صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ الأَكْسِيَةِ وَالْخَمَائِصِ:
باب: کملیوں اور اونی حاشیہ دار چادروں کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 5815
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ" لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا، قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا".
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، ان سے عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے ”یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہو گئے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے (مسلمانوں کو) ڈرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5815]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی چادر (کملی) کو چہرے پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا: ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عملِ بد سے مسلمانوں کو ڈرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5815]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5816
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ" لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا، قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا".
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، ان سے عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے ”یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہو گئے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے (مسلمانوں کو) ڈرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5816]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی چادر (کملی) کو چہرے پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا: ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عملِ بد سے مسلمانوں کو ڈرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5816]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5817
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهُ لَهَا أَعْلَامٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلَاتِي، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ غَانِمٍ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک نقشی چادر میں نماز پڑھی اور اس کے نقش و نگار پر نماز ہی میں ایک نظر ڈالی۔ پھر سلام پھیر کر فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم کو واپس دے دو۔ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا اور ابوجہم کی سادی چادر لیتے آؤ۔ یہ ابوجہم بن حذیفہ بن غانم بنی عدی بن کعب قبیلے میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5817]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک منقش چادر میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دورانِ نماز میں ہی) اس کے نقش و نگار پر ایک نظر ڈالی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میری اس منقش چادر کو ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور اسے واپس کر دو، کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا، اور وہاں سے ابوجہم کی سادہ چادر لے آؤ۔“ یہ ابوجہم بن حذیفہ بن غانم، عدی بن کعب کے قبیلے سے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5817]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5818
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ:" أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً، وَإِزَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ: قُبِضَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی ( «كساء») اور ایک موٹی ازار نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان ہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5818]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی اور ایک موٹی چادر دکھائی اور فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان دونوں کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة