🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ الدَّوَاءِ بِالْعَسَلِ:
باب: شہد کے ذریعہ علاج کرنا اور فضائل شہد میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5682
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «فيه شفاء للناس» کہ اس میں (ہر مرض سے) لوگوں کے لیے شفاء ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: Q5682]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5682
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْحَلْوَاءُ وَالْعَسَلُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شیرینی اور شہد پسند تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5682]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد پسند تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5682]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5683
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ أَوْ يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ: فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ، تُوَافِقُ الدَّاءَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمیر بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری (ان) دواؤں میں بھلائی ہے۔ تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5683]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی چیز میں شفا ہے تو پچھنے لگوانے، شہد اور داغ دینے میں ہے جبکہ بیماری کے موافق ہو، لیکن میں آگ سے داغ دینے کو پسند نہیں کرتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5683]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5684
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخِي يَشْتَكِي بَطْنَهُ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَى الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ،: فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ فَبَرَأَ".
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے، کہا ہم سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں شہد پلا پھر دوسری مرتبہ وہی صحابی حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لیے کہا وہ پھر تیسری مرتبہ آیا اور عرض کیا کہ (حکم کے مطابق) میں نے عمل کیا (لیکن شفاء نہیں ہوئی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، انہیں پھر شہد پلا۔ چنانچہ انہوں نے شہد پھر پلایا اور اسی سے وہ تندرست ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5684]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے بھائی کا پیٹ خراب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ پھر وہ دوبارہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے شہد پلانے کا حکم دیا۔ وہ پھر آیا اور کہا کہ میں نے تو اسے شہد پلایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ» اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے، البتہ تیرے بھائی کا پیٹ خطا کار ہے۔ اسے شہد پلاؤ۔ چنانچہ اس نے شہد پلایا تو وہ تندرست ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5684]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں