🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیئے جانے سے متعلق بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5777
رَوَاهُ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس قصہ کو عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: Q5777]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ:" لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سَمٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَبُوكُمْ؟، قَالُوا: أَبُونَا فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبْتُمْ، بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ، فَقَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ، فَقَالَ: هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟، فَقَالُوا: نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اخْسَئُوا فِيهَا، وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سَمًّا؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَذَّابًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی (ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے پیش کی تھی) جس میں زہر بھرا ہوا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں پر جتنے یہودی ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو۔ چنانچہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا کیا تم مجھے صحیح صحیح بات بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا پردادا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تمہارا پردادا تو فلاں ہے۔ اس پر وہ بولے کہ آپ نے سچ فرمایا، درست فرمایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں گا تو تم مجھے سچ سچ بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بولیں بھی تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ ابھی ہمارے پردادا کے متعلق آپ نے ہمارا جھوٹ پکڑ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تو ہم اس میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے، واللہ! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے۔ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا کیا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو تم مجھے اس کے متعلق صحیح صحیح بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس کام پر کس جذبہ نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر سچے ہوں گے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5777]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی جس میں زہر بھرا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں جتنے یہودی ہیں سب کو ایک جگہ جمع کرو۔ چنانچہ انہیں آپ کے پاس جمع کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے چند باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا تم مجھے صحیح صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے ابو القاسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارا باپ فلاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو، بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے۔ انہوں نے جواب دیا: آپ نے سچ کہا اور درست فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو مجھے سچ سچ بتاؤ گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اے ابو القاسم! اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ آپ نے ہمارے باپ کے متعلق ہمارا جھوٹ پکڑ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: کچھ دنوں کے لیے ہم دوزخ میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے۔ اللہ کی قسم! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے۔ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا: اگر تم سے ایک بات پوچھوں تو کیا تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے بکری میں زہر ملایا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تم نے یہ حرکت کیوں کی؟ انہوں نے کہا: ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر نبی ہیں تو آپ کو یہ زہر نقصان نہیں دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں