صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ الْبِنَاءِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں نئی دلہن کے ساتھ خلوت کرنا۔
حدیث نمبر: 5159
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (راستہ میں) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں (کہا کہ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے (کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5159]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی۔ میں نے مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے میں بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، گھی اور پنیر رکھ دیا گیا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کہا: ”یہ امہات المومنین میں سے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے؟“ چنانچہ انہوں نے (فیصلہ کرتے ہوئے) کہا: ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پردے میں رکھا تو امہات المومنین میں سے ہیں اور اگر پردے میں نہ رکھا تو وہ آپ کی باندی ہیں۔“ جب سفر کا آغاز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری کے پیچھے جگہ بنائی اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ ڈال دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5159]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة