صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ مَنْ قَالَ لاَ رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ:
باب: اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ دو سال کے بعد پھر رضاعت سے حرمت نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: Q5102
لِقَوْلِهِ تَعَالَى: حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ سورة البقرة آية 233، وَمَا يُحَرِّمُ مِنْ قَلِيلِ الرَّضَاعِ وَكَثِيرِه.
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة» ”پورے دو سال اس شخص کے لیے جو چاہتا ہو کہ رضاعت پوری کرے اور رضاعت کم ہو جب بھی حرمت ثابت ہوتی ہے اور زیادہ ہو جب بھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: Q5102]
حدیث نمبر: 5102
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ أَخِي، فَقَالَ:" انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے ان کے دادا نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہاں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا گویا کہ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو، سوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5102]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس ایک آدمی تھا، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر سا ہو گیا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موجودگی کو برا محسوس کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوب غور کیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں؟ رضاعت تو بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5102]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة