🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. باب مَنْ دُعِيَ إِلَى الطَّعَامِ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ:
کسی روزے دار کو اگر کھانے کے لئے مدعو کیا جائے تو وہ کہہ دے میں روزے سے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1775
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کھانے کے واسطے بلایا جائے اور وہ روزے دار ہو تو اس کو کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے دار ہوں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1778] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1150] ، [أبوداؤد 2461] ، [ترمذي 781] ، [ابن ماجه 1750] ، [أبويعلی 6280] ، [الحميدي 1042]
وضاحت: (تشریح حدیث 1774)
نفلی عبادت کا چھپانا بہتر ہے، مگر کسی کو کھانے کے لئے مدعو کیا جائے اور وہ روزے سے ہو تو بتا دینا چاہیے کہ میرا روزہ ہے تاکہ بلانے والے کو رنج نہ ہو، کیونکہ مسلمان کو رنج دینا بڑا گناہ ہے، بلکہ اگر یہ بتا دینے کے بعد بھی کہ وہ روزے سے ہے اور وہ نہ کھانے سے رنجیدہ ہوتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اگر نفلی روزہ ہو تو توڑ دے اور کھانا کھا لے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں