صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ الْبِنَاءِ بِالنَّهَارِ بِغَيْرِ مَرْكَبٍ وَلاَ نِيرَانٍ:
باب: دولہا کا دلہن کے پاس یا دلہن کا دولہا کے پاس دن کو آنا سواری یا روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5160
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْنِي أُمِّي، فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى".
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انس سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5160]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میری والدہ میرے پاس آئیں اور (تنہا) مجھے ایک گھر میں پہنچا دیا۔ وہاں مجھے کسی بات سے گھبراہٹ نہ ہوئی، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک میرے پاس چاشت کے وقت آئے (اور مجھ سے خلوت فرمائی)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5160]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة