صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ تَعَاوُنِ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضِهِمْ بَعْضًا:
باب: ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی مدد کرنا۔
حدیث نمبر: 6026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا"، ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
ہم سے محمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ برید بن ابی بردہ نے کہا کہ مجھے میرے دادا ابوبردہ نے خبر دی، ان سے ان کے والد ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس طرح ہے جیسے عمارت کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رہتا ہے (گرنے نہیں دیتا) پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کی طرح کر لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6026]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں (ہاتھوں) کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6026]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6027
وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ".
اور ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب نے آ کر سوال کیا یا کوئی ضرورت پوری کرانی چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم خاموش کیوں بیٹھے رہتے ہو بلکہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی اجر ملے اور اللہ جو چاہے گا اپنے نبی کی زبان پر جاری کرے گا (تم اپنا ثواب کیوں کھوؤ)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6027]
پھر اچانک ایک آدمی آ گیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کوئی سوال کیا یا اپنی ضرورت کے لیے کچھ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”سفارش کرو، تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان کے ذریعے سے جو چاہے گا فیصلہ کر دے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6027]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة