صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. بَابُ إِذَا اسْتَأْذَنَ الرَّجُلُ نِسَاءَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِ بَعْضِهِنَّ، فَأَذِنَّ لَهُ:
باب: اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لیے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے۔
حدیث نمبر: 5217
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس مرض میں وفات ہوئی، اس میں آپ پوچھا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ آپ کو عائشہ کی باری کا انتظار تھا۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وفات ہوئی جو میری باری کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو اس نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے پر تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے ملا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5217]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس بیماری میں وفات ہوئی اس میں پوچھا کرتے تھے: ”کل میری باری کس کے پاس ہے؟ میں کل کہاں ہوں گا؟“ آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار تھا، چنانچہ آپ کو تمام ازواج نے اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں آرام فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا انتخاب کیا حتیٰ کہ ان کے ہاں آپ کی وفات ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن وفات پائی جس دن میرے گھر میں آپ کے آنے کی باری تھی۔ یہ (حسن اتفاق تھا کہ) اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو وفات دی تو آپ کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا اور آپ کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے مل گیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5217]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة