🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. باب في خَتْمِ الْقُرْآنِ:
ختم قرآن کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3503
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: "مَنْ شَهِدَ الْقُرْآنَ حِينَ يُفْتَحُ، فَكَأَنَّمَا شَهِدَ فَتْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ شَهِدَ خَتْمَهُ حِينَ يُخْتَمُ، فَكَأَنَّمَا شَهِدَ الْغَنَائِمَ حِينَ تُقْسَمُ".
ابوقلابہ نے مرفوعاً روایت کیا کہ جو شخص قرآن پاک کے شروع (افتتاح) میں حاضر ہوا گویا کہ وہ اللہ کے راستے کی فتح میں حاضر ہوا، اور جو ختم قرآن کے وقت حاضر ہوا تو گویا کہ وہ تقسیم غنائم کے وقت حاضر ہوا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3503]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: الإرسال وضعف صالح بن بشير المري، [مكتبه الشامله نمبر: 3514] »
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: مرسل ہے، اور صالح بن بشیر المری ضعیف ہیں۔ حوالہ کیلئے دیکھئے: [فضائل القرآن لابي عبيد، ص: 107] و [فضائل ابن الضريس 77] و [جمال القراء للسخاوي 112/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3504
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ وَضَعَ عَلَيْهِ الرَّصَدَ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ خَتْمِهِ، قَامَ فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ".
قتاده رحمہ اللہ نے کہا: مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک شخص قراءت کر رہا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے انتظار میں آدمی بٹھا دیا، جب اس نے ختم قرآن کی اطلاع دی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اٹھ کر اسی کے پاس منتقل ہو گئے۔ (یعنی ختم قرآن میں شامل ہونے کے لئے اس قاری سے آ ملے، اس سے ختم قرآن میں حاضری کی فضیلت معلوم ہوئی۔) [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3504]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إسناد سابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 3515] »
اس روایت کی سند پچھلی حدیث کی طرح معلل ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 108] ، و [ابن الضريس 79]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3505
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا أَشْفَى عَلَى خَتْمِ الْقُرْآنِ، بِاللَّيْلِ بَقَّى مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى يُصْبِحَ فَيَجْمَعَ أَهْلَهُ، فَيَخْتِمَهُ مَعَهُمْ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب ختم قرآن کے قریب پہنچتے تو صبح صادق تک کے لئے تھوڑا سا قرآن باقی رہنے دیتے، پھر اپنے اہل و عیال کو جمع کرتے اور ان کے ساتھ قرآن ختم کرتے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3505]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهو الإسناد الأسبق، [مكتبه الشامله نمبر: 3516] »
اس روایت کی سند بھی اس باب کی پہلی روایت کی طرح ہے۔ تخریج بھی وہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ: "كَانَ أَنَسٌ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ، جَمَعَ وَلَدَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهِ، فَدَعَا لَهُمْ".
ثابت البنانی نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب قرآن پاک ختم کرتے تو اپنے بچوں اور گھر والوں کو جمع کر لیتے اور سب کے لئے دعا کرتے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3506]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف على أنس، [مكتبه الشامله نمبر: 3517] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 109] و [الطبراني فى الكبير 242/1، 674] ، [شعب الإيمان للبيهقي 2070، 2071]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3507
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، قَالَ: "إِذَا خَتَمَ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ بِنَهَارٍ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ فَرَغَ مِنْهُ لَيْلًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ".
عبدہ نے کہا: جب کوئی آدمی دن میں قرآن پاک ختم کرتا ہے تو شام تک فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں، اور رات میں اس کی قراءت سے فارغ ہوا تو صبح تک فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3507]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عبدة بن أبي لبابة، [مكتبه الشامله نمبر: 3518] »
عبدہ بن ابی لبابہ تک اس روایت کی سند صحیح اور انہیں پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 113/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3508
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ"، قِيلَ: وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟ قَالَ: صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ، وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ، كُلَّمَا حَلَّ، ارْتَحَلَ".
زرارہ بن ابی اوفی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: پڑاو ڈالنا اور کوچ کرنا، پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ فرمایا: قرآن پڑھنے والا شروع سے آخر تک پڑھتا ہے (یہ شروع کرنا حال ہے)، پھر ختم کر کے دوبارہ شروع کرنا (ارتحال) ہے، جب بھی ختم کرے پھر شروع کر دے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3508]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: الإرسال وضعف صالح المري، [مكتبه الشامله نمبر: 3519] »
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: ارسال اور صالح المری کا ضعیف ہونا، لیکن بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2949] ، [عبدالرحمٰن الرازي فى فضائل القرآن 79] ، [طبراني فى الكبير 168/12، 12783] ، [حلية الأولياء لأبي نعيم 260/2] ، [حاكم فى المستدرك 2088] ، [بيهقي فى شعب الإيمان 2069] و [ابن كثير فى فضائل القرآن، ص: 287]
وضاحت: (تشریح احادیث 3502 سے 3508)
گرچہ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن علمائے کرام نے اس عمل کو مستحب گردانا ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے التبیان میں ذکر کیا ہے، سماحۃ الشیخ علامہ مفتی عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی، ایک بار تراویح میں ختمِ قرآن کے بعد ناچیز سے کہا تھا: پھر سورۂ بقرہ شروع کر دیتے تو اچھا تھا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا قَرَأَ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ نَهَارًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَرَأَهُ لَيْلًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ". قَالَ سُلَيْمَانُ: فَرَأَيْتُ أَصْحَابَنَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يَخْتِمُوهُ أَوَّلَ النَّهَارِ، وَأَوَّلَ اللَّيْلِ.
ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے کہا: جب کوئی آدمی دن کے شروع میں قرآن پڑھ لے تو شام تک اس کے لئے فرشتے دعا کرتے ہیں اور اگر رات میں پڑھا (یعنی ختم کیا) تو صبح تک فرشتے دعا کرتے ہیں۔ (اعمش) سلیمان نے کہا: اسی لئے ہم نے اپنے ہم عصر ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ دن کے شروع اور رات کے شروع میں قرآن ختم کرنے کو پسند کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3509]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم النخعي وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3520] »
اس اثر کی سند ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک صحیح ہے اور انہیں پر موقوف ہے۔ جریر کا پورا نام ابن عبدالحمید ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 109] و [ابن الضريس 50، 51، 52، 80]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ قَوْلُ سُلَيْمَانَ.
اس سند سے بھی ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مثل سابق مروی ہے لیکن اس میں سلیمان الاعمش کا قول نہیں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3510]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 3521] »
حوالہ وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ، كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا، أَوْ فِي الْآخِرَةِ".
محارب بن دثار رحمہ اللہ نے کہا: جس نے منہ زبانی قرآن پڑھا اس کے لئے دنیا و آخرت میں دعوة ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3511]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق الحارثي وهو موقوف على محارب بن دثار، [مكتبه الشامله نمبر: 3522] »
عبدالرحمٰن بن اسحاق الحارثی کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے اور محارب رحمہ اللہ پر موقوف ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3508 سے 3511)
دعوت کے معنی پکار اور دعا اور ضیافت و مہمانی کے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّيْلِ"، وَقَالَ الْآخَرُ:"غُفِرَ لَهُ".
طلحہ اور عبدالرحمٰن بن الاسود دونوں نے کہا: جس شخص نے رات یا دن میں قرآن پاک کی قراءت کی تو فرشتے رات تک اس کے لئے دعا کرتے ہیں، دوسرے نے کہا: اس کی مغفرت ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3512]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «هما أثران بإسناد واحد وهو إسناد حسن إلى طلحة بن نافع ومنقطع إلى عبد الرحمن لأن أبا خالد الدالاني ليس له رواية عن عبد الرحمن بن الأسود، [مكتبه الشامله نمبر: 3523] »
یہ دو اثر ایک ہی سند سے مروی ہیں اور سند حسن ہے طلحہ بن نافع تک، اور عبدالرحمٰن کی سند میں انقطاع ہے۔ طلحہ بن نافع کے اثر کے لئے دیکھئے: [فضائل القرآن لابن الضريس 54] ، امام نووی نے [حلية الأبرار، ص: 183] میں طلحہ بن مصرف سے ایسے ہی روایت کیا ہے جس کی سند صحیح ہے، اسی طرح ابونعیم نے حلیة الاولیاء میں اس کو روایت کیا ہے [حلية الأولياء 26/5] ، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
اور دوسری سند عبدالرحمٰن بن الاسود کو [ابن أبى شيبه 490/10، 10088] نے اور بیہقی نے [شعب الإيمان 2075] میں ذکر کیا ہے، لیکن دونوں کی سند ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں