سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ:
نماز میں بھول چوک ہونے پر مردوں کے تسبیح کہنے اور عورتوں کی تصفیق کا بیان
حدیث نمبر: 1401
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کے لئے تسبیح اور عورتوں کے لئے تصفيق ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1401]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1403] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1203] ، [مسلم 422] ، [أبوداؤد 939] ، [نسائي 1206] ، [ابن ماجه 1034] ، [أبويعلی 5955] ، [ابن حبان 2262] ، [الحميدي 978]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1203] ، [مسلم 422] ، [أبوداؤد 939] ، [نسائي 1206] ، [ابن ماجه 1034] ، [أبويعلی 5955] ، [ابن حبان 2262] ، [الحميدي 978]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1402
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ، فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّحْ النِّسَاءُ".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز میں تم کو کوئی واقعہ پیش آ جائے (بھول چوک ہو جائے) تو مرد «سبحان الله» کہیں اور عورتیں ہاتھ پر ہاتھ ماریں (تالی کی طرح ہاتھ پر ہاتھ مار کر آ گاہ کریں)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1404] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 684] ، [مسلم 421] ، [أبوداؤد 940] ، [نسائي 783] ، [ابن ماجه 1035] ، [أبويعلی 7512] ، [ابن حبان 2660] ، [الحميدي 596]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 684] ، [مسلم 421] ، [أبوداؤد 940] ، [نسائي 783] ، [ابن ماجه 1035] ، [أبويعلی 7512] ، [ابن حبان 2660] ، [الحميدي 596]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1403
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مثل حدیث روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1405] »
اوپر اس کے حوالے گذر چکے ہیں، اور یہ سند بھی صحیح ہے۔
اوپر اس کے حوالے گذر چکے ہیں، اور یہ سند بھی صحیح ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1400 سے 1403)
نماز میں امام سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتیں ہاتھ کی پشت پر ہاتھ ماریں تاکہ امام متنبہ ہو جائے، بعض نسخ میں «التصفيح للنساء» بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں ہاتھ پر ہاتھ مارنا، یا ہتھیلی کو ہتھیلی پر مارنا۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کھیل کے طور پر تالی بجانے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
نماز میں امام سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتیں ہاتھ کی پشت پر ہاتھ ماریں تاکہ امام متنبہ ہو جائے، بعض نسخ میں «التصفيح للنساء» بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں ہاتھ پر ہاتھ مارنا، یا ہتھیلی کو ہتھیلی پر مارنا۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کھیل کے طور پر تالی بجانے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح