صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ الصَّلاَةِ فِي الْقَمِيصِ وَالسَّرَاوِيلِ وَالتُّبَّانِ وَالْقَبَاءِ:
باب: قمیص اور پاجامہ اور جانگیا اور قباء (چغہ) پہن کر نماز پڑھنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 365
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَقَالَ:" أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ"، ثُمَّ سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ، فَقَالَ: إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب کے واسطہ سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے صرف ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم سب ہی لوگوں کے پاس دو کپڑے ہو سکتے ہیں؟ پھر (یہی مسئلہ) عمر رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا تو انہوں نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں فراغت دی ہے تو تم بھی فراغت کے ساتھ رہو۔ آدمی کو چاہیے کہ نماز میں اپنے کپڑے اکٹھا کر لے، کوئی آدمی تہبند اور چادر میں نماز پڑھے، کوئی تہبند اور قمیص، کوئی تہبند اور قباء میں، کوئی پاجامہ اور چادر میں، کوئی پاجامہ اور قمیص میں، کوئی پاجامہ اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قمیص میں نماز پڑھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ کوئی جانگیا اور چادر میں نماز پڑھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 365]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا ایک کپڑے میں نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے سب کے پاس دو، دو کپڑے ہیں؟“ پھر کسی شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: جب اللہ تعالیٰ وسعت فرمائے تو اس وسعت کا اظہار کرو، چاہیے کہ لوگ اپنے جسم پر اللہ کے دیے ہوئے کپڑے استعمال کریں، یعنی ازار اور چادر میں، ازار اور قمیص میں، ازار اور قبا میں، پاجامہ اور چادر میں، پاجامہ اور قمیص میں، پاجامہ اور قبا میں، جانگھیے اور قبا میں، جانگھیے اور قمیص میں نماز پڑھیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گمان کرتا ہوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جانگھیے اور چادر میں ادائیگی نماز کے متعلق بھی فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 365]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 366
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟ فَقَالَ:" لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا وَرْسٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ پاجامہ، نہ باران کوٹ اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران لگا ہوا ہو اور نہ ورس لگا ہوا کپڑا، پھر اگر کسی شخص کو جوتیاں نہ ملیں (جن میں پاؤں کھلا رہتا ہو) وہ موزے کاٹ کر پہن لے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں اور ابن ابی ذئب نے اس حدیث کو نافع سے بھی روایت کیا، انہوں نے ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 366]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ محرم کیا پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم قمیص، پاجامہ اور بارانی کا استعمال نہ کرے اور نہ وہ کپڑے پہنے جو زعفران یا «وَرْس» سے رنگے گئے ہوں، اور جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے اور انہیں اوپر سے کاٹ دے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔“ امام نافع رحمہ اللہ نے بواسطہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مثل روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة