🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ التَّصَيُّدِ عَلَى الْجِبَالِ:
باب: اس بیان میں کہ پہاڑوں پر شکار کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5492
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ والْمَدِينَةِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَنَا رَجُلٌ حِلٌّ عَلَى فَرَسٍ وَكُنْتُ رَقَّاءً عَلَى الْجِبَالِ، فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَيْتُ النَّاسَ مُتَشَوِّفِينَ لِشَيْءٍ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ، فَإِذَا هُوَ حِمَارُ وَحْشٍ، فَقُلْتُ لَهُمْ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: لَا نَدْرِي، قُلْتُ: هُوَ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ، فَقَالُوا: هُوَ مَا رَأَيْتَ، وَكُنْتُ نَسِيتُ سَوْطِي، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي سَوْطِي، فَقَالُوا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُ ثُمَّ ضَرَبْتُ فِي أَثَرِهِ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا ذَاكَ حَتَّى عَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ إِلَيْهِمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: قُومُوا فَاحْتَمِلُوا، قَالُوا: لَا نَمَسُّهُ، فَحَمَلْتُهُ حَتَّى جِئْتُهُمْ بِهِ، فَأَبَى بَعْضُهُمْ وَأَكَلَ بَعْضُهُمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ أَنَا أَسْتَوْقِفُ لَكُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْتُهُ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِي:" أَبَقِيَ مَعَكُمْ شَيْءٌ مِنْهُ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" كُلُوا فَهُوَ طُعْمٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے ابوقتادہ کے غلام نافع اور توامہ کے غلام ابوصالح نے کہ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ دوسرے لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا اور ایک گھوڑے پر سوار تھا۔ میں پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا عادی تھا پھر اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ للچائی ہوئی نظروں سے کوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ میں نے جو دیکھا تو ایک گورخر تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں! میں نے کہا کہ یہ تو گورخر ہے۔ لوگوں نے کہا کہ جو تم نے دیکھا ہے وہی ہے۔ میں اپنا کوڑا بھول گیا تھا اس لیے ان سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا دے دو لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے (کیونکہ ہم محرم ہیں) میں نے اتر کر خود کوڑا اٹھایا اور اس کے پیچھے سے اسے مارا، وہ وہیں گر گیا پھر میں نے اسے ذبح کیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس اسے لے کر آیا۔ میں نے کہا کہ اب اٹھو اور اسے اٹھاؤ، انہوں نے کہا کہ ہم اسے نہیں چھوئیں گے۔ چنانچہ میں ہی اسے اٹھا کر ان کے پاس لایا۔ بعض نے تو اس کا گوشت کھایا لیکن بعض نے انکار کر دیا پھر میں نے ان سے کہا کہ اچھا میں اب تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکنے کی درخواست کروں گا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی بچا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا کھاؤ کیونکہ یہ ایک کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو کھلایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5492]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو احرام باندھے ہوئے تھے جبکہ میں احرام کے بغیر تھا، میں ایک گھوڑے پر سوار تھا اور پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا ماہر تھا۔ میں نے اسی دوران لوگوں کو دیکھا کہ وہ للچائی ہوئی نگاہوں سے کوئی چیز دیکھ رہے ہیں، میں نے دیکھنا شروع کیا تو اچانک میری نظر ایک گاؤخر پر پڑی، میں نے ساتھیوں سے پوچھا: یہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں۔ میں نے کہا: یہ تو گاؤخر ہے، انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جو تو نے دیکھا ہے۔ میں اپنا کوڑا بھول گیا تھا، میں نے ان سے کہا: مجھے میرا کوڑا دے دو، انہوں نے کہا: ہم اس سلسلے میں تمہارا کوئی تعاون نہیں کر سکتے۔ میں نے اتر کر اپنا کوڑا خود اٹھایا اور اس گاؤخر کے پیچھے دوڑ پڑا، واقعی وہ گاؤخر تھا، میں نے پیچھے سے اس کی ٹانگ کو زخمی کر دیا، میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ اب تم اٹھو اور اسے اٹھا لاؤ، انہوں نے کہا: ہم تو اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ بہرحال میں نے خود اسے اٹھایا اور ان کے پاس لے کر آیا، کچھ حضرات نے اس کا گوشت کھایا جبکہ بعض نے انکار کر دیا، میں نے کہا: اچھا میں تمہارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتا ہوں، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی بھی بچا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھاؤ۔ یہ وہ کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5492]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں