مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَسْبِيحُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
تسبیح فاطمہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 2387
[ ص: 1657 ] 2387 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، وَبَلَغَهَا أَنَّهُ جَاءَهُ رَقِيقٌ، فَلَمْ تُصَادِفْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ:"عَلَى مَكَانِكُمَا"، فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى بَطْنِي، فَقَالَ:"أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا ؛ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس تکلیف کی شکایت لے کر گئیں جو انہیں چکی پیسنے سے ہوئی تھی، اور انہیں پتا چلا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ہیں، لیکن ان کی آپ سے ملاقات نہ ہو سکی تو انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا، جب آپ تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا، علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آپ ایسے وقت میں ہمارے پاس تشریف لائے کہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔“ پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے حتی کہ میں نے آپ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس چیز سے، جس کا تم نے سوال کیا ہے، بہتر چیز بتاؤں؟ جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ لیا کرو، وہ تمہارے لیے، خادم کے مل جانے سے بہتر ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5361) و مسلم (2727/80)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه