صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابُ الاِنْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ:
باب: لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا۔
حدیث نمبر: Q6129
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ خَالِطِ النَّاسَ وَدِينَكَ لَا تَكْلِمَنَّهُ وَالدُّعَابَةِ مَعَ الْأَهْلِ
اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھو، لیکن اس کی وجہ سے اپنے دین کو زخمی نہ کرنا اور اس باب میں اہل و عیال کے ساتھ ہنسی مذاق، دل لگی کرنے کا بھی بیان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6129]
حدیث نمبر: 6129
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالتیاح نے، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر نامی سے (مزاحاً) فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير".» ”اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6129]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں گھل مل جاتے تھے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ”اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا نے کیا کیا؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6129]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری بہت سی سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے پاس بھیجتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6130]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی۔ میری بہت سی سہلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر داخل ہوتے تو وہ چھپ جاتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے پاس بھیجتے، پھر وہ میرے ساتھ کھیل میں مصروف ہو جاتیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6130]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة