🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. باب في النَّهْيِ عَنِ الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ:
دو یا تین سال کے لئے زمین بیچنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2653
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوُ ثَلَاثًا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین دو یا تین سال کے لئے بیچنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2659] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1536] ، [أحمد 338/3-395] ، [أبويعلی 1806] ، [ابن حبان 4992] ، [الحميدي 1292]
وضاحت: (تشریح حدیث 2652)
اس کا مطلب یہ ہے: کوئی شخص خالی زمین یا درختوں کے پھل دو یا تین برس کے لئے بیچے، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کی وضاحت موجود ہے، نیز اس کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں جو بالاجماع باطل ہے، اس لئے کہ اس میں دھوکہ ہے، شاید وہ درخت پھل نہ دے، یا کھیتی کی پیداوار نہ ہو، یا ہو سکتا ہے اور کوئی آفت آجائے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں