب پاک ہو جائے (یعنی حیض کا خون رک جائے) تو جب تک غسل نہ کرے، اس کا شوہر اس کے قریب نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1117] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَن مُجَاهِدٍ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
دوسری سند سے بھی مجاہد رحمہ اللہ سے ایسے ہی مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1118] »
یہ سند صحیح ہے کما سبق۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (1118)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: سُئِلَ سُفْيَانُ: "أَيُجَامِعُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِذَا انْقَطَعَ عَنْهَا الدَّمُ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟، فَقَالَ: لَا، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكَتْ الْغُسْلَ يَوْمَيْنِ أَوْ أَيَّامًا؟، قَالَ: تُسْتَتَابُ".
سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ حائضہ عورت کا خون رک جائے تو غسل سے پہلے شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں، دریافت کیا گیا: اگر ایک یا دو دن تک وہ غسل نہ کرے تو؟ فرمایا: توبہ کرائی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1119] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔ توبہ شاید اس لئے کرائی جائے گی کہ اس نے بلا جواز دو دن تک غسل کر کے نماز نہیں پڑھی۔ واللہ اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ "وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: حَتَّى يَنْقَطِعَ الدَّمُ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: إِذَا اغْتَسَلْنَ".
مجاہد رحمہ اللہ نے آیت « ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾ » [بقرة: 222/2] کے بارے میں کہا: «يَطْهُرْنَ» یعنی جب خون رک جائے اور «فَإِذَا تَطَهَّرْنَ» سے مراد ہے جب وہ غسل کر لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1120] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تفصیل آگے آرہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ "حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: إِذَا انْقَطَعَ الدَّمُ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: اغْتَسَلْنَ".
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے «‏‏‏‏ ﴿حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ » ‏‏‏‏ سے مراد ہے جب خون کا آنا منقطع ہو جائے، اور « ﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾ » فرمایا: یعنی جب غسل کر لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1117]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1121] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 385/2] ، [مصنف عبدالرزاق 1272] و [الدر المنثور 260/2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1118
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا، عَنْ امْرَأَةٍ رَأَتْ الطُّهْرَ: أَيَحِلُّ لِزَوْجِهَا أَنْ يَأْتِيَهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟، قَالَ: "لَا حَتَّى تَحِلَّ لَهَا الصَّلَاةُ".
عثمان بن الاسود نے کہا: میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جس کو حیض آیا: کیا غسل کرنے سے پہلے اس کے شوہر کے لئے جائز ہے کہ اس سے جماع کرے؟ فرمایا: نہیں، جب تک کہ نماز جائز نہیں (جماع بھی جائز نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1122] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1119
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً، وَمَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ، وَحَدَّثَنِي حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: "لَا يَغْشَاهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ".
حماد سے مروی ہے امام ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے جماع نہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1123] »
یہ اثر صحیح ہے، اور (1113) میں گذر چکا ہے، اور آگے (1123) میں اس کا ذکر آ رہا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ امْرَأَتَهُ وَقَدْ رَأَتْ الطُّهْرَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ، قَالَ: "هِيَ حَائِضٌ مَا لَمْ تَغْتَسِلْ، وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، وَلَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ".
امام حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو اپنی بیوی سے پاکی کے بعد غسل کرنے سے پہلے وطی کرے، فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے وہ حائضہ کے حکم میں ہے، اور اس کے اوپر کفارہ ہے، اس کو چاہیے کہ غسل کے بارے میں پوچھ لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1124] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور (1118) میں گذر چکی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا".
امام حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایسی عورت سے اس کا مرد جماع نہیں کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1125] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 386/2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْخَيْرِ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "وَاللَّهِ إِنِّي لَا أُجَامِعُ امْرَأَتِي فِي الْيَوْمِ الَّذِي تَطْهُرُ فِيهِ حَتَّى يَمُرَّ يَوْمٌ".
ابوالخیر مرثد الیزنی نے کہا: میں نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: قسم الله کی میں اپنی بیوی سے جس دن وہ پاک ہوتی ہے جماع نہیں کرتا حتی کہ ایک اور دن گزر جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1126] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کا فعل ہے حدیث نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں