🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. باب في الْغَالِّ إِذَا جَاءَ بِمَا غَلَّ بِهِ:
چوری کرنے والا چوری کا مال لے کر آئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا نَهْبَ، وَلا إِغْلالَ، وَلا إِسْلَالَ، وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: الْإِسْلالُ: السَّرِقَةُ.
کثیر بن عبداللہ بن عمر بن عوف مزنی نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ لوٹ مار جائز ہے نہ خیانت اور نہ چوری جائز ہے، اور جو چوری کرے گا وہ قیامت کے دن جو چرایا ہے اس کو اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔
امام ابومحمد دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اسلال کے معنی چوری کے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل كثير، [مكتبه الشامله نمبر: 2533] »
اس روایت کی سند کثیر بن عبداللہ کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن حدیث کا معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبراني 17/17-18، 16] و [الكامل لابن عدي 2080/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں