🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقُعُودَ عَلَى الصُّورَةِ:
باب: اس شخص کی دلیل جس نے توشک اور تکیہ اور فرش پر جب اس پر تصویریں بنی ہوئی ہوں بیٹھنا مکروہ رکھا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5957
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْباب فَلَمْ يَدْخُلْ، فَقُلْتُ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِمَّا أَذْنَبْتُ؟ قَالَ:" مَا هَذِهِ النُّمْرُقَةُ؟" قُلْتُ: لِتَجْلِسَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورت کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں مورت ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5957]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) دروازے ہی پر کھڑے رہے، اندر داخل نہ ہوئے۔ میں نے کہا: (اللہ کے رسول!) میں اللہ کے حضور اس غلطی سے توبہ کرتی ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کی: یہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اس قسم کی تصاویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا تھا اسے زندہ کر کے دکھاؤ۔ اور جس میں تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5957]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5958
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ" قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بابهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ؟، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ بُكَيْرٌ، حَدَّثَهُ بُسْرٌ، حَدَّثَهُ زَيْدٌ، حَدَّثَهُ أَبُو طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔ بسر نے بیان کیا کہ (اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد) پھر زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو مورت کپڑے میں ہو وہ جائز ہے (بشرطیکہ غیر ذی روح کی ہو)۔ اور عبداللہ بن وہب نے کہا، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے بیان کیا، ان سے زید نے بیان کیا، ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5958]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔ (راوی حدیث) بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ہم ان کی تیمار داری کے لیے گئے، ہم نے وہاں دیکھا کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس میں تصویر تھی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ حضرت عبید اللہ سے کہا: کیا پہلے دن ہمیں زید رضی اللہ عنہ نے تصویروں کے متعلق حدیث نہیں سنائی تھی؟ عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے ان سے یہ نہیں سنا تھا کہ اگر تصویریں کپڑے پر نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں؟ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے، انہوں نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5958]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں