صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ:
باب: اگر کسی نے تین طلاق دے دی تو جس نے کہا کہ تینوں طلاق پڑ جائیں گی اس کی دلیل۔
حدیث نمبر: Q5259
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229.
اور اللہ پاک نے سورۃ البقرہ میں فرمایا طلاق دو بار ہے۔ اس کے بعد یا دستور کے موافق عورت کو رکھ لینا چاہیئے یا اچھی طرح رخصت کر دینا۔ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر کسی بیمار شخص نے اپنی عورت کو طلاق بائن دے دی تو وہ اپنے خاوند کی وارث نہ ہو گی اور عامر شعبی نے کہا وارث ہو گی۔ (اس کو سعید بن منصور نے وصل کیا) اور ابن شبرمہ (کوفہ کے قاضی) نے شعبی سے کہا، کیا وہ عورت عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ ابن شبرمہ نے کہا، پھر اگر اس کا دوسرا خاوند بھی مر جائے (تو وہ کیا دونوں کی وارث ہو گی؟) اس پر شعبی نے اپنے فتوے سے رجوع کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: Q5259]
حدیث نمبر: 5259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عویمر العجانی رضی اللہ عنہ عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے، اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو دیکھے تو کیا اسے وہ قتل کر سکتا ہے؟ لیکن پھر تم قصاص میں اسے (شوہر کو) بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے گا؟ عاصم میرے لیے یہ مسئلہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ دیجئیے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات عاصم رضی اللہ عنہ پر گراں گزرے اور جب وہ واپس اپنے گھر آ گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے پوچھا کہ بتائیے آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ عاصم نے اس پر کہا تم نے مجھ کو آفت میں ڈالا۔ جو سوال تم نے پوچھا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا۔ عویمر نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر میں باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو پا لیتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن اس صورت میں آپ اسے قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر دونوں (میاں بیوی) نے لعان کیا۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھا۔ لعان سے جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاق دی۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والے کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5259]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر سکتا ہے، اس صورت میں تم اس (شوہر) کو بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ (شوہر) کیا کرے؟ اے عاصم! میرے لیے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر بتاؤ۔“ چنانچہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جب یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا جو کہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے سنے تھے۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے پوچھا: ”اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا ہے؟“ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم نے تو مجھے آفت میں ڈال دیا ہے کیونکہ جو سوال تم نے پوچھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ناگوار گزرا۔“ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھے بغیر نہیں رہوں گا“، چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے۔ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو پائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسے قتل کر دے؟ اس صورت میں لوگ اسے بھی قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں وحی نازل فرمائی ہے۔ اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔“ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا، میں اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! اگر (اب بھی) میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب یہ ہے کہ) میں نے اس پر جھوٹ بولا تھا“، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قبل ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں۔ ابن شہاب نے کہا: ”پھر لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5259]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5260
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي نَكَحْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيَّ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! رفاعہ نے مجھے طلاق دے دی تھی اور طلاق بھی بائن، پھر میں نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا لیکن ان کے پاس تو کپڑے کے پلو جیسا ہے (یعنی وہ نامرد ہیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اپنے موجودہ شوہر کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5260]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! رفاعہ رضی اللہ عنہ نے مجھے طلاق دی ہے وہ بھی ایسی جس سے ہمارے تعلقات ختم ہو گئے ہیں، میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا ہے۔ اس کے پاس کپڑے کے پھندے کی طرح ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو؟ لیکن اب تو اس کے پاس نہیں جا سکتی تا آنکہ وہ تیرا مزا نہ چکھ لے اور تو اس سے لطف اندوز نہ ہو جائے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5260]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5261
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ، فَطَلَّقَ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر عمری نے، کہا کہ مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی۔ ان کی بیوی نے دوسری شادی کر لی، پھر دوسرے شوہر نے بھی (ہمبستری سے پہلے) انہیں طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا پہلا شوہر اب ان کے لیے حلال ہے (کہ ان سے دوبارہ شادی کر لیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، یہاں تک کہ وہ یعنی شوہر ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5261]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اس کی بیوی نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا، دوسرے خاوند نے بھی اسے طلاق دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا پہلے شوہر کے لیے اب یہ عورت حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر اس سے لطف اندوز ہو جیسا کہ پہلا شوہر ہوا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5261]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة