مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4.03. (إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ)
عذاب قبر کا اثبات
حدیث نمبر: 128
128 - وَعَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَقَالَ: (نَعَمْ، عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ) . قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی تو اس نے عذابِ قبر کا ذکر کیا اور ان سے کہا: اللہ آپ کو عذابِ قبر سے بچائے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے عذابِ قبر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، عذابِ قبر ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد جب بھی نماز پڑھتے تو عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1372) و مسلم (125/ 586)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 129
129 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ، إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ. وَإِذَا أَقْبُرُ سِتَّةٍ أَوْ خَمْسَةٍ، فَقَالَ: (مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟) قَالَ رَجُلٌ: أَنَا. قَالَ: (فَمَتَى مَاتُوا؟) قَالَ: فِي الشِّرْكِ. فَقَالَ: (إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ) ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ) . قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ. قَالَ: (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَقَالَ: (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ) . قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ: (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ) . قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اس اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار بنو نجار کے باغ میں تھے جبکہ ہم بھی آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک خچر بدکا، قریب تھا کہ وہ آپ کو گرا دیتا، وہاں پانچ، چھ قبریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کب فوت ہوئے تھے؟“ اس نے کہا: حالتِ شرک میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اس امت کے لوگوں کا ان کی قبروں میں امتحان لیا جائے گا، اگر ایسے نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ عذابِ قبر تمہیں سنا دے جو میں سن رہا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخِ انور ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا: ”جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم عذابِ جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“ انہوں نے کہا: ہم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“ انہوں نے کہا: ہم ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“ انہوں نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (67/ 2867)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح