صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. بَابُ حُبِّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ:
باب: اگر مرد کو اپنی بیوی سے زیادہ محبت ہو تو کچھ گناہ نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 5218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،" دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّةِ، لَا يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا، يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہ آپ حفصہ کے یہاں گئے اور ان سے کہا کہ بیٹی اپنی اس سوکن کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے۔ آپ کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا (عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) کہ پھر میں نے یہی بات آپ کے سامنے دہرائی آپ مسکرا دیئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5218]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے کہا: ”اے میری پیاری بیٹی! یہ خاتون تجھے مغرور نہ کر دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے ساتھ محبت پر بہت ناز ہے۔“ آپ کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) ”میں نے یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی تو آپ مسکرا دیے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5218]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة