🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4.02. (السُّؤَالُ وَالْجَوَابُ فِي الْقَبْرِ)
قبر میں سوال جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
126 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا. وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ (اسی اثنا میں) دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں تو وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تم اس شخص محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟ جو مومن ہے، تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے: جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو، اللہ نے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے۔ وہ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہے، رہا منافق و کافر شخص، تو اسے بھی کہا جاتا ہے: تم اس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کچھ کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے، اسے کہا جائے گا: تم نے (حق بات) سمجھنے کی کوشش کی نہ پڑھنے کی، اسے لوہے کے ہتھوڑوں کے ساتھ ایک ساتھ مارا جائے گا تو وہ چیختا چلاتا ہے جسے جن و انس کے سوا اس کے قریب ہر چیز سنتی ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1374) و مسلم (2870/ 70)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
127 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو صبح و شام اس کا ٹھکانہ اسے دکھایا جاتا ہے۔ اگر تو وہ جنتی ہے تو وہ اہل جنت سے ہے، اور اگر وہ جہنمی ہے تو پھر وہ اہل جہنم میں سے ہے، پس اسے کہا جائے گا: یہ تمہارا ٹھکانہ ہے، حتیٰ کہ اللہ قیامت کے دن تمہیں اس کے لیے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1379) و مسلم (65/ 2866)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں