🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب طَوَافِ الْقَارِنِ:
حج قران کرنے والے کا طواف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1882
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، كَفَاهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج و عمرے کا احرام باندھے (یعنی حج قران کی نیت کی ہو) اس کے لئے ایک طواف (ترمذی میں ہے اور ایک سعی کافی ہے پھر طواف و سعی کے بعد) وہ جب تک حج و عمرے سے فارغ نہ ہو جائے احرام باندھے رہے گا۔ (یعنی حلال نہ ہو گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1882]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط مسلم، [مكتبه الشامله نمبر: 1886] »
اس روایت کی سند صحیح علی شرط مسلم ہے۔ دیکھئے: [المنتقى لابن الجارود 460] ، [شرح معاني الآثار 197/2] ، [أحمد 67/2] ، [ترمذي 948] ، [دارقطني 257/2] ، [ابن حبان 3915] ، [موارد الظمآن 993]
وضاحت: (تشریح حدیث 1881)
حجِ قران کرنے والے پر ایک طواف اور ایک سعی ہے جو چاہے تو پہلے کر لے اور چاہے تو قربانی کے بعد کرے، اور یہ بھی جائز ہے کہ صرف طواف پہلے کر لے اور سعی کو قربانی کے بعد کے لئے مؤخر کر دے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں