صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ:
باب: جس مرد کا دودھ ہو وہ بھی دودھ پینے والے پر حرام ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5103
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، جَاءَيَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح نے ان کے یہاں اندر آنے کی اجازت چاہی۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے (یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ اپنے معاملے کو بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دے دوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5103]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کا بھائی افلح آیا اور اس نے گھر آنے کی اجازت طلب کی جبکہ وہ آپ کا رضاعی چچا تھا۔ یہ پردے کی آیات اترنے کے بعد کا واقعہ ہے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں: ”میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اسے اجازت دے دیا کروں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5103]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة