صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْتَحِلُّ الْخَمْرَ وَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ:
باب: اس شخص کی برائی کے بیان میں جو شراب کا نام بدل کر اسے حلال کرے۔
حدیث نمبر: 5590
وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَاللَّهِ مَا كَذَبَنِي سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ، وَالْحَرِيرَ، وَالْخَمْرَ، وَالْمَعَازِفَ وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ يَعْنِي الْفَقِيرَ لِحَاجَةٍ، فَيَقُولُونَ ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا، فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً، وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو (ان کی سرکشی کی وجہ سے) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو (ان پر) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5590]
حضرت عبدالرحمن بن غنم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابو عامر یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اللہ کی قسم! انہوں نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو زنا کاری، ریشم کا پہننا، شراب نوشی اور گانے بجانے کو حلال سمجھیں گے۔ یہ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہائش رکھیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی چرانے کے لیے صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے، اس دوران میں ان کے پاس کوئی حاجت مند اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ کہیں گے: تم اب واپس چلے جاؤ، ہمارے پاس کل آؤ، لیکن اللہ تعالیٰ رات ہی کو انہیں ہلاک کر دے گا اور پہاڑ ان پر گرا دے گا، ان میں سے دوسروں کو بندر اور خنزیر کی صورت میں مسخ کر دے گا، وہ قیامت تک اسی حالت میں رہیں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5590]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة